Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Kasmir: Manzil Sirf Azadi …. (2)

1953ءمیں جب شیخ محمد عبداللہ کو معزول کیا گیا تو بقول پنڈت پریم ناتھ بزار (م:6جولائی 1984ئ) 10ہزار لوگوں کو جیل بھیج دیاگیا۔ 1947ءسے 1953ءتک شیخ محمد عبداللہ کے دور اقتدار میں جس طرح سے لوگوں کو دبایا جارہاتھا میں خود اس کا عینی شاہد ہوں۔ گذشتہ برس ہابرس سے جاری ہماری جدوجہد کے اس مرحلے میں بھارتی حکمرانوں اور مسلح افواج کی جانب سے جو بدترین مظالم ڈھائے گئے ہیں انکی ایک ہلکی سی جھلک بھی انسان کو ہلاکررکھ دیتی ہے، بشرطیکہ وہ انسان ہو۔پورے بھارت میں بتایا جاتا ہے کہ کشمیری بچے اور نوجوان ، قابض فوجیوں پر کنکرپھینکتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ آج تک اس سنگ باری سے کوئی بھارتی فوجی یا پولیس والا قتل نہیں ہوا، دوسری جانب ہمارے ہزاروں لوگ گولیوں سے بھون دیئے گئے ہیں، ان مقتولین میں معصوم بچے اور گھریلو خواتین، سکول کی طالبات اور نوعمر لڑکے بھی شامل ہیں۔یہ ہماری جدوجہد کا آخری مرحلہ ہے اور عوامی سطح پر یہ پرامن ہے، اس جدوجہد میں ہم بندوق کا سہارا نہیں لے رہے ہیں، ہماری تحریک خالصتاً مقامی اور Indigenous تحریک ہے،اور اسی کے ذریعے پوری عالمی برادری میں یہ احساس بیدار ہورہاہے کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنا پیدائشی حق حاصل کرنے کیلئے جان و مال کی قربانی دے رہے ہیں۔ تاہم بدترین ریاستی تشدد، ظلم اور قتل و غارت کے جواب میں اگر کچھ نوجوان کسی درجے میں جوابی کارروائی کرتے ہیں تو وہ تشدد کا اسی طرح ایک فطری ردعمل ہے جس طرح تحریک آزادیِ ہند کے دوران ہواتھا، تب کانگریس کی قیادت بشمول گاندھی جی نے یہی کہاتھا کہ ”مجموعی طور پر سیاسی جدوجہد میں ایسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ، جبکہ ریاست ظلم کا ہرہتھکنڈا برت رہی ہے “ آج ہم بھی بھارتی نیتاو¿ں سے یہی کہتے ہیں۔ہم جموں وکشمیر کے ہر باشندے کیلئے حصول آزادی کا یہ حق حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس میں کسی قسم کے دھونس اور دباو¿ کو قبول نہیں کرینگے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے اکثریت جو بھی فیصلہ کریگی وہ ہمیں قبول ہوگا۔ ہم یہ بات بار بار کہہ چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اکثریت اپنے مستقبل کا جو بھی فیصلہ کریگی وہ ہمیں قبول ہوگا۔ آزادی کا ہمارا مطلب وہی ہے جو ہندوستان کا انگریزوں سے آزادی کے مطالبے کا مطلب تھا۔ہم بھارتی قبضے سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں، End to Forcible Occupation یہ ہمارا نعرہ ہے، اسی طرح ہمارا نعرہ ہے کہ گوانڈیاگو۔ انڈیا کا اس سرزمین پر کوئی آئینی ، اخلاقی اور قانونی حق نہیں ہے، بندوق کی نوک پر آخر وہ کتنے عرصے تک ہمارے سینے پر مونگ دلتا رہیگا۔23مارچ 1952ءسے جموں و کشمیر پر پاک بھارت مذاکرات کا عمل چل رہاہے اور 150بار مذاکرات کے دور مکمل ہوچکے ہیں، لیکن ان مذاکرات سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کون نادان ہوگا جو 150بار مذاکرات کی ناکامی کے بعد پھر ایسے بے معنی اور وقت گزاری کے عمل کا حصہ بنے؟، ایسا اس لئے ہورہاہے کہ ہندوستان ایک سانس میں کہہ رہاہے کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں اور دوسری ہی سانس میں کہہ رہاہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اسی غیر منطقی ہٹ دھرمی کے سبب اب تک کے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں، آئندہ بھی کسی مذاکراتی عمل میں اس وقت تک شرکت بے معنی ہے جب تک کہ بھارت جموں وکشمیر کی اس متنازعہ حیثیت کو تسلیم نہ کرلے کہ جوامر واقعہ بھی ہے اور جسے خود بھارتی قیادت نے پوری دنیا کے سامنے تسلیم بھی کیا تھا۔ہم نے 31اگست 2010ءکو ایک پانچ نکاتی فارمولا پیش کیاتھاجو مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں، لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھنے کا ایک راستہ ہے۔ اس میں پہلا نکتہ یہی ہے کہ کشمیر کی جو بین الاقوامی متنازعہ حیثیت ہے اس کو آپ تسلیم کریں، اسکے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں افواج کا انخلاءشروع کریں، اس کے بعد کالے قوانین کے نفاذ کو ختم کریں، تمام گرفتار لوگوں کو رہا کریں اور ہمارے پرامن لوگوں کے جو قاتل ہیں انکے خلاف آپ مقدمات چلائیں اور سزا دیں۔