Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Kashmir : Manzil Sirf Azaadi……….-(1)

آج جب ہم دہلی میں بیٹھ کر یا دلی والوں کی مجلس میں یہ بات کریں کہ آزادی کیا ہے ؟ تو ان کیلئے اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ ”آزادی کیا ہے؟“ اس لئے کہ آپ کے آباو¿ اجداد بھی ایک سو سال سے زیادہ عرصے تک انگریزوں کے براہ راست غلام تھے، انگریزوں کے اقتدار و بالادستی کیخلاف انہوں نے جدوجہد شروع کی تھی اور کہا تھا کہ ”ہمیں آزادی چاہیے“ وہ یہاں پر مسلط برطانوی سامراجی حکومت سے آزادی چاہتے تھے۔بالکل اسی طرح گذشتہ 72برسوں سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی غالب اکثریت ، کشمیر میں بھارت کے فوجی طاقت کے بل پر قبضے سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ سیدھی سی بات ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو سمجھ میں نہ آسکتی ہو۔یہ آزادی کسی خاص کمیونٹی کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ آزادی جموں وکشمیر کے ہر فرد کیلئے ہے، چاہے وہ کٹھوعہ میں رہتا ہو یا آدم پور میں، چاہے وادی کشمیر میں رہتا ہو یا کشتوار میں ، جہاں کہیں بھی رہ رہاہے، چاہے وہ مسلمان ہے یا ہندو او رسکھ ہے یا عیسائی یابودھ مت ، یہ سب بھارت کے غیر منصفانہ اور جابرانہ فوجی تسلط سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔اس کیلئے میں آپ کو چند مثالیں دونگا، مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ 1947ءمیں جموں میں ڈوگرہ فوجی تسلط کے دوران ڈھائی لاکھ مسلمانوں کا قتل عام تسلیم شدہ تعداد ہے، حالانکہ وہاں پر موجود افراد کہتے ہیں کہ پانچ لاکھ مسلمانوں کو بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا تھا، ان کی لڑکیوں کو اغواءکیاگیا، مردوں کو ذبح کیا گیا اور ان کے بچوں کو پاو¿ں تلے روند ڈالا گیا تھا، یہ سارے ظلم و ستم ہم نے سہے ہیں۔ یہ 6نومبر 1947ءکی بات ہے جب جموں میں اس سانحہ کا آغاز ہواتھا، ہم اسی وقت سے اس فوجی تسلط میں پس رہے ہیں، ہم پٹ رہے ہیں ، ہماری عزتیں لوٹی جارہی ہیں، ہماری عصمتیں پامال کی جارہی ہیں ، ہمارے نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایاجارہاہے اور ہمارے مکانات بغیر کسی جواز کے جلائے جارہے ہیں، اور گھروں کو مسمار کیا جارہاہے، یہ ساری صورتحال ہم کو مجبور کررہی ہے کہ ہم بھارت کے فوجی تسلط سے جلد از جلد آزادی حاصل کریں۔گذشتہ 72برسوں کے دوران ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ آپ سب کو بھی جاننا چاہیے، ہم بھارت کے ایک ارب بیس کروڑ عوام سے مخاطب ہیں، ہم ان تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ آپ کا اورہمارا ایک انسانی رشتہ ہے، اس وقت جبکہ آپ کے بھائیوں پر ظلم ڈھایا جارہاہے تو بحیثیت انسان آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، اگر آپ آواز نہیں اٹھاتے ہیں تو آپ اس انسانی رشتے کو کمزور بنارہے ہیں۔آج جموں وکشمیر کے ایک چھوٹے سے خطے میں آٹھ لاکھ مسلح بھارتی فوجیوں کا مسلط ہونا بجائے خود ایک بہت بڑا جرم اور زیادتی ہے، ان آٹھ لاکھ فوجیوں نے ہمارے خطے کی لاکھوں کنال زمین پر جبری قبضہ جما رکھا ہے ۔ آپ اندازہ کیجئے کہ جب ایک چھوٹی سی قوم کی اتنی زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا جارہا ہو تو اس قوم کے مردوزن کیسے اپنے مستقبل کو شاندار قرار دے سکتے ہیں؟ وہ کیسے اپنی زندگیوں میں امن اور چین حاصل کرسکتے ہیں؟جب ایک مقامی آدمی کو مغربی بنگال یا مہاراشٹر ، بنگال ، پنجاب ، آسام یااترپردیش سے آئے ہوئے سپاہی ، جموں وکشمیر کے پشت ہاپشت سے آباد باشندے کو، چاہے وہ ہندو ہے یا سکھ، مسلمان ہے یا عیسائی یابودھ ، اس سے وادی کے ہر گلی کوچے میں بلکہ اس کے اپنے ہی گھر میں گھس کر تحکمانہ لہجے میں پوچھ رہا ہے کہ مجھے شناختی کارڈ دکھاو¿، یہ ایسی زیادتی ہے جس کو جموں و کشمیر کا کوئی شہری برداشت نہیں کرسکتا۔