Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Khush Qismat Aur Bad Naseeb

مچھیرا ٹھٹھک گیا۔وہ کافی دیر سے اگری کاپے (Egrikapi)، استنبول کے سنسان ساحل پر گھوم رہا تھا.یہ 1699سن عیسوی کی ایک دوپہر کا ذکر ہے۔ کسی چمک دار پتھر کی جھلک نے مچھیرے کے قدم روک دئیے تھے۔اس نے پتھروں اورکوڑے کے ڈھیر کو دوبارہ غور سے دیکھا اور اسے بھدے ،بے رنگ پتھروں کے درمیان وہ چمک دار پتھر پھر نظر آیا۔یہ بڑا سا پتھر تھا یا شاید شیشے کا بیضوی ٹکڑا۔اس نے جھک کر پتھر اٹھایا اور جیب میں ڈال لیا۔شاید اس غربت میں وہ اس کے کسی کام آسکے۔گھر واپسی پر وہ ایک جوہری کی دکان پر رکا۔’ ’ یہ مجھ سے خریدوگے؟ ‘ ‘۔اس نے دکان دار سے پوچھا ؟ دکان دار نے پتھر کو دیکھا ۔ پرکھا، اچھی طرح جائزہ لیا اور پھر بے نیازی سے بولا ۔ ’ ’ میں شیشے کے اس ٹکڑے کا کیا کروں گا ‘ ‘۔مچھیرے کی آنکھوں میں مایوسی دیکھ کر اس نے پھر کہا ۔’ ’ چلو اچھا تم اتنی دور سے آئے ہو تو رکھ لیتا ہوں۔اس کے بدلے میں تمہیں لکڑی کے تین چمچے دے سکتا ہوں ‘ ‘۔مچھیرے نے سودا قبول کیا۔لکڑی کے تین چمچ جیب میں ڈالے اور گھر روانہ ہوگیا۔اس طرح86 قیراط وزنی دنیا کا چوتھا بڑا اور خالص ترین ہیرا جوہری کی جیب میں منتقل ہوگیا۔ میں توپ کاپے سرائے محل اور عجائب گھر کے جوہرات کے اس مخصوص حصے، خزانے (Hazane) کے تیسرے کمرے میں کی سیک الماسیkisiki) (almasi کے سامنے کھڑا اس خوش قسمت مگر بد نصیب مچھیرے اور اس کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔یہ کہانی کتنی سچی ہے پتہ نہیں لیکن دربار عثمانی کے مؤرخ رشید نے اسے حقیقت کے طور پر درج کیا ہے۔اس ہیرے کی تاریخ گمنامی کے دبیز پردوں میں چھپی ہے۔کسی کو معلوم نہیں اس مچھیرے سے پہلے یہ ہیرا کہاں تھا اور کس کی ملکیت تھا۔اسی ہیرے کے متعلق ایک اور مشہور کہانی نپولین بونا پارٹ کی ماں سے متعلق ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ 12۔13اکتوبر 1798کو نکو پولیس کی جنگ کے بعد جس میں فرانس اور البانیہ نے ترکوں سے شکست کھائی تھی ،بہت سے جنگی قیدی ترکوں کے پاس تھے۔نپولین کی ماں لیٹیزیا رامولینو (Letizia Ramolino)نے اپنے کسی ایک یا چند چہیتوں کو قید سے چھڑانے کے لیے یہ ہیرا سلطان سلیم ثالث کی نذر کیا اور اس طرح یہ ہیرا استنبول پہنچا۔اس کہانی کی حقیقت بھی مشتبہ ہے اور اسی طرح چند اور روایات کی بھی۔کچھ مستند ہے تو یہ کہ اس ہیرے کا سلسلہ علی پاشا سے جڑتا ہے جو اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں البانیہ اور یونان کے علاقوں میں ترکی گورنر اور نیم خود مختار حکمران تھا۔ میں نے شیشے کے شوکیس میں لٹکے ہوئے اس بیش قیمت ہیرے کو غور سے دیکھا۔چاندی کے نازک اور نظر نہ آنے والے فریم میں 49 چھوٹے چھوٹے ہیروں کا ایک ہالہ ہے۔دہری قطار میں یہ چھوٹے ہیرے کسی خوب صورت گردن میں مالا کی طرح مخروطی شکل میں جڑے ہوئے ہیں۔اور ان کے عین درمیان انڈے کی شکل کا یہ خیرہ کن چمک والا ہیرا جگمگا رہا ہے۔ستاروں کے جھرمٹ میں پورے چاند کی طرح روشن اور برّاق۔