Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Kushion Ki Mitas Banta Shakhs

بیئر گرلز جسے دنیا ڈسکوری چینل کے پروگرام © (مین ورسزوائلڈ)کے میزبان کے طور پہ جانتی ہے مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اس جگہ تک کیسے پہنچا۔ بیئر کو بچپن سے ہی پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنا، آسمانوں کی بلندیوں کو چھونا اور ایک ایڈوینچر سے بھرپور زندگی کا شوق تھا ۔شروع سے ہی وہ جنگلی حیات اور مہم جوئی کے حوالے سے متجسس رہتا تھا۔ وہ ایم آئی فائیو میں جانا چاہتا تھا مگر دورانِ پڑھائی اُس نے ٹیریٹوریل آرمی (ہنگامی حالات میں کام کرنے والی فوج) میں ایک ریزروسٹ کی حیثیت سے شمولیت کر لی۔1996 میں وہ زمیبیا (افریقہ) میں فری فال پیرا شوٹنگ کر رہا تھا کہ ایک بڑے حادثے کا شکار ہو گیا ۔ وہ سطح سمندر سے 17000 فٹ کی بلندی پر تھا جب اُس کا پیرا شوٹ کُھلنے کے بعد پھٹ گیا ۔ بلندی سے گرتے ہوئے اُس کا پیرا شوٹ اس کے جسم کے گرد لپٹ گیا تھا اور جب وہ زمین پر گرا تو اُس کی ریڑھ کی ہڈی تین جگہ سے ٹوٹ چُ کی تھی۔ جب وہ گر رہا تھا تو اُس نے سوچا کہ مجھے پیرا شوٹ کاٹ دینا چاہیے تھا مگر وہ ایسا نہ کرسکا اور اُس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا ٓ گیا اور پھر جب اُسے ہوش آیا تو آرمی ہسپتال کے سٹریچر پر تھا۔جو ڈاکٹر اُس کا علاج کر رہا تھا اُس کو لگتا تھا کہ بیئر ساری عمر کے لئے اپاہج ہو گیا ہے۔ وہ ایک سال فوجی ہسپتال کے بیڈ پر پڑا رہا مگر اُس کے دل اور دماغ میں تب بھی کوئی ایڈونچر کرنے کی تراکیب چل رہی ہوتی تھیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک مہم جو سمجھتا تھا ۔ ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنا اُس کا خواب تھا۔ بیئر نے اپنے دوست مِک سے جب یہ بات کی کہ وہ اب بھی ماو¿نٹ ایورسٹ سر کرنا چاہتا ہے تو وہ ایک دفعہ چکرا گیا کہ ایک انسان کیریڑھ کی ہڈی تین جگہ سے ٹوٹی ہے اور وہ ماو¿نٹ ایورسٹ سر کرنا چاہتا ہے۔ مگر بیئر گرلز اپنی دُھن کا پکا تھا وہ جیسے ہی ہسپتال سے فارغ ہوا اور اپنے مشن پر لگ گیا ۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے ٹھیک اٹھارہ ماہ بعد 16 مئی 1996 کو اُس نے ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کر لیا اور اُس قت بیئر گرلز کی عمر صرف 23 سال تھی۔ زندگی میں ناکامی انھی لوگوں کے سامنے آتی ہے جو ہمت ہار جاتے ہیں اور جو لوگ جوانمردی اور لگن کے ساتھ ڈٹ جاتے ہیں کامیابی ضرور اُن کے قدم چومتی ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سینٹورس مال کی تعمیر شروع ہوئے ابھی تین ہی سال ہوئے تھے جس میں سعودی عرب ،خلیجی ممالک کے لوگوں کے علاوہ اورسیز پاکستانیوں نے سرمایہ کاری کی تھی کیونکہ یہ پراجیکٹ پاکستانکی تاریخ کا ایک منفرد اور دلکش پراجیکٹ تھا کہ سردار تنویر الیاس خان صاحب کے گھر ڈکیتی کی واردات ہوگئی۔ یہ وہ نازک لمحہ تھا جہاں کسی بھی انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنا مستقبل ایک ایسے ملک میں بنائے جہاں دن دہاڑے اور وہ بھی ملک کے دارالحکومت میں چند ڈاکو آئیں اور اسلحہ کے زور پر آپ کے گارڈز اور محافظوں کے سامنے سب کچھ لُوٹ کر چلتا بنیں۔ سب سے بڑی سُبکی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے تھی کہ ایک شخص اتنا بڑا پراجیکٹ اس ملک کو دے رہا ہے مگر وہ خود محفوظ نہیں۔مگر اس سب کے باوجود سردار تنویر الیاس نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی اور اپنی اُمیدیں اور خواب پاکستان کی خوشحالی کے لئے لگا لیں۔ جب پتا چلا کہ سردار تنویر کو بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کا چیئرمین لگا دیا گیا تو یوں لگا کہ جیسے گرم اور تپتے موسم میں تازہ ہوا کا جھونکا آیا ہو۔