Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Kia Ye Wo Masiha Nahi Jina Ka Intezar Thaa

25جولائی2018ءکو ہونیوالے عام انتخابات میں پاکستانی عوام نے ”تبدیلی“ کی امید پر تحریک انصاف کو ووٹ دیے تھے ۔ عوام ایک ایسا” نیا پاکستان“ دیکھنا چاہتے تھے جہاں امیر اور غریب دونوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں ، جہاں انصاف سرعام بکتا نہ ہو، جہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ان کی پہنچ میں ہوں ، جہاں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات انہیں باآسانی ملتی ہوں، جہاںاحتساب کا ایسا نظام ہو کہ کوئی کرپشن کرنے کی جرا¿ ت نہ کر سکے، جہاں عام آدمی کے مسائل حل ہوں اور جہاں ملک ترقی کی منازل طے کرتا ہوا دکھائی دے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم نے انتخابی مہم کے دوران قوم کو ایسے سنہرے خواب دکھائے تھے کہ یہ قوم سمجھ بیٹھی کہ شاید وہ مسیحا آ گیا ہے جس کا انہیں انتظار تھا ۔ عمران خان نے نئے پاکستان کا نقشہ کچھ اس انداز میں کھینچا کہ عام آدمی دیوانہ وار ان کی طرف کھنچتا چلا گیا۔ تاہم اسے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ اس کے خواب اتنے جلد ٹوٹنا شروع ہو جائیں گے۔
پاکستان میںہر آنیوالی نئی حکومت کو خوش آمدید کہنا اور تھوڑے عرصہ بعد اس پر تنقید کے نشتر چلانا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ عوام ہمیشہ نئے چہروں سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں لیکن جب وہ چہرے ان امیدوں پر پورا نہیں اترتے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہی لوگ جنہیں وہ سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے‘ انہیں سر سے پٹخ بھی دیتے ہیں۔ پاکستان کی 71سالہ سیاسی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی بابائے قوم انتقال کر گئے۔ اس کے تین سال بعد لیاقت علی خان کو ایک جلسہ کے دوران قتل کر دیا گیا۔ ابتدائی دس برسوں میں ملک کے اندرجمہوری اقدار پروان نہ چڑھ سکیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1958ءمیں جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا۔ صدر ایوب خان کے دور کو اقتصادی لحاظ سے بہترین دور قرار دیا جاتا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ ان کے اقتدار کے آخری ایام میں مہنگائی کے ہاتھوں مجبور عوام سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دور میںذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت نے عوام کو اپنا دیوانہ بنا لیا تھا اور عوام جوق درجوق ان کے جلسوں میں آنے لگے۔ بھٹو صاحب نے ”روٹی ، کپڑا اور مکان“ کا خوش کن نعرہ لگایا اور ”سٹیٹس کو “ کو توڑنے کی باتیں کیں تو عوام ان کے پیچھے ہو لیے ۔ اُس وقت عام آدمی نے یہ تصور کر لیا کہ یہ شخص ان کے حالات ضروربدل دے گا۔ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعدجنرل ایوب خان کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا اور جنرل یحییٰ خان نے عنان اقتدار سنبھال لی۔ جنرل یحییٰ کے دور میں عام انتخابات منعقد ہوئے تو موصولہ نتائج کے مطابق مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی جبکہ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کر لی۔ اس کے بعداقتدار کی منتقلی کا مرحلہ درپیش تھا تاہم اس دوران ایسے واقعات رونما ہوئے جو سانحہ مشرقی پاکستان کا باعث بن گئے۔ اس سانحہ کے بعد موجودہ پاکستان کا اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں آ گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بڑے دعوے سن کر عوام یہ سمجھنے لگے کہ اب ان کے مسائل کا مداوا ہو گالیکن یہ بھی محض خیالِ خام ہی ثابت ہوا اور عوام کی امیدیں پوری نہ ہوئیں۔