یہ پانچ نکاتی فارمولا دراصل مذاکرات کیلئے ماحول بنانے کیلئے ہے جس پر بات چیت ہوسکتی ہے، ہم بات چیت کے منکر نہیں ہیں، مگر یہ بات چیت صرف بنیادی اور مرکزی ایشو پر ہونی چاہیے، یہ بات چیت دو فریقوں میں نہیں بلکہ تین فریقوں کے درمیان ہونی چاہیے، اس میں ہندوستان ، پاکستان اور جموں وکشمیر کے آزادی پسند شریک ہوں، پھر اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھا جائے۔ 1947ءسے لیکر آج تک جو بے مثال جدوجہد کی گئی ہے اور جو قربانیاں دی گئی ہیں ان کو پیش نظر رکھا جائے اور جموںو کشمیر کی جغرافیائی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے ان مذاکرات کے بعد استصواب رائے میں جو بھی نتیجہ سامنے آئیگا اسے ہم سب قبول کریں۔بھارت میں ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ”اگر جموں و کشمیر بھارتی تسلط سے آزاد ہوجائے گا اور چوں کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تو وہاں اقلیتوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہوگا “۔یہ پروپیگنڈا بے جواز بھی ہے اور بے معنی بھی، چونکہ جموں وکشمیر مسلم اکثریتی خطہ ہے ، وہاں بسنے والی تمام اقلیتوں کے بارے میں ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ انکے جان و مال ، عزت و عصمت ، انکے مذہب و عقیدے اور انکی عبادت گاہوں سب کا تحفظ ہوگا، اس حوالے سے کسی کو کسی بھی قسم کی فکرمندی یا پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان جو دنیا بھر کے سامنے جمہوریت کا دعویٰ کررہاہے کیا وہ خود اس اصول کو اپنا رہاہے؟ کیا اس پر عمل کررہاہے©؟ اگر ایسا ہوتا توجموں وکشمیر برسوں سے بھارتی جبر کا شکار نہ ہوتا، لیکن بہرحال ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسا نظام ہے جس میں انصاف اپنا وجود اور عمل دکھائےگا، انشاءاللہ!اس عرصے میں 6لاکھ قربانیاں لیکر، ہماری عزتیں اور عصمتیں لوٹ کر، جنگلات کا صفایا کرکے، ہمارے لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے بعد بھی آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ اسی لئے ہم نے کہا کہ ہم نے جو پانچ نکاتی فارمولا پیش کیا تھا جب تک اسے تسلیم نہیں کیا جائیگا ہم کسی قسم کی بات چیت کیلئے تیار نہیں ہیں، دہلی کی اس باشعور مجلس کے ذریعے میں اعلان کرتا ہوں کہ آپ کے جو صلاح کار ہمارے مظلوم بھائیوں سے ملنا چاہ رہے ہیں انکے سامنے ہمارے لوگ یہ مطالبہ دہرائیں گے کہ جب تک آپ اصل حقائق کو تسلیم نہیں کرینگے آپکے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی، کہ یہ محض وقت گزارنے کا بہانا ہے اور مسئلہ حل کرنے کیلئے آپ کی نیت صاف نہیں ہے۔کیا آپ نہیں جانتے کہ ہمارا مطالبہ کیا ہے ؟ ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم خون دیکر اور جانیں دیکر بار بار بتارہے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، آزادی اور صرف آزادی چاہتے ہیں۔ عزتیں اور عصمتیں لٹاکر، بچیوں کو اجڑتے دیکھتے اور جوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتے ہوئے بھی ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم بھارت کے جبری قبضے کیخلاف ہیں، اور ہم اس سے آزادی چاہتے ہیں۔ لیکن آپ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس جائیں گے اور پوچھیں گے کہ بتاو¿ کہ تم کیا چاہتے ہو؟، بہر حال یہ فریب کاری ہے ، آپ بات کی تہہ تک پہنچ کر دیکھیں اور اس خود فریبی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔میں آپ کو برملا یہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں کہ نہ ہمارے عوام تھکے ہیں اور نہ ہماری قیادت مایوس ہوئی ہے۔ ہم جدوجہد آزادی میں بھرپور طریقے سے ہم قدم ہیں، اس وقت تک برسرکار ہیں جب تک کہ ہم بھارت کے فوجی قبضے سے آزادی حاصل نہ کرلیں۔ بھارتی قبضے سے ریاست جموں وکشمیر کی آزادی کے ساتھ ہی بھارت اور پاکستان جیسے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک ایک رستے ہوئے ناسور سے آزاد ہو جائیں گے، کیونکہ مسئلہ کشمیر ایک ایسا لاوا ہے جس کو حکمرانوں کی اناپرستی، ہٹ دھرمی اور عدم توجہی کی وجہ سے اگر اسی طرح دبانے کی کوشش کی گئی تو اس میں اتنا خطرہ موجود ہے کہ یہ پورے برصغیر ہی نہیں بلکہ پورے عالم انسانی کے خرمن کو جلاکر راکھ کرسکتا ہے ۔ اس لئے انسانیت کی بقا کیلئے اور اپنی آنیوالی نسلوں کے امن کی ضمانت کے لئے اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اور یہ جتنا جلد ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا۔ ( ختم شد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!