Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Lahore Rang “

  چینل لاہورکے چیلنل رنگ کو لاہور کے رنگ دکھاتے ہوئے ایک برس ہو گیا،مجھے لاہور رنگ کے ساتھ چھ، سات ماہ ہوئے ہیں مگر’ نئی بات میڈیا گروپ‘ کے ساتھ تعلق بہرحا ل نیا نہیں، مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب ’نئی بات میڈیا گروپ‘ نے ’اے لائیٹ‘کا انتظام سنبھالا تھا اور پھر اسے پاکستانیوں کی آواز’ نیو‘ کے قالب میں ڈھالا گیاتھا۔ جوں جوں زندگی کے دن گزرتے جا رہے ہیں میں قائل ہوتا چلا جا رہا ہوں کہ میری کوششیں اپنی جگہ پر کہ سورة النجم میں میرے رب نے ارشاد فرمایا کہ انسان کو اس کے سوا کچھ نہیں ملتا جس کے لئے وہ سعی کرتا ہے مگر دوسری طرف ہوتا وہی ہے جو میرے رب کی چاہت ہوتی ہے، بے شک وہ ہر شے پر قادر ہے، وہ مالک الملک ہے، جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کر دیتا ہے ، جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے ذلت۔خبر پڑھیں:آصف زرداری قوم کو بتائیں مہرین شاہ کون ہیں میں ایک قومی چینل سے وابستہ تھا اور’ ہنڈرڈ ڈیز‘ کے نام سے ایک پروگرام کیا کرتا تھا، جواد بٹ المعروف جے بی اس پروگرام کے پروڈیوسر تھے ۔ ہنڈرڈ ڈیز کا تھیم یہ تھا کہ ہم پاکستان کے کسی بھی ضلعے میں اس کی سب سے بڑے مستقل نوعیت کے ایشو پر شو ریکارڈ کرتے اور متعلقہ اتھارٹیز سے اس مخصوص مسئلے کے حل کے لئے وعدے لیتے،آج سے دس، بارہ برس پہلے ضلعی ناظمین کا دور تھا،سو روز کے بعد دوبارہ اسی جگہ جاتے اور دیکھتے کہ اس وعدے پر کتنا عمل ہوا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ سارے مسائل حل ہوجاتے مگر ایسا بھی ہوتا کہ بہت سارے آنسو پونچھ لئے جاتے۔ اس کے بعد میں نے سٹی چینل جوائن کیا اور کچھ ہی عرصے بعد اس کے پرائم ٹائم شو نیوز نائیٹ کی میزبانی سنبھال لی۔اس شو کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ معمول کی سیاسی مار دھاڑ کی بجائے مقامی مسائل کے گرد گھومتا۔ مجھے یہ چیلنج دینے میں کوئی عار نہیں کہ کسی بھی پولیٹیکل شو کی نسبت پبلک کے حقیقی ایشوز پر پروگرام کہیں زیادہ مشکل اور ٹیکنیکل ہوتے ہیں ۔ ہم اپنے پروگراموں کے ذریعے سیاسی صورتحال پر بہت زیادہ اثر انداز ہونے کے قابل نہیں ہوتے مگر ایشو بیسڈ شوز واقعی تبدیلی لاتے ہیں جیسے لاہورشہر کے ہر علاقے میں ’نیوز نائیٹ‘ کے اثرات کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے سٹی چینل جوائن کیا تو پاکستان کے سب سے بڑے چینل کے بیوروچیف نے بلایا اور کہا کہ تم سیاسی جماعتوں کی بہترین رپورٹنگ کرتے ہو، دنیا اس وقت گلوبل ویلج بنتی چلی جا رہی ہے اور تم نیشنل سے لوکل چینل میں شفٹ ہو گئے ہو، ہمارے پاس آجاو۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ میں نے ابھی حال ہی میں اس چینل کو جوائن کیا ہے اور میرے لئے ممکن نہیں ہو گا کہ میں فوری طور پر اسے چھوڑ دوں، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میں کیا کر سکتا ہوں اور پھر یہی ہوا کہ شہر کی بنیاد پر چینل نے لاہوریوں کو ایسا ایکسپوژر دیا جوکسی نیشنل چینل پر ممکن ہی نہیں تھا۔ نیشنل چینل کے وہ بیورو چیف جو مجھے مشورہ دے رہے تھے، میری ایک فون کال پر میرے پروگرام میں تشریف لاتے جو اس کی کامیابی کا ثبوت تھانئی بات میڈیا گروپ بھی شروع میں سٹی چینل ہی پلان کر رہا تھا مگر’ نئی بات‘ اخبار کے ملک گیر نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ ہوا اور یوں’ اے لائیٹ‘،’ نیو‘ میں بدل گیا۔ آج زندگی کے بہت سارے برس شہر کی صحافت کی نذر کرنے کے بعد مجھے جناب پرویز رشید کی ایک بات یاد آ رہی ہے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تم اس فیلڈ میں کامیاب نہیں ہو سکتے کہ تم ’سافٹ سپوکن‘ ہو، انہوں نے دو سے تین اینکرز کے نام لئے جو اپنی جارحانہ گفتگوسے مقبولیت حاصل کر چکے تھے مگر خدا کا شکر ہے کہ میرا جواب درست ثابت ہوا، میں نے انہیں کہا تھا کہ’ ہارڈ ٹاک‘ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے منہ سے شعلے نکل رہے ہوں اور ماتھے پر تیوریاں ہوں، مہذب اور پروفیشنل صحافیوں کی ’ہارڈ ٹاک ‘میں لہجہ نرم اور سوال سخت ہوتا ہے۔ جب’ لاہور رنگ ‘نے اپنی نشریات شروع کیں تو اس فیلڈ میں بھی کمپی ٹیشن سخت ہوچکا تھا ۔ مجھ سے ایک بڑی شخصیت نے پوچھا کہ میری نظر میں لاہور کے موجود چینلوں میں کیا فرق ہے۔ میرا جواب تھا کہ ایک چینل پبلک ریلیشننگ میں بہترین ہے اور اس نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے وسائل میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی جڑیں گہری کر لی ہیں جبکہ دوسرا چینل یہ سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں پر تھانے دار بن کے اور ان پر سختی کر کے انہیں نیچے لگا سکتا ہے۔ یہ دونوں اپنی اپنی پالیسی میں انتہا پر ہیں۔ہمایوں سلیم نے’ لاہور رنگ‘ کی پالیسی واقعی مختلف رکھی ہے کہ اس کا ٹارگٹ محض پبلک ریلیشننگ بھی نہیں اور اس کا مقصد تھانے دار بننا اور لوگوں کو ذلیل کرنا بھی نہیں۔ یہ لاہور کا ایک سافٹ سا چینل ہے جو لاہور کے سبھی رنگوں کو دکھاتا ہے، سب سے اہم یہ ہے کہ اس چینل میں آپ درست بات پر ڈٹ سمجھتے ہیںاور غلط بات کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ لاہور میں الیکٹرانک میڈیا کی جرنلزم براہ راست لاہوریوں سے جڑی ہوئی ہے اورلاہوریوں کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اگر آپ ان کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تو وہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مجھے ’ لاہور رنگ‘ پر نیوز نائیٹ شروع کرتے ہوئے اس قدر والہانہ ردعمل کا اندازہ ہی نہیں تھا اور اسی طرح ’ لاہور رنگ‘ کی پہلی سالگرہ پر شہریوں کا محبت بھرا رسپانس حیران کر دینے والا تھا جو سو، سو پاونڈ کے کیک تک خود سے بنوا کے لائے۔ میں روٹین کی ریٹنگ پر بہت زیادہ یقین نہیں رکھتااور نہ ہی اپنے شوز کو سوشل میڈیا کی نظر سے دیکھتے ہوئے پلان کرتا ہوں مگر اس کے باوجود سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارموں پر ’نیوز نائیٹ ‘کو حیرت انگیز رسپانس ملا۔مجھے میرے ہی ادارے نے فروری کے جو اعداد وشمار بتائے وہ شکرانے کے خصوصی نوافل کی ادائیگی کا تقاضا کرتے تھے۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سوا کروڑ آبادی کا شہر لاہور اپنے اندر بہت سارے رنگ لئے ہوئے ہے۔ بہت سارے لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پنجاب کے وسائل لاہور پر خرچ کئے جا تے رہے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ابھی اس لاہور کا حق ادا نہیں ہوا جو ایک میٹروپولیٹن سٹی ہے اور یہاں بہت کچھ بہتر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ مجھے ان سے مکالمہ اور مقابلہ کرنے میں کوئی عا ر نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ میٹرو بس اور اورنج لائن لاہور کی ضرورت نہیں، میں پبلک ٹرانسپورٹ کو اسی طرح بنیادی ضرورت سمجھتا ہوں جس طرح صحت ، تعلیم اور صاف پانی ہو سکتا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ میں اس شہر میں رہتا ہوں جس میں دل کے امراض اور بچوں کے خصوصی ہسپتال موجود ہیں ، جگر اور گردوں کی بیماری کا سٹیٹ آف آرٹ ہسپتال بن رہا ہے اگر حکمرانوں نے سیاسی انتقام اورتعصب میں اسے تباہ نہ کر دیا۔ لاہور کی یونین کونسل نمبر ایک نین سُکھ سے رائے ونڈ تک بہت کچھ ہونا ابھی باقی ہے اور مجھے یقین ہے کہ لاہوررنگ لاہور کے اصل رنگوں کو اجاگر کرنے او ران پر جمی ہوئی دھول کو صاف کرنے میںا پنا کردارادا کرے گا۔ ہم جسے متوازن صحافت کہتے ہیں کہ جس کی جو بھی بات اچھی ہوگی، اس کی حمایت کریں گے مگرلاہور رنگ کی پہلی سالگرہ کی تقریب میں چیئرمین نئی بات میڈیا گروپ جناب چوہدری عبدالرحمان کی یہ بات بھی ساتھ رہے گی کہ صحافت میں ’ بیلنس‘ ہونا کچھ نہیں ہوتا، ہم بیلنس نہیں رہیں گے بلکہ جس بات کو درست سمجھیں گے اسے سراہنے میں ہرگز شرم محسوس نہیں کریں گے اور جسے غلط سمجھیں گے اسے ہرگز قبول نہیں کریںگے۔ میںا پنی حد تک یقین دلا سکتا ہوں کہ میںسکرین پر اختلاف کرتے ہوئے ماتھے پر تیوریاں نہیں چڑھاوں گا، میرے منہ سے غصے میں تھوک اور گالی نہیں نکلے گی مگر لاہوریوں کے مسائل کے حل اور فلاح و بہبود پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں ہوگا۔ میری نظر میں صحافت یہی ہے کہ ہم آنسووں کو پونچھتے رہیں، زخموں پر مرہم رکھتے رہیں اور راستوں سے کانٹوں کو چنتے رہیں۔ میں تھانے دار نہیں ہوں مگر اپنے شہر کا دوست اور ساتھی ہوں لہٰذا جب میں یہ بار بار پوچھوں کہ سانحہ ماڈل ٹاون ہو یا ساہیوال میں شہید ہونے والوں کو انصاف کیوں نہیں مل رہا تو برا مت منائیے گا ۔۔۔ ویسے اگر آپ برا بھی منائیں گے تو اس سے آپ کی نااہلی بارے میرے سوال اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے لئے میرے اصرار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!