Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Khauf

جن لوگوں کے دلوں میں خوف گھر کر لیتا ہے وہ اپنے تصورات کی الگ دنیا بسا لیتے ہیں ۔ تیز ہوا چلنے اور پتے کھڑکنے سے ان کے دل دہلنے لگتے ہیں۔ لاشعور میں قسم قسم کے خدشات قطار در قطار موجود رہتے ہیں ۔ سیڑھیاں اترنے سے قبل اس خوف کا شکار رہتے ہیں کہ گر جائیں گے، ٹانگ ٹوٹ جائے گی، بازو اتر جائے گا،سرزخمی ہوگا ،پاﺅں میں موچ آ جائے گی ‘ پسلیاں دھنس جائیں گی۔گاڑی پر بیٹھنے سے قبل سوچتے ہیں حادثہ ہو جائے گا ‘ گاڑی ٹوٹ جائے گی، زخمی ہو کر بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا جاﺅں گا۔ ڈاکٹرز موجود نہیں ہوں گے ۔ سارا خون نچڑ جائے گا اور پھر اسی بے بسی کی حالت میں مر جاﺅں گا ۔ یہ لوگ نزلہ زکام کا شکار ہوتے ہیں تو سوچنے لگتے ہیں اب یہ بیماری زور پکڑ لے گی جس کے نتیجے میں نمونیہ ہو جائے گا ۔ پھیپھڑے کام کرنا ختم کر دیں گے ٹی بی نہ بھی ہوئی تو ٹائیفائیڈ ہو جائے گا جس کے نتیجے میں جسم کا کوئی عضو کام کرنا چھوڑ سکتا ہے اور یہ عضو دل ہو سکتا ہے دل نے کام کرنا چھوڑ دیا تو پھر میری موت کوئی بھی ٹال نہیں سکتا۔چھوٹے چھوٹے واقعات اور حادثات یا زندگی کے راستے کی رکاوٹوں کو وہ دل ہی دل میں بڑھا کر وہاں تک لے جاتے ہیں جہاں موت کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نظر نہیں آتا ۔ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ انہیں اپنے سائے سے خوف آتا ہے ۔ زندگی کے ہر مرحلے پر کسی بھی بات کے لیے مثبت نہیں سوچتے ۔نقصان ہونے کی آخری حد تک سوچتے ہیں ۔ خوف کا شکار ایک شخص ہو یا ادارہ‘قومیں‘ حکومت یا حکمران۔ یہ سب ایک ہی طرح سے سوچنے لگتے ہیں ۔ اس حوالے سے تین واقعات کا ذکر یہاں ضروری ہے کہ ایک ہمارے سامنے ‘ دوسرا ہمارے ساتھ اور تیسرا ہم سب کے ساتھ پیش آیاہے ۔
ہمارے ایک عزیز جو 1965ءکی جنگ کے بعد ہجرت کر کے آزاد کشمیر آئے تھے ہمارے گاﺅں کے ساتھ والے علاقے میں ایک مہاجر کالونی میں آباد ہوئے۔ جس جگہ ان کو رہائش کے لیے چند مرلے جگہ ملی اس کے بارے میں کچھ ہی روز میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ یہاں جن بھوت قابض ہیں ۔ ہمارے عزیز چونکہ جنگ کی تباہ کاریوں قتل و غارت گری ‘ ہجرت اور مشکلات کے ستائے ہوئے تھے اس پر جن بھوتوں کی موجودگی سے مزید پریشان ہو گئے ۔ یہ خاندان رات بھر خوف کا شکار اور دن بھر پریشانی کے عالم میں زندگی گزارنے لگا تھا۔ گردو نواح کے کچھ من چلوں کو اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے مہاجرخاندان کو ڈرانے کے نت نئے حربے شروع کر دیے ۔ اس زمانے میں آج کی طرح بجلی یا دیگر سہولتیں نہیں تھیں ۔یہ خاندان رات کو دیا‘ موم بتی یا لالٹین کی روشنی میں گھر کے صحن میں سونے کی کوشش کرتاادھر سے تاک کر کوئی پتھر مارتا پہلے دن تو یہ لوگ دبک گئے پھر اگلے روز سے گھر کے اندر جا کر سونے لگے ۔ ایک رات پھر سے سنگ باری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ خوف کے ہاتھوں مجبور گھر کے سربراہ نے فیصلہ کیا کہ گھر کے افراد باری باری رات کوپہرہ دیا کریںگے۔پہلے روز سب سے بڑے بیٹے کو حکم ہوا باقی سب اطمینان سے سو گئے۔اس نوجوان نے ایک لاٹھی پکڑی اور ٹھک ٹھک کرتا صحن میں ٹہلنے لگا ۔رات کا ایک حصہ گزر گیا لالٹین جلتی رہی ‘ پہرے دار چلتا رہا ۔کسی جن بھوت نے مداخلت نہیں کی تو اس نوجوان نے اطمینان کا سانس لیا اور سستانے کےلئے کچھ دیر کے لیے چارپائی پر ٹیک لگا دی ۔ اس کے سامنے دیوار کے طاق میں لالٹین ٹمٹما رہی تھی ۔ وہ اسے غور سے دیکھنے لگا ۔ لالٹین کے ساتھ اون کا ایک گولہ پڑا تھا ہلکی سی ہوا چلی اور گولہ کھسکا اس کے ساتھ ہی لالٹین حرکت میں آ ئی اور دھڑم سے زمین پر آن گری ۔لالٹین کے گرتے ہی نوجوان نے پکار لگا دی ” وہ آگیا “ ۔ اس کے شور پر باقی گھر والے ہڑبڑا کر اٹھے ہر طرف اندھیرا تھا چیخ و پکار سے کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی اس ہلے گلے میں پہرے دار نوجوان کی ایک چیخ آواز بلند ہوئی وہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا میںنے پتھر مارنے والے” جن“ کو پکڑ لیا ہے اور روشنی کا بندوبست کرو ۔ہمسائے سے لوگ بھی دوڑے آئے نوجوان نے اپنے دونوں گھٹنوں کے نیچے ایک آدمی کو دبوچ رکھا تھا اور وقفے وقفے سے اسے مکے بھی مارتا جاتا تھا ۔ کسی نے روشنی جلائی اور لوگ بھاگ کر اس طرف گئے ِ جہاںحملہ آور کو زیر کیاگیا تھا ۔ اس عرصے میں دوسرا بھائی بھی مدد کے لیے پہنچ گیا تھا جس نے اس آدمی کی ٹانگیں باندھ دی تھیں ۔اب جو روشنی اس طرف پھیلی تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ دونوں نوجوانوں نے اپنے والد محترم کو دبوچ رکھا تھا جوبری طرح مسلے گئے تھے اور چیخ و پکار کے دوران ادھر ادھر بھاگتے چور کو تلاش کرتے اپنے ہی بیٹوں کے نرغے میں آ گئے تھے۔ یہاں شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ نہیں تھا۔
دوسرا واقعہ ہمارے ساتھ پیش آیا ۔ غالبا1978ئءکا ذکر ہے ہم سکول میں پڑھتے تھے ۔ اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے یہ اعلان ہوا کہ امریکی ادارے ناسا (NASA) کی طرف سے خلاءمیں بھیجا جانے والا سکائی لیب خرابی کے باعث 15جولائی کو زمین کے کسی بھی حصے پر آن گرے گا اور یہ علاقہ پاکستان کا کوئی حصہ بھی ہو سکتا ہے ۔لہذا عوام محتاط رہیں ۔ سکائی لیب کیا ہوتا ہے ‘ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ لو ہے کا ایک پہاڑ ہے جہاں بھی گرے گا تباہی پھیلے گی ۔ ہم اپنے ایک کزن کے ساتھ وادی بناہ سے نکلے اور مشرق کی طرف پھیلی پہاڑیوں میں سفر شروع کر دیا ۔ہم سکائی لیب کے اس خوف کا شکار تھے جو میڈیا کے ذریعے ہم پر مسلط ہوگیا تھا ۔ ہر آن ‘ ہر لمحہ یہ خوف تھا کہ کسی بھی وقت سکائی لیب ہم پر آن گرے گا ڈرتے سہمتے ہم مشرق میں گیائیں نامی گاﺅں پہنچے ۔ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک ڈھلان کے قریب بیٹھے ہی تھے کہ معاً ہمیں عجیب قسم کی آواز یں آنا شروع ہو گئیں پہلے ہم نے اسے وہم سمجھا لیکن یہ آوازیںبڑھتی چلی گئیں پہلے عجیب قسم کی سیٹی بجتی پھر ٹیں ٹیں۔ قریب سے گزرتے کچھ لوگوں نے بھی اس آواز کو محسوس کیا سب کے ذہن میں سکائی لیب کے گرنے کا خوف جاگزیں تھا ۔ یہ خوف اب زبانوں پر آیا ہم نے مل کر چیخ و پکار شروع کر دی ۔ سامنے والے چند گھروں سے خواتین اور بچے ہڑ بڑا کر ادھر ادھر بھاگنے لگے ،ہم نے پہاڑ کے دامن میںمویشیوں کے ایک باڑے کی طرف دوڑ لگا دی ہمیں دیکھتے ہوئے باقی لوگ بھی ادھر بھاگ کھڑے ہوئے ۔جس باڑے میں ہم داخل ہوئے وہاں بھیڑ بکریوں کے ساتھ بھینسیں اور بیل بھی تھے یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی خواتین اور بچے چیخ رہے تھے ۔ ایک بوڑھی اماں نے آگے بڑھ کر زور سے دروزہ بند کر دیا۔اس کے ساتھ ہی ایک درد ناک چیخ فضا میں بلند ہوئی ۔ ” ہائے میں مر گیا“۔ اس چیخ کے نکلنے کے بعد وہ ہنگامہ برپا ہوا کہ الامان الحفیظ ۔دروازہ بند کرنے سے اندر اندھیرا چھا گیا تھا۔ موت سر پر لٹکی نظر آ رہی تھی ۔ خاصی دیر تک شور برپا رہا پھر لوگوں کے بدن کانپنے لگے اور لبوں پر خاموشی کا تالا لگ گیا ۔ لیکن دروازے کے باہر سے ہائے مر گیا کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں ۔ اس یقین کے ساتھ کہ جو ہونا تھا ہو چکا سکائی لیب گر چکا ہے اور باہر کچھ لوگ مر چکے ہیں کچھ زخمی ہیں تو ہم نے دروازہ کھول دیا ۔ باہر نہ کوئی لاش تھی نہ سکائی لیب کا ملبہ ۔ وہاں ایک نوجوان اپنا زخمی ہاتھ پکڑے زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا ۔ اس نے چیخ چیخ کر بتایا کہ وہ اس کمرے میں چھپنے کے لیے آیا تھا کہ ابھی دروازے پر ہاتھ ہی رکھا تھا کہ کسی نے اندر سے دروازہ بند کر دیا ۔ اس کاہاتھ پٹ میں آ گیا اور چار انگلیاں ٹوٹ گئی ہیں جس بوڑھی عورت نے دروازہ بند کیاگیاتھا یہ نوجوان اسی کا بیٹا تھا ۔ سکائی لیب اس روز کسی سمندر میں گر گیا تھا۔وہ آوازیں کدھر سے آ رہی تھیں ۔ ابھی تک ہلکی سیٹی کی آواز آ رہی تھی ہم نے بغور جائزہ لیا تو سامنے درختوں کے ساتھ آڈیو ٹیپ کا فیتہ نظر آیا جو ایک درخت سے دوسرے درخت کے درمیان بندھا گیا تھا ہوا چلتی تو اس سے سیٹی کی آواز نکلتی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم یہ آواز ہر روز سنتے ہیں ہمارے لیے کوئی نئی نہیں ہے۔ اور آخری واقعہ ہم سب کے ساتھ پیش آیا ہے ۔ پوری پاکستانی قوم اور ایک ارب ستائیس کروڑ امت کے ساتھ ‘ نائن الیون آیا اور گزر گیا ۔ یہ کس نے کیا ؟ کیوں کیا لا تعداد سوال ہیں لیکن جواب آنے سے پہلے ہی ہم دبک گئے ‘ کان پکڑ لیے ‘ ناک رگڑ ڈالی ‘اپنے ہی گھرکو جلایا اپنے ہی عزیزوں کو دبوچ لیا اپنے ہی بیٹوں پر دروازے بند کر دیے ‘جن کے اندر خوف گھر کر لیتا ہے وہ اپنی دنیا الگ بسا لیتے ہیں تیز ہوا چلنے اور پتے کھڑکنے سے ان کے دل دہلنے لگتے ہیں ۔ خوف باہر نہیں ان کے اندر ہوتا ہے۔ ہٹلر نے کہا تھا۔ میرے دروازے پر خوف نے دستک دی جرات نے اٹھ کر دروازہ کھولا باہر کوئی نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!