Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Kasan Mela ” Ka Kamiab Inaqad

روزنامہ ”خبرےں “کے زیر اہتمام ملتان مےں تین روزہ کسان مےلے کا انعقاد کیا گےا۔اسی پروگرام کے تحت قومی زرعی کا نفرنس بھی منعقد ہوئی۔اس کسان مےلے اور قومی زرعی کانفرنس کا مقصد کسان کے کردار کو تسلیم کرنااور قومی سطح پر اسکی عظمت و اہمیت کا اقرار کرنا ہے۔چیف اےڈیٹر خبرےں جناب ضےا شاہد صاحب اس مےلے کے روح ِ رواں تھے۔جناب ضےا شاہد صاحب کے بارے مےں نامور کالم نگار حسن نثار کہتے ہےں ”ےار سمجھ نہیں آتی ،ےہ شخص سوتا کب ہے؟ اخبار،چےنل کے معاملات،درجن بھر کتابےں لکھ ڈالیں،قومی موضوعات پر سےمینارز،کانفرنسےں اور ٹی پروگراموں مےں شرکت ،غرض کہ ناممکنات کو بھی ممکنات مےں ڈھالنے کا فن رکھتے ہےں“۔جناب ضےا شاہد صاحب اےک اےسے چیف اےڈیٹر ہےں جو اےک حقیقی اور عملی صحافی بھی ہےں۔مےں سمجھتا ہوں اےسا دانشور جو عمومی سےاست کی سطح سے اُٹھ کر قومی ایشوز کو اپنے قلم اور آواز کا موضوع بناتا ہے ،در اصل اپنی قوم و ملک کی رہنمائی کا حق ادا کرتا ہے۔مےں ےہ بات محسوس کر تا ہوں کہ چیف صاحب انتہائی دےانتداری ،جُرا¿ت مندی اور خلوصِ نیت سے اہم ایشوز پر آواز اُٹھاتے ہےں۔رےا کاری سے پاک،خوف و خوشامد سے بے نےاز ان کا قلم اور ان کی آواز حقیقی مسائل اور موضو عات کے بخیے اُدھےڑتے چلے جاتے ہےں۔ان کے چےنل اور اخبار کا مزاج بھی اےسا ہے کہ بھےڑ چال اور رےٹنگ کی مصنوعی دوڑ سے دور سماجی اور قومی مسائل کی بات کرتے ہےں۔ان کی کتا بوں کے موضوعات دےکھےں ’گاندھی کے چےلے ‘ باتےں سےاستدانوں کی‘پاکستان کے خلاف سازش،راوی ،بےاس اورستلج،مےر ا لیڈرمحمد علی جناح چند اےسے نام ہےں جو مجھے ےاد آ سکے ۔انہوں نے پاکستان کے مسائل کو ہی اُجاگر کیا ۔درےاﺅں کے پانی کا مسئلہ ہو ،ملک سے غداری کرنے والے سےاستدانوں کا ذکر ہو،نئے صُوبے بنانے کا مسئلہ ہو ،انسانی حقوق کی بات ہو ،خواتین کے حقوق،خواتین پر تشدد کے مسائل ہوں، جناب ضےا شاہد کی قےادت مےںخبرےں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے۔”جہاں ظلم وہاں خبرےں“بھی جناب ضےا شاہد کا وژن ہے۔ضےا صاحب کی نظر ان موضوعات کو دےکھ رہی ہوتی ہے جو نظر انداز ہوتے ہےں ےا محروم طبقات سے متعلق ہوتے ہےں۔ان کا فلسفہ انسانیت کی بھلائی ہے۔
ملتان مےں منعقد ہو نے والا کسان مےلہ بھی جناب ضےا شاہد کی کاوش ہے ۔انہوں نے ملتان کو مرکز بناےا اور وہ ملتان مےں خاص طور پر اپنے پروگرامز رکھتے ہےں اور وقت گزارتے ہےں،کبھی سالانہ مشاعرے کا انعقاد ،کبھی کسان مےلہ اور قومی کانفرنس،ان کے سرائیکی خطے سے جذباتی لگاﺅ کا ثبوت ہےں۔ خبرےں کسان مےلہ کی اختتامی تقریب میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے بطور خاص شرکت کی۔صوبائی وزراءبھی شریک ہوئے ،زرعی ماہرین نے بھی مسائل کی نشاندہی کی۔ تقریب مےں چیف اےڈیٹر خبرےں ضےا شاہد صاحب اور اےڈیٹر خبرےں امتنان شاہد صاحب کی دستار بندی بھی کی گئی۔جناب ضےا شاہدصاحب نے کسان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسان ہمارے ملک اور معاشرے کا اہم ترین طبقہ ہونے کے باوجود محروم اور نظر انداز ہے۔زندگی کے ہر شعبے کے افراد کو23 مارچ کو انکی خدمات کے اعتراف کے طور پر اےوارڈز سے نوازا جاتا ہے ۔سےاستدان ،صحافی ،دانشور،اداکار،گلو کار ،ڈانسرز ،استاداور ڈرامہ نگار غرضےکہ کوئی بھی شعبہ ہوسب کے لیے اعزاز ات اور اےوارڈز کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے،لےکن معاشرے اور ملک کا اہم ترین طبقہ جو پورے ملک کی غذائی ضرورےا ت پوری کرتا ہے ،مشکل ترین حالات مےں زندگی گزارتا ہے ،ان کو سرکاری سطح بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ضیاشاہد صاحب نے کہا کہ زمین کا سینہ چیر کرملک کو خوراک فراہم کرنے والوں کی کارکردگی کو کبھی سراہا نہیں گےا۔