Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Khuda Khaer Kary

تعلےم کا اےک نظرےہ غےر رسمی تصور تعلےم کا ہے۔ ےعنی وہ علم ےا سوجھ بوجھ جو انسان درس گاہوں کی نصابی تعلےم سے ہٹ کر گھر، معاشرے، سماجی ماحول اور اپنے تجربات و مشاہدات سے حاصل کرتا ہے۔ ماہرےن کا خےال ہے کہ ےہ غےر رسمی تعلےم، درس گاہوں کی نصابی تعلےم سے کہےں زےادہ گہرا نقش چھوڑتی اور بڑی دےر پا ہوتی ہے۔ آج کل مےڈےا (بشمول سوشل مےڈےا) اس غےر رسمی تعلےم کا نہاےت ہی مو¿ثر آلہ بن چکا ہے اور اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ غےر رسمی تعلےم مےں بھی کسی حد تک رسمی تعلےم کا عنصر شامل ہو گےا ہے۔مجھے تعلےم کے اس قدےم تصور کا خےال اس لئے آےا کہ آج کل غےر رسمی تعلےم نے پوری قوم کو معاشےات کا با قاعدہ طالب علم بنا دےا ہے۔ اےک عام شہری بھی سمجھنے لگا ہے کہ ملک کی اکانومی کس طرف جا رہی ہے۔ معاشےات سے دور کا تعلق نہ رکھنے والے، کسی حد تک خواندہ لوگ سمجھنے لگے ہےں کہ افراط زر، جی۔ڈی۔پی، اسٹاک اےکسچےنج، آئی۔اےم۔اےف وغےرہ کن بلاو¿ں کے نام ہےں۔ ہماری قومی سےاست پر معےشت پوری طرح غالب آچکی ہے اور تشوےشناک بات ےہ ہے کہ تمام تر ملکی اور غےر ملکی جائزوں کے مطابق ہم تےزی سے معاشی زوال کی جانب گامزن ہےں۔ تحرےک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے آٹھ ماہ ہونے کو ہےں۔ عمومی خےال ےہ تھا کہ اپوزےشن مےں ہوتے ہوئے پی ٹی آئی نے اچھا خاصا ہوم ورک کر لےا ہو گا۔ عمران خان نے قوم سے عظےم انقلاب اور تبدےلی کے وعدے بارہا کئے تھے۔ ےہ وعدے پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ تھے۔ 20 اگست 2018 کو اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی وعدوں، دعووں اور انقلابی تبدےلےوں کے خوبصورت اعلانات کا سلسلہ جاری رہا۔ عوام کی اےک بڑی تعداد نے ان وعدوں پر اعتماد کےا۔ ان کے خےال مےں عمران خان اےک کرشماتی شخصےت کے حامل تھے اور انکے لئے صورتحال کو سنبھال کر قوم کو ترقی و خوشحالی کی طرف لے جانا کچھ مشکل کام نہ تھا۔حکومت کی طرف سے، خود وزےر اعظم نے اپےل کی کہ ہمےں سو دن دے دو۔ اسکے بعد ہماری کارکردگی کو جانچو۔ ےہ سو دن بھی گزر گئے اور حالات بہتر ہونے کے بجائے بگڑتے چلے گئے۔ کسی نہ کسی طرح سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چےن جےسے دوست ممالک سے چھ ارب ڈالر کے قرےب رقوم ملےں جن سے زر مبادلہ کے ذخائر کی شکل بہتر دکھائی دےنے لگی۔ تب حکومت نے لوگوں سے کہا کہ ہمےں چھ ماہ دے دو۔ اسکے بعد بے شک ہماری کارکردگی کو جانچو۔چھ ماہ بھی گزر گئے اور اب 20 اپرےل کو نواں مہےنہ شروع ہو جائے گا۔ ان آٹھ ماہ مےں اقتصادی صورتحال مسلسل بگڑتی چلی گئی۔ حکومت نے دو بار منی بجٹ پےش کئے لےکن معےشت سنبھلنے نہ پائی۔ اکانومی کے تمام اشارےے صرف اےک ہی بات بتا رہے ہےں کہ پی ٹی آئی کی حکومت معےشت کے شعبے مےں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ مبصرےن بتا رہے ہےں کہ اس کی وجہ نا اہلی سے کہےں زےادہ کسی طرح کی تےاری ےا ہوم ورک کا فقدان ہے۔ 2013 کے اانتخابات کے بعد، اسحاق ڈار نے 7 جون کو وزےر خزانہ کے طور پر حلف اٹھاےا۔ وہ اےوان صدر سے سےدھے اپنی وزارت کے دفتر پہنچے۔ عملے کو بلاےا۔ برےفنگ لی۔ وہ دو دن اور دو راتےں مسلسل اپنے دفتر مےں رہے۔ 5 دن بعد،12 جون کو انہوں نے وفاقی بجٹ پےش کےا۔ انہوں نے کسی ابہام کے بغےر فےصلہ کےا کہ آئی۔ اےم۔اےف کے پاس جانا ہے۔ صرف 27 دن بعد، 4 جولائی کو آئی اےم اےف سے 6.4 بلےن ڈالر کا پےکج طے پا گےا۔ےہ ہماری تارےخ کا واحد پےکج ہے جو کامےابی کے ساتھ تکمےل کو پہنچا۔ ےاد رہے کہ اس وقت اکانومی ےا کسی بھی دوسرے کام کے لئے کوئی خصوصی ٹاسک فورس نہےں بنی تھی۔ سارا کام وزراءاور انکی وزارتوں کے متعلقہ حکام ہی کر رہے تھے۔ آج جبکہ آٹھ ماہ مکمل ہو رہے ہےں، معاشی زوال ہر شعبے سے عےاں ہے۔ وزےر اعظم اور وزراءاٹھتے بےٹھتے اےک ہی دلےل دےتے ہےں کہ انہےں تباہ حال معےشت ورثے مےں ملی ہے۔ اب جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ دراصل گزشتہ ےعنی مسلم لےگ (ن) کی حکومت کا کےا دھرا ہے۔ ےہ بات حکومتی اہلکاروں کی طرف سے ہر روز اتنی بار دہرائی جاتی ہے کہ بہت سے لوگوں کو سچ معلوم ہونے لگی ہے۔ ےہ ابلاغےات عامہ کا جانا پہچانا اصول ہے کہ بار بار کی تکرار کے با وجود نہ تو زمےنی حقائق تبدےل ہوتے ہےں نہ اعداد و شمار جھوٹ بولتے ہےں اور نہ ہی ساکھ رکھنے والے مبصرےن اور عالمی مانےٹرنگ ادارے کسی کی طرف داری کرتے ہےں۔ سب سے بڑھ کر ےہ کہ عام آدمی خود محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ وہ کل کس حال مےں تھا اور آج کس حال مےں ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر ےہ ساری خرابےاں جانے والی حکومت کے دور مےں بھی تھےں تو ڈالر کے مقابلے مےں روپے کی قدر کےوں مستحکم تھی؟ جی ڈی پی ےعنی معےشت کی شرح نمو 6 فی صد تک کےسے پہنچ گئی تھی؟ اسٹاک اےکس چےنج اپنی تارےخ کی بلند ترےن سطح کو کےوں چھو رہا تھا؟ہماری معےشت کو “اےمرجنگ اکانومی” ےعنی ابھرتی ہوئی معےشت کا درجہ کےوں مل گےا تھا؟ مہنگائی کی شرح تےن چار فےصد تک کےوں رکی رہی؟ زر مباد لہ کے ذخائر کےسے 20 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے؟ بڑے بڑے ترقےاتی منصوبے کےسے مکمل ہوئے؟ 11 ہزار مےگا واٹ بجلی کےسے پےدا کر لی گئی؟سی پےک کی شکل مےں 54 ارب ڈالر کی سرماےہ کاری کےسے آ گئی؟ اےف ۔اے۔ٹی۔اےف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ مےں کےوں ڈال دےا؟ موٹر وےز اور شاہراوں کا جال کےسے بچھا؟ موڈےز اور دےگر معتبر اےجنسیوں نے ہماری رےٹنگ کےوں بہتر کی؟ اےسے ہی سوالات ان لوگوں کے ذہنوں مےں بھی ابھر رہے ہےں جو معاشےات کی زےادہ سمجھ بوجھ نہےں رکھتے لےکن ذاتی تجربے کی بنےاد پر جانتے ہےں کہ گزشتہ حکومت کے مقابلے مےں آج زندگی کتنی مشکل ہو چکی ہے۔ انہےں شاےد اس بات سے غرض نہ ہو کہ جو اسٹاک اےکسچےنج2017 مےں 53 ہزار پوائنٹس سے بھی کہےں اوپر چلی گئی تھی آج 36 ہزار پوائنٹس تک کےوں گر گئی ہے، لےکن انہےں ےہ ضرور معلوم ہے کہ بجلی کے بلوں مےں کتنا اضافہ ہو گےا ہے اور گےس کے بل چار گنا بڑھ گئے ہےں۔ لوگوں کو شاےد ان اعداد و شمار سے آگاہی نہ ہو کہ افراط زر کی جو شرح مسلم لےگ(ن) کے دور مےں تےن فےصد کے لگ بھگ تھی آج وہ دس فےصد تک پہنچ چکی ہے لےکن آٹھ ماہ مےں شدےد مہنگائی نے انکا جےنا دوبھر کر دےا ہے۔ اےک عام پاکستانی کو شاےد ےہ معلوم نہ ہو کہ جی ڈی پی کی شرح 6 فےصد سے گر کر 3 فےصد تک آگئی ہے لےکن بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا اندازہ ہر گھرانے کو ہو رہا ہے۔ ہر شہری شاےد نہ جانتا ہو کہ سرماےہ کاروں، صنعت کاروں، تاجروں اور کاروباری لوگوں کا اعتماد کس بری طرح مجروح ہو چکا ہے لےکن وہ اپنے دائےں بائےں دےکھ رہے ہےں کہ ترقےاتی کام رکے پڑے ہےں۔ نہ سڑکےں، نہ موٹر وےز، نہ انفراسٹرکچر۔ ترقےاتی فنڈز کم کر کے صرف 40 فےصد رہ گئے ہےں۔ ہمےں بتاےا جا رہا تھا کہ پچھلی حکومت نے قرضوں کا انبار لگا دےا۔ شاےد اےسا ہی ہو لےکن چند روز حکومت کے معاشی ترجمان رہنے والے ڈاکٹر فرخ سلےم بتاتے ہےں کہ پےپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے دور مےں (2008 سے 2013 تک) روزانہ 5 ارب روپے کے حساب سے قرضے لئے۔ مسلم لےگ (ن) نے( 2013 سے 2018 تک) روزانہ ساڑھے سات ارب روپے کے حساب سے قرضہ لےا ۔ جبکہ پی۔ٹی۔آئی کی موجودہ حکومت روزانہ 15 ارب روپے کے حساب سے قرضے چڑھا رہی ہے۔ جو ڈالر مسلم لےگ (ن) کے دور مےں 105 روپے کا تھا، وہ نگران حکومت کے دور مےں 125 روپے اور آج 145 روپے کا ہو چکا ہے۔ تجارت اور ٹےکسٹائل کے مشےر عبد الرزاق داو¿د نے د و دن پہلے اعتراف کےا کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ ےہ بھی بتاےا کہ روپے کی قدر مےں 30 فےصد سے زائد کمی کے باوجود برآمدات مےں اضافہ نہےں ہو رہا۔ ادھر آئی اےم اےف اور اےف اے ٹی اےف کی تلوارےں سر پر لٹک رہی ہےں۔ بے ےقےنی کی فضا نے سب کچھ اپنی لپےٹ مےں لے رکھا ہے۔ “نےب” دندنا رہا ہے اور خوف کے اس ماحول مےں روشنی کی اےک بھی اےسی کرن دکھائی نہےں دے رہی جو پاکستانےوں کو تسلی دے کہ اچھے دن جلد آنے والے ہےں۔ تاہم اسکے با وجود وفاقی وزےر فےصل ووڈا قوم کو بتا رہے ہےں کہ دو ہفتوں مےں لاکھوں کروڑوں نوکرےاں آنے کو ہےں۔ ےہ ہےں زمےنی حقائق اور ےہ ہےں دعوے۔ خدا خےر کرے !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!