Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Khawab e Ghaflat Ka Shikar Ummat e Muslama

خواب غفلت اور کسے کہتے ہیں۔ کیا اس کرہ ارض پر بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کو اس بات کا ذرا سا بھی اندازہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے، وہاں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے بعد گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں کو اسرائیل کا قانونی حصہ تسلیم کرنا، ایک ایسا قدم ہے کہ جس سے اب اس جنگ کے نقاروں کی آواز بہت بلند ہو چکی ہے جس کا خواب ہر یہودی بچہ اس دن سے دیکھ رہا ہے جس دن سے انکے پیغمبر لیسعیاہ (lsaih) نے یہ بشارت دی تھی،کہ ایک دن ایسا آئے گاجب یہودیوں کا مسیحا (Messiah) آئے گا اور وہ یروشلم کے شہر میں تختِ داؤدی پر بیٹھ کر خدا کی عالمی بادشاہت قائم کرے گا۔تین ہزار سال سے اس عظیم سلطنت کے خواب آنکھوں میں سجائے لاتعداد یہودی ،یورپ اور امریکہ میں اپنی پر تعیش رہائش گاہیں اور بڑے بڑے کاروبار چھوڑ کر اسرائیل میں آباد ہوئے اور ابھی تک مسلسل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ اس سلطنت کے قیام کے لیے کسی اور قوم سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی اس جنگ سے غافل نہیں ہوئے۔ ہر یہودی بچے پر لازم ہے کہ وہ فوجی ٹریننگ حاصل کرے۔ اسی لیے اسرائیل کی 8,985,000 آبادی میں سے ہر صحت مند مرد اور عورت ایک فوجی ہے۔ یہ وہی جنگ ہے جس کے بارے میں سید الانبیائﷺنے فرمایا تھا “تمہاری مختلف فوجیں ہونگی، ایک شام، ایک عراق اور ایک یمن میں، عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا ہم کس فوج کو اختیار کریں، فرمایا تم شام کی فوج میں شامل ہو جانا” (ابو داؤد، احمد، حاکم، ترمذی)۔ جبکہ ابوداؤد اور احمد نے یہ بھی اضافہ کیا ہے “تم شام کی فوج میں شامل ہو جانا اس لیے کہ شام اللہ کی اس روئے زمین کا وہ ٹکڑا ہے جہاں اللہ کے نیک بندے سمٹ کر جمع ہو جائیں گے”۔ اس حدیث کو جرح و تعدیل کے ماہرین اعلیٰ درجے کی صحیح حدیث شمار کرتے ہیں۔قدیم شام میں رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں فلسطین، اسرائیل، اردن، لبنان اور شام بلکہ ترکی کا بھی کچھ حصہ شامل تھا جسے آج قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس پورے خطے کا ایک اہم ترین فوجی اور علاقائی اہمیت کا مقام گولان کی پہاڑیاں ہیں۔ یہ پہاڑیاں9,232فٹ بلند ہیں اور 1800 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہیں فٹ بلند ہیں اور اس کی ترائی میں وہ جھیل واقع ہے جسے “Sea of Galilee” گلیلی کہتے ہیں۔ یہودی اسے کنارٹ (Kinneret) کہتے ہیں جبکہ حدیث کے الفاظ میں اسے بحر طبریہ کہا گیا ہے۔ یہ وہی بحر طبریہ ہے جس کے بارے میں رسول اکرمﷺنے فرمایا تھا کہ جب یاجوج اور ماجوج کا پہلا لشکر اسے عبور کرے گا تو اس میں پانی ہو گا جسے وہ پی جائے گا اور انکا پچھلا دستہ وہاں سے گزرے گا تو کہے گا کہ یہاں پانی ہوتا تھا (نواس بن سمعان۔ صحیح مسلم)۔ 1920 میں جب یورپ کے اشکنازی یہودی ( جو بنی اسرائیل نہیں ہیں ) اسرائیل میں آباد ہونا شروع ہوئے تو ان کا پہلا ایلیا (لشکر) اسی بحیرہ طبریہ سے ہوکر اسرائیل پہنچا تھا۔ تورات، انجیل، زبور اور دیگر عیسائی اور یہودی صحیفوں میں اس علاقے، پہاڑیوں اور اسی جھیل کا باربار تذکرہ ملتا ہے۔ خلاف عثمانیہ کے خاتمے کے بعد قدیم شام کا ملک تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ،شام، اردن اور لبنان۔اس تقسیم کے بعد اتحادی افواج نے یہ طے کیا تھا کہ اردن، عراق اور شام کے تینوں ملک ،مسلم امہ سے غداری کے صلے میں شریفِ مکہ حسین بن علی کے تین بیٹوں کو بادشاہت کی صورت عطا کر دے جائیں گے ۔ عراق کو اس کے بیٹے فیصل کے سپرد کیا گیا جسے بعد میں روس نواز فوجی بغاوت سے اتار دیا گیا، اردن والے بیٹے کی اولاد آج تک حکمران ہے لیکن شام میں یہودیوں نے فرانس کے ذریعے تیسرے بیٹے کو اقتدار نہ لینے دیا اور وہاں باقاعدہ ایک سازش کے تحت دس فیصد سے بھی کم نصیری علوی اقلیت کو باقاعدہ فوجی مدد کے تحت اقتدار پر قابض کیا گیا۔ یہاں تک کہ بعث پارٹی جو ایک سیکولر کیمونسٹ پارٹی تھی اس پر نصیری علوی اقلیت کو حاوی کرکے بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ اسی حافظ الاسد کے زمانے میں 1967 میں وہ عرب اسرائیل جنگ ہوئی جس میں عربوں کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انکے ہاتھ سے یروشلم کا مقدس شہر، مصر کا صحرائے سینا اور شام کی گولان کی پہاڑیاں نکل گئیں۔ اس جنگ کے مورخین تحریر کرتے ہیں کہ یہ گولان کی پہاڑیاں حافظ الاسد نے اسرائیل کو تحفے میں دے دیں تھیں۔ اس زمانے کے شامی خفیہ ایجنسی کے سربراہ خلیل مصطفے اپنی کتاب “سقوط الجولان” (جولان کی شکست) میں تحریر کرتے ہیں کہ جب 5 جون 1967 کو صبح اسرائیل نے مصر پر حملہ کیا اور مصری ایئر بیس پر کھڑے 420 جہازوں کو تباہ کر دیا تو اگر اس وقت حافظ الاسد اپنی شامی ایئر فورس کو استعمال کرتا تو جنگ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ اس جنگ سے پہلے اردن ،شام اور مصر میں یہ معاہدہ تھا کہ شام کو اسرائیل سے جنگ کی صورت میں گولان کی پہاڑیوں سے حملہ کرنا تھا لیکن وہاں سے ایک گولہ بھی اسرائیل پر نہ پھینکا گیا بلکہ شام 22گھنٹے بعد اس جنگ میں شامل ہوا اور ان بائیس گھنٹوں میں اس چھ روزہ جنگ کا پانسہ پلٹ چکا تھا۔ جنگ سے چند ماہ قبل گولان کی پہاڑیوں سے اپنے تمام فوجی کمانڈروں کو واپس بلا لیا گیا جو مسلمانوں پر مشتمل تھے اور نصیری علوی قبائلی کمانڈروں کو وہاں بھیج دیا گیا۔ جسکے بعد وہاں کے تمام علوی مکین گولان سے دمشق منتقل ہوگئے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی بلڈوزر پتھروں کو کاٹ کر اپنے ٹینکوں کیلئے راستہ بناتے رہے اور آگے بڑھتے رہے۔شامی فوج کے ٹینکوں کو گولان خالی کرتے واپس مڑنے کا حکم دیا گیا تا کہ اسرائیل وہاں قبضہ کرسکے ، اس دوران ایک ٹینک کی زنجیر ٹوٹ گئی، جان بچانے کیلئے اس نے اپنی جانب بڑھتے ہوئے اسرائیلی ٹینکوں پر مڑ کر فائر کھول دیا جس سے آٹھ ٹینک تباہ ہوگئے۔ یعنی اگر شام کے ٹینک وہاں سے حملہ کرتے تو یہ علاقہ اسرائیلی فوج کا قبرستان بن جاتا، لیکن یہ اہم ترین فوجی علاقہ اسرائیل کو تحفے میں دے دیا گیا اور آج باون سال بعد امریکہ نے اسے اسرائیل کا ایک قانونی حصہ تسلیم کرلیا ہے۔ ایسا ایک دن میں نہیں ہو گیا۔ شام کی نصیری علوی حکومت تقریبا بیس سال اسرائیل کی حکومت سے خفیہ مذاکرات کرتی رہی تاکہ گولان کی پہاڑیوں پر ایک مستقل امن معاہدہ ہو جائے۔ یہاں تک کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور شامی صدر بشارالاسد اس بات پر تقریبا متفق ہوگئے تھے کہ 1974 میں یومِ کپور والی جنگ میں جو علاقہ اسرائیل نے مزید قبضہ کیا تھا اس کو چھوڑ کر آہستہ آہستہ گولان کو 1967 والی حالت میں بحال کر دیا جائے گا۔ ستمبر 2010 میں نیتن یاہو اور بشارالاسد کی آخری گفتگو ہوئی۔ اسمیں ایک نقطے پر بات رک گی کہ اسرائیل گولان سے اس وقت واپس چلا جائے گا اگر شامی حکومت ایران سے اپنے دفاعی معاہدے ختم کر دے۔ اسکے بعد پھر مذاکرات نہ ہوسکے۔ چند ماہ بعد بشار الاسد نے شام کے عوام کا قتل عام شروع کر دیا۔اسرائیل نے شام میں بشار الاسد کے مخالفین کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیا اور امریکی سینٹ میں ایک مہم شروع کروا دی کہ اسرائیل کی سکیورٹی کا تقاضا ہے کہ گولان اسکے پاس رہے۔اوبامہ دور سے شروع کی گئی اسرائیلی مہم اب کامیاب ہو گئی۔ یوں نہ ایران شام سے نکلا اور نہ ہی اسرائیل گولان سے واپس ہوا۔لیکن اس سارے گٹھ جوڑ میں شام کے چھ لاکھ نہتے عوام شہید ہوگئے اور چالیس لاکھ ہجرت کرگئے۔ یہ تو آغاز ہے۔ ابھی تو یہ امت بڑی جنگ میں داخل ہوئی ہے۔لیکن جو امت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو چکی ہو، اس کی غفلت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!