27اکتوبر 1947ءکو جب بھارتی فوجیں جموں و کشمیر میں آگئیں تو اس وقت بھی بھارتی وزیراعظم آنجہانی پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ ”ہماری فوجیں یہاں ہمیشہ نہیں رہیں گی، ہم انہیں واپس بلالیں گے اور آپ کو اپنا حق رائے دہی دیا جائیگا“، انکا یہ وعدہ تاریخ میں لکھا جاچکا ہے، پھر جنوری 1948ءمیں خود ہندوستان یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لیکر گیااور وہاں عالمی برادری کے ساتھ بھارت نے 25دسمبر 1948ءکو یہ قرارداد پاس کی کہ” ریاست جموں و کشمیر کے بھارت یاپاکستان سے الحاق کا مسئلہ آزادا ور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے طے پائیگا۔اس قرارداد کو ہندوستان نے تسلیم کیا، اس پر دستخط کئے ہیںاور عالمی برادری اس کی گواہ ہے، اس طرح کی منظور ہونیوالی 18قرادادوں پر بھارت نے دستخط کئے ہیں، اس طرح بھارتی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نے بین الاقوامی سطح پر ہم سے جو وعدے کئے ہیں انہیں وہ پورا کرے۔ہم نے جمہوری طریقہ بھی اختیار کیا، ووٹ کے ذریعے اسمبلی میں جاکر ہم نے آواز اٹھانا چاہی، لیکن ہندوستان نے طاقت کے نشے میں ایسی کسی بھی آواز پر کان نہیں دھرا جو پرامن طریقے سے اپنا حق حاصل کرنے کیلئے اٹھی تھی، جب تمام پرامن راستے مسدود کردیئے گئے تو عسکریت نے خود اپنا راستہ بنایا، جس کو ٹیررازم کا نام دیکر بھارت اعلیٰ تربیت یافتہ فوجیوں اور جدید ترین اسلحے سے لیس ریاستی ٹیررازم کو استعمال کرکے اس جدوجہد کو دبادینے کی ہر ممکن کوشش کررہاہے۔آنجہانی گاندھی نے اپنی کتاب ”تلاش حق“ میں کہا ہے کہ ” جس سسٹم میں انسانی، اخلاقی اور مذہبی قدروں کا احترام نہ ہو تو وہ سسٹم شیطانی کاروبار ہے“، آج شیطان کا یہی کاروبار جموں و کشمیر میں چل رہاہے، بھارت ہو یا کوئی اور ملک جہاں بھی ان اعلیٰ اخلاقی اور انسانی قدروں کا احترام نہیں کیا جاتا وہاں کے لوگ شیطانی سیاست کا شکار ہوتے ہیں۔میں عرض کررہاہوں کہ ہندوستان سے آزادی حاصل کرنا ہمارا پیدائشی اور بنیادی حق ہے ۔ آپ 8لاکھ کی بجائے سارے ہندوستان کی فوج کشمیر میں جمع کردیں، لیکن آپ کبھی جذبہ¿ آزادی کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔جموں و کشمیر کی غالب اکثریت کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ظلم سے نجات حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کریں، آواز اٹھائیں، بھارت کے ایک ارب بیس کروڑ لوگ جو اپنے آپ کو انسان کہتے ہیں ، انسانی سماج کا حصہ سمجھتے ہیں ان پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ظلم کیخلاف آواز اٹھائیں، قلم اٹھائیںاور اس ظلم کیخلاف انکا جو فرض بنتا ہے اس کوانجام دینے کا حق ادا کریں۔ہمیں گذشتہ 8عشروں سے جن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہاہے وہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، اکتوبر 1947ءکے جس الحاق کو بھارت بنیاد بناکر قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے وہ بھی عارضی اور مشروط الحاق تھا، باوجود اس کے کہ خود اس الحاق کے بارے میں بھی سوالیہ نشان موجود ہے کہ وہ ہوا بھی تھا یا نہیں ، آنجہانی ہری سنگھ نے اس پر دستخط کئے بھی تھے یا نہیں ، جیسا کہ الیسٹر لیمب نے کتاب Birth of a Tragedy:Kashmir 1947 (راکسفر ڈبکس، 1994ئ) میں ثابت کیا ہے ، بہر حال ان چیزوں سے قطع نظر وہ معاہدہ بھی عارضی اور مشروط تھا کہ لوگوں سے پوچھا جائیگا اور مستقبل کے بارے میں انکی رائے لی جائیگی۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!