انہوں نے کہا کہ مےں نے کسان کو اہمیت محسوس کرتے ہو ئے پی ٹی وی پر اےک گھنٹے کا پروگرام ’کسان ٹائم ‘ کے نام سے شروع کیا ۔پھر کسان اےوارڈ شروع کیا جس مےں شوکت عزیز ،پروےز الٰہی ،اور ےوسف رضا گیلانی کو بلاےا گےا اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو اےوارڈز سے نوازا گےا۔انہوں نے کہا جب سے زراعت کا شعبہ صوبوں کو سونپا گےا ،تب سے زراعت کا بےڑا غرق ہو گےا ہے۔ فوڈ سکیورٹی اور ریسرچ کی غےر فعال وزارت رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا وفاق زراعت کے معاملات کو بہتر طریقے سے ہےنڈل کر تا تھا ،کونسی زرعی ادوےات منگوانی ہےں؟کہاں سے کس کوالٹی کی سستی ادویات مل سکتی ہےں؟ےہ معاملات وفاق زیادہ مو¿ثر طریقے سے ہےنڈل کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کسانوں کو نظر انداز نہیں ہونے دےں گے۔گورنر پنجاب چودھری سرور نے ”خبرےں گروپ“ کو کسان مےلے اور قومی کانفرنس کے انعقاد پر شاندار الفاظ مےں خراجِ تحسین پےش کیا ۔انہوںنے سرکاری سطح پر کسانوں کو اےوارڈ دےنے کا اعلان کیا ،اس سال جنوبی پنجاب اور سنٹرل پنجاب کے لئے الگ الگ تقریبات منعقد کی جائےں گی۔ہر ضلع کے تین بہترین کاشتکاروں کو انعامات اور اےوارڈ زسے نوازا جائےگا ۔ان کو گورنر ہاﺅس مےں مدعو کیا جائے گا اور عزت افزائی کی جائے گی۔گورنر صاحب نے کہا کہ جامعات کو بھی زرعی تحقیق کے عمل کو بڑھانا چاہئے۔صوبائی وزیر ملک نعمان احمد لنگڑےا ل نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہاکسانوں کی پےداواری لاگت کم کی جائے گی ،مڈل مےن کا کردار ختم کیا جائے گا اور کسان کو براہ راست منڈی تک رسائی دی جائے گی۔بھارت مےں کسانوں کو زراعت کے شعبے مےں لاتعداد سہولتےں حاصل ہےں جن کے سبب بھارت زراعت مےں بھاری فوائد سمےٹ رہا ہے۔اگر پاکستان مےں بھی بھارت کے برابر سہولیات دی جائےں تو پاکستان کی زرعی پےداور کو تین گنا حد تک بڑھاےا جا سکتا ہے۔پاکستان کے حالیہ معاشی مسائل پر بھی زراعت کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے کےونکہ پاکستان کی اکثریت آبادی کا دارومدار زراعت پر بالواسطہ ےا بلاواسطہ ہے،جب کسان مضبو ط ہو گا تو ہماری مجموعی معیشت بھی سنبھل جائے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے جب ’کٹے‘ اور مرغی کی بات کی تو اس کا اپوزیشن اور میڈیا نے خوب مذاق اُڑاےا ،جبکہ ہم وہ بادہ کش ہےں جو مفت خوری کے عادی بن چکے ہےں ،ہماری سےاسی قےادت نے جمہوریت کے نام پر اےسے ڈاکے ڈالے ہےں کہ اومنی گروپ،جعلی بےنک اکاو¾نٹس اور جعلی ناموں سے بےرون ملک سے کروڑوں اربوں ڈالرز منگوائے ہےں کہ پوری قوم کسی شارٹ کٹ کے انتظار مےں رہتی ہے۔قےادت زےادہ دولت کے نشے مےں مست ہے اور عوام ان سےاسی قائدین کی محبت کے نشے مےں مسحور سڑکوں پر دما دم مست قلندر کی تھاپ پر دھمال ڈال رہے ہےں۔
خبرےں گروپ کو اس شاندار کسان مےلے اور قومی زرعی کانفرنس کے کامےاب اور با مقصد انعقاد پر مبارکباد پےش کرتا ہوں ،مےں بنےادی طور پر دےہاتی ہوں اور کسا ن فےملی سے تعلق رکھتا ہوں ،اس لئے حقیقی طور پر سمجھتا ہوں کہ کسان کن مسائل کا عذاب جھیل رہا ہے۔مےرے جنوبی پنجاب کے کسان کے مسائل تو وےسے بھی زےادہ ہےں کےونکہ ان کے فنڈز تو لاہور مےں ہی لگتے رہے ہےں۔مےں سمجھتا ہوں کہ ”خبرےں گروپ“ نے کسانوں کی وکالت کا جو وعدہ کیا ہے،اس کو ذمہ داری سے پورا کرتا رہے گا۔دوسرے صوبوں مےں بھی اےسی کسان کانفرنسےں منعقد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا ،جس سے عوام اور حکومت ان وعدوں کی تکمیل کے لئے حکومت پر دباﺅبڑھاتے رہےں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!