Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Kahan Kahan Pirati hai Justajoo e Rasool

اس میں تو کوئی شک ہی نہیں، کہ تمام ماہ وسال اللہ تعالیٰ کے ہیں مگر بعض ایام کو بعض ایام پہ فضیلت ہوتیہے ، اور اسی طرح فتح مکہ کا سال اور تقسیم برصغیر میں ہمارے ملک پاکستان کے قیام کا سال 1947 لوگوں کی نظر میں مقام فضیلت رکھتا ہے ۔ ایسے جیسے جمعے والا دن باقی ہفتے بھر کے دنوں پہ فضیلت رکھتا ہے ، رجب کے مہینے کی آمد کا حضورﷺ شدت سے انتظار فرماتے، کیونکہ رجب کے مہینے کو حضورﷺ آمدِ رمضان سمجھتے تھے، اور اس مہینے میں وہ زیادہ سے زیادہ روزے سے ہوتے تھے ۔ قارئین آپ کو یہ بھی پتہ ہوگا، بلکہ ہرمسلمان یہ بات جانتا ہے کہ فرمانِ خالق، اللہ واحد ہے کہ رسول پاک ﷺ کی اطاعت کرو، اور اللہ کی اطاعت کرو، کیونکہ رسول پاکﷺ کی اطاعت کرنا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا ہے ، کیونکہ حضورﷺ کی زبان مبارک ، محض ذات الٰہی سے کھلتی حتیٰ کہ سورة النساءمیں ارشاد الٰہی ہے کہ ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اسیلیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنیاد پر ان کی اطاعت کی جائے ، اگر انہوں نے یہ طریقہ اپنایا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پہ ظلم کربیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کےلیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے، کیونکہ سفارش رسولﷺ کو اللہ قبول فرماتا ہے ۔ اس آیت پہ عمل کرنا، صرف حضورﷺ کی زندگی تک محدود نہیں ہے ۔بلکہ قیامت تک کے لیے ہے ، جوکچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ لائے ہیں، اور جس طریقے سے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ورہنمائی کے تحت آپ نے عمل کیا ہے ، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان ایک سند ہے ، جو فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے ۔ اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہوتاہے ، حدیث پاکﷺمیں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش نفس اس طریقے کی تابع نہ ہوجائے، جیسے میں لے کر آیا ہوں۔قارئین کرام اس بات کو ایک سادہ سی مثال سے میں واضح کردوں ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بعض زائرین عمرے پہ جاتے ہوئے، براہ راست مکے میں حرم شریف نہیں پہنچ جاتے، بلکہ پہلے وہ مدینہ شریف جاکر روضہرسول ﷺ کے مزار اقدس پہ حاضری دیتے ہیں، اپنی غلطیوں کوتاہیوں اور لغرشوں کی معافی مانگ کر توبہ تائب ہوتے ہیں، تو روز قیامت شفاعت کرنے والے، زائر کو اس دنیا میں بھی اپنی شفقتوں اور دعاﺅں سے نواز کر، مکے شریف میں اللہ تعالیٰ کے حضور خانہ کعبہ میں بھیجتے ہیں، تاکہ ان کی دلی مرادیں برآئیں ، چالیس روز تک قبولیت دعا قائم رہتی ہے ۔قارئین کرام، اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو لاکھوں حجاج کرام کا حج محض ایک مخلص وبے غرض زائر کے طفیل قبول فرماتا لیتا ہے ، اسی لیے ہرمسلمان کو یہ فریضہ انتہائی اخلاص سے ادا کرنا چاہیے، جس میں نہ تو ریاکاری ہونی چاہیے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی خودغرضی کا دخل ہو۔ وگرنہ مفکرِ اسلام حضرت علامہ اقبالؒ کے فرمان کے مطابق

لاالہ مردہ وافسردہ وبے ذوق نمود!

چشمِ فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کو

کہ ایازی سے دگرگوں ہے مقامِ محمودخبر پڑھیں:ایران نے گھٹنے ٹیک دئیے

ہے تری شان کے شایان اسی مومن کی نماز

جس کی تکبیر میں ہو معرکہ بودونمود!

قارئین ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے، مسلمانوں کو ہرساعت ہرلمحے اور ہروقت پہ قدم بہ قدم راہ نمائی کے لیے لاکھوں پیام بربھیجے، دنیا کے ہرگوشے ہرخطے، اور ہرعلاقے میں، غوث قطب، ابدال اور اولیائے کرام بھیجے، جنہوں نے کفر کے گڑھ میں بھی اللہ واحد لاشریک کے پرچم کو بلند سے بلند تر کرنے کی دل وجان سے سعی کی، اور پھر اذن الٰہی سے لاکھوں، کروڑوں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے کفروالحاد میں تبلیغ دین کے لیے دل وجان سے کام کیا۔ کہیں کسی ولی نے نماز معکوس ادا فرمائی، کوئی مہینوں روزے سے رہے، اور کوئی روزوشب ، فکر معاش کو بھول کر توکل الٰہی کی تونگری سے مالا مال ہوئے۔

قارئین کرام، اُس وقت ہم مسلمانوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ، اور اس کے حبیب پاکﷺ کی قدر اتنی زیادہ تھی کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ پوری امت مسلمہ کے صدق وایثار سے صرف اور صرف یارغار حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا صدق کہیں زیادہ ہے ، اور ایسا کیوں نہ ہوتا، کہ ان کی تربیت براہ راست حضورﷺ نے خود فرمائی دنیا بھر میں چپے چپے میں ارضِ چین سے لے کر قطبین تک جو پیام بر اور اولیائے کرام پہنچے ، ان سب کا اخلاص متقاضی عشق وغلامی رسولﷺتھا، اور جستجو رسول ﷺ میں وہ رنگ ونسل سے پرواہ اور بے غرض ہوگئے، کہ ہم نے دیکھا کہ سلطان و شہنشاہ ہندوستان نے اپنی لخت جگر شہزادی کو ایک جھونپڑی نشین کے عقد میں دے دیا، جو لق ودق صحرا میں ہزاروں میل دورتھا، لیکن قارئین آپ حیران ہوں گے، کہ عقیدت واحترام نبی ﷺ کے تحت اپنی لخت جگر شہزادی کو ایک فقیر درویش کے نکاح میں دے دیا اس پر شہزادی اپنی جگہ پر بادشاہ اپنی جگہ پہ خوشی سے پھولے نہ سمائے، کہ ان کی رشتہ داری اس شخصیت سے ہوگئی ہے کہ جن کا تعلق ونسبت براہ راست رسول پاکﷺسے ہے ، بقول اقبالؒ

خرد دیکھے اگر دل کی نگاہ سے

جہاں روشن ہے نورلاالہ سے


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!