حکومت نے ایک ایسے انسان کو اس کام کے لئے چُنا جو واقعی ہی اس کام میں مہارت رکھتا ہے اور پاکستانی سرمایہ کاروں سے لیکر غیر ملکی سرمایہ کار اُن پہ مکمل یقین کرتے ہیں۔ سردار تنویر کا خاندان سعودی عرب اور دوسرے ممالک میں کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہے مگر اُن کی وطن سے محبت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے وہ ملک سے پیسہ باہر لے جانے کے بجائے باہر کے ملکوں سے پچھلے دس سالوں میں تقریباَ ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لانے کے لئے اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ سردار تنویر پاکستان میں کئی سماجی اور معاشی تنظیموں کے سربراہ ہیں اور ان کا سب سے بڑاخاصہ یہ ہے کہ وہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مو¿جد ہیں۔ اور نامساعد حالات میں جب کوئی پاکستانی اپنا پیسہ یہاں لگانے کو تیار نہیں تھا سردار صاحب غیر ملکی سرمائے کو پاکستان لیکر آئے۔ کچھ لوگ شہرت اور بناوٹ کی دنیا سے بہت آگے نکل چکے ہوتے ہیں میرا خیال ہے کہ سردار صاحب بھی اُن میں سے ایک ہیں جو تصنع اور بناوٹ سے ہٹ کر انسانیت کی فلاح اور خدمت پر یقین رکھتے ہیں وہ زرعی یونیورسٹی کی لائبریری اور تحقیق کے لئے دو کروڑ کی رقم ہو، پاکستان کو پانی کی قلت سے بچانے کے لئے سردار صاحب کی مالی کوشش وہ ہر اُس کام میں پیش پیش ہیں جس سے پاکستان اور پاکستان کی عوام کا فائدہ ہو۔ سرمایہ کاروں کے لئے سردار تنویر صاحب کی تقرری خوش آئند سمجھی جا رہی ہے کیوں کہ وہ خود سرمایہ کار ہیںاور معیشت کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے مسائل کو بخوبی سمجھتے بھی ہیں اور وہ پُر عزم ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر ٹریڈ کی بہتری کے لئے کام کریں گے۔ سردار تنویر نگران سیٹ اپ میں زراعت اور خوراک کے وزیر بھی رہ چکے ہیں اوروہ کسان سے لیکر منڈیوں کے حالات سے بھی بخوبی واقف ہیں اگر آپ اُن سے ملیں تو آپ کو اندازہ ہو کہ کسانوں کو اپ لفٹ کرنے کے حوالے سے اُن کے پاس جامع منصوبہ بندی ہے ۔ جدیدمشینری اور کم لاگت کے ساتھ بہتر پیداوار اور ، کس طرح خام مال کو معیاری شکل دیکر پھر اُس کی غیر ملکی منڈیوں تک ترسیل اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اس سب پر وہ گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی جامہ پہنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔سردار صاحب جانتے ہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کیابتدا غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہوتی ہے۔ جس سے نہ صرف ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے بلکہ وہاں کے عوام کو روزگار بھی ملتا ہے ۔ سردارصاحب نے چیمبر آف کامرس کے لوگوں سے خطاب کے دوران ایک بات کہی کے بہت سے لوگ اپنا پیسہ لاکرز میں رکھ کے بیٹھے ہیں جس کا پاکستانی معیشت کو فائدہ نہیں اگر یہ لوگ اسی پیسے کو ایک فارمل اکانومی میں لائیں تو حالات بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔ پنجاب میں 68000 انڈسٹریل یونٹس ہیں اور گیارہ زونز اس قت کام کر رہے ہیں۔ سردار صاحب کیونکہ عوام اور اس مٹی سے جڑے ہیں اس لئے انھیں عوام اور سرمایہ کاروں کیمشکلات کا بھی اندازہ ہے اور اب وہ پسماندہ علاقوں میں انڈسٹری کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں تا کہ اُن علاقوں کو بھی پاکستان کے ڈویلپڈ شہروں کے برابر لایا جا سکے۔اس کے لئے سب سے زیادہ ضروری کام سرمایہ کار کو تحفظ فراہم کرنا ہے جس کی یقین دہانی سردار صاحب ہر جگہ پر کرواتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو لا کر پاکستان کو ایک مضبوط حقیقت میں تبدیل کریں گے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ سردار صاحب کو کھل کر کام کرنے کا موقع دیا جائے اور ان کے تجربے سے بھرپور استفادہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!