فرق یہ ہے کہ اس چاند میں کوئی داغ نہیں۔اربوں روپے مالیت کا ہیرا جس نے معلوم نہیں کتنی جانیں لی ہوں گی۔اور معلوم نہیں کتنی سازشیں اس ہیر ے کے لیے کی گئی ہوںگی۔ قدرت کے اس نظام کی حکمتیں کون سمجھ سکتا ہے ۔ شایدیہ ہیرا مچھیرے کے پاس رہ جاتا تو وہ اور اس کا گھرانہ چند دن میں موت کے گھاٹ اتار دئیے جاتے۔ اربوں روپے مالیت کا یہ ہیرا جس کے ڈھونڈنے والے کو صرف لکڑی کے تین چمچ قیمت ملی تھی اب تک اپنے مالکوں کو روزانہ خطیر رقم سے نوازتا ہے ۔ ایک سو تہتر ایکڑ میں پھیلے توپ کاپے سرائے میں عجائبات اور نوادرات کی ایک دنیا ہے ۔ یہ بہت کمال کی سیر گاہ بھی ہے اور اعلٰی درجے کا عبرت کدہ بھی ۔یہ ہیرا اور زمردی خنجرمالی اعتبار سے قیمتی ترین اثاثے سمجھے جاتے ہیں اور انہیں دیکھنے والوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔غیر ملکی اور مقامی سیاح قطاروں میں لگ کر اور بھاری ٹکٹ خرید کر یہ محل دیکھنے آتے ہیں۔توپ کاپے میںاسلامی تبرکات بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں اور ہمارے اعتبار سے قیمتی ترین نوادرات ہیں ۔ کسی وقت ایک علیحدہ تحریر میں اس کی تفصیل بیان کرنے کا ارادہ ہے ۔لیکن دنیاوی قدر و قیمت کے حوالے سے غیر مسلم سیاحوںکی سب سے زیادہ دل چسپی اس خزانے میں ہوتی ہے جس میں تاج ، تخت، سونے کی صندوقچیاں اور انتہائی نازک کام کے زیورات موجود ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ خالص ترین چوتھا بڑا ہیرا اور یہ زمردی خنجراس ذخیرے میں خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ سونے اور جواہرات سے بھرے کمروں میں سانس گھٹنے لگا تو میں توپ کاپے کے ستونوں والے اس برآمدہ نما کھلے حصے میں نکل آیا جو باسفورس کے کھلے منظر پر کھلتا ہے۔میرا ذہن ہیرے کے شوکیس کے نیچے لکھی ہوئی اسی کہانی میں اٹکا ہوا تھا۔کیسی غربت اور جد وجہد بھری زندگی گزاری ہوگی اس مچھیرے نے ۔ جال پھینکتا ہوگا۔ کبھی جال خالی نکلتا ہوگا۔ دن بھر کی مشقت کے بعد مچھلی ہاتھ لگتی ہوگی تو چند سکوں کے عوض بازار میں بیچتا ہوگا۔ان سکوں سے اس کی کٹیا اور جھونپڑی میں آگ جلتی ہوگی اور پیٹ بھرتے ہوں گے۔اور پھر جب وہ لمحہ آیا جو کروڑوں انسانوں میں سے کسی ایک کی زندگی میں صرف ایک بار آتا ہے تو اس نے اس نادر ترین لمحے کا سودا تین لکڑی کے چمچوں کے عوض کرلیا یہ سوچے بغیر اور اس پر توجہ کیے بغیر کہ یہ لمحہ اس کی نسلوں کی قسمت بدل سکتا ہے ۔ظاہری آنکھ سے دیکھیں تو ایسی خوش قسمتی کے ساتھ ایسی بد نصیبی صدیوں میں کبھی یکجا ہوتی ہے ۔لیکن ٹھہریے ۔ ہم سب کا یہی حال ہے ۔ہم غریب لوگ اور غریب ملک ہیں لیکن ہمیں کیا نہیں ملا۔ زندگی ،کتاب ،پیغمبر، صحت، ہنر، آزادی ،ملک، قوم، سمندر ، دریا ،ساحل ، زرخیز زمین،پہاڑ،صحرا،معدنیات۔جگمگاتے ہوئے ہیروں سے بھری ایک صندوقچی ہمیں ملی اور ہم نے اس کا کیا کیا ۔چند کھلونے؟چند سکے؟ کیا ہم مچھیرے سے کم خوش نصیب تھے ؟۔ کیا ہم مچھیرے سے زیادہ بد قسمت نہیں ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!