1977ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کیخلاف ملک گیر مظاہروں کے بعد جنرل ضیاءالحق نے ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا ۔جنرل ضیاءالحق نے اپنی پہلی تقریر میں 90دن کے اندر انتخابات کروانے کا وعدہ کیا جو ایفا نہ ہو سکا۔ جنرل ضیاءالحق نے اسلامی نظام کے نفاذ اور دیگر خوشنما وعدوں سے عوام کو بہلانے کی کوشش کی جنہیں پہلے تو عوام نے خوب پذیرائی بخشی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب وعدے اور دعوے ہوا میں تحلیل ہونے لگ گئے۔ 1988ءمیں جنرل ضیاءالحق ایک فضائی حادثہ میں جاں بحق ہوئے۔ بعدازاں ملک میں عام انتخابات کروائے گئے۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد ہونیوالے یہ پہلے انتخابات تھے جس میں پی پی پی نے حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی ، محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم بن گئیں۔ ان نتائج پر عوام نے خوشیاں منائیں لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی اوران کے مسائل جوں کے توں ہی رہے۔ 1990ءکے عام انتخابات میں میاں نواز شریف کی شخصیت کا جادو چل گیا اور مسلم لیگ کی کامیابی کے بعد وہ پہلی بار ملک کے وزیراعظم بنے۔ ان کے وزیراعظم بننے سے دکھوں کی ماری عوام نے انہیں اپنی امیدوں کا مرکز ومحور بنا لیا لیکن عوام کے حالات بدلنے تھے اور نہ ہی بدلے۔ 1993ءمیں بے نظیر بھٹو اور1997ءمیں میاں نواز شریف دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچے لیکن عوام کو اپنے مسائل حل ہونے کی کوئی امید نظر نہ آئی۔ 1999ءمیں جب جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تو ملک میں مٹھائیاں بانٹی گئیں اور جنرل پرویز مشرف کو خوش آمدید کہا گیا۔ اس دور میں بھی عوام کی حالت جوں کی توں ہی رہی اور وہ مہنگائی کا رونا ہی روتے رہے۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور2013ءکے بعد مسلم لیگ ن اقتدار میں آئیں تاہم اس دور میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات اور توانائی بحران نے ملکی معیشت کو بے حد نقصان پہنچایا اور عوام کا برا حال رہا۔
30اکتوبر 2011ءکو تحریک انصاف کے مینار پاکستان پر ہونیوالے جلسہ نے ملکی سیاست کو بدل کر رکھ دیا اور ملکی سیاست دو کے بجائے تین جماعتی ہوتی نظر آنے لگی۔ عمران خان جنہوں نے 1996ءمیں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی لیکن انہیں ابھی تک کوئی پذیرائی نہیں ملی تھی‘اس جلسہ کے بعد یکایک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے ۔ اگرچہ اس جلسہ کی کامیابی کے پیچھے بعض نادیدہ قوتوں کا نام لیا جاتا ہے تاہم اس جلسہ نے تحریک انصاف میں نئی روح پھونک دی۔ عمران خان نے عوام کو سہانے خواب دکھانا شروع کر دیے کہ وہ اقتدار میں آ کر عام آدمی کے مسائل حل کر دیں گے۔ عوام رفتہ رفتہ ان کی طرف متوجہ ہونے لگی ۔2013ءکے انتخابات میں وہ بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکے تاہم ان انتخابات کے بعد قائم ہونیوالی ن لیگ کی حکومت کے دوران عمران خان نے ملک کے طول وعرض میں جلسے کیے اوراسلام آباد میں 126دن کا طویل دھرنا بھی دیا۔ پاناما کیس میں میاں نواز شریف کی فیملی کا نام بھی سامنے آیا تو ان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے لگا اور بالآخر انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔
2018ءکے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کر کے عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور پہلے 100دنوں میںملکی حالات بدلنے کا وعدہ بھی کیا ۔ اب حکومت کو قائم ہوئے آٹھ ماہ ہو چلے ہیں لیکن عام آدمی کو وہ تبدیلی ابھی تک نظر نہیں آئی جس کی اسے امید تھی۔ ملک میں مہنگائی زوروں پر ہے اور عام آدمی پریشانی کا شکار ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کسی بھی حکومت سے اتنی جلد تبدیلی کی امید رکھنا ٹھیک نہیں لیکن یہ دعوے اور وعدے بھی ان کے اپنے ہی تھے کہ وہ پہلے 100دنوں یا 6ماہ میں سب ٹھیک کر لیں گے ۔ اب اگر ایسا نہیں ہو رہا تو عوام سوال کرنے میں حق بجانب ہیں ۔ وہ اب سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ وہ مسیحا نہیں جس کا انہیں انتظار تھا؟۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!