Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Kabi Maula Ali RA , Khaiber e Shikan Ishq ! “

 معزز قارئین!۔ کل (24 رجب اُلمرجب ، یکم اپریل کو) دُنیا بھر کے مسلمانوں نے ’’ یوم فتح خیبر‘‘ منایا اور ’’فاتح خیبر ‘‘ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خراجِ عقیدت پیش کِیا۔ حضرت علی ؑ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام حیدرؔ بھی ہے ، جس کے معنی ہیں ۔’’ شیر ‘‘۔ پاکستان کی واحد ایٹمی اسلامی ریاست ،پاکستان میں سب سے بڑا فوجی اعزازہے ۔ ’’ نشانِ حیدر‘‘۔ 7 ہجری میں پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ و آلہ وَسلم کی قیادت میں ، مدینہ منّورہ سے دو سو میل شمال میں یہودیوں کا قلعہ خیبرؔ (قموص ) فتح کرنے کے لئے لشکر ِ اسلام نے پہلے 40 دِن تک حضرت ابو بکر صدیق  ؓ اور پھر حضرت عمر فاروق  ؓ کی قیادت میں جدوجہد کی لیکن قلعہ فتح نہ ہوسکا۔

پھر وحی ٔ الٰہی کے مطابق ۔ حضور پُر نُور ؐ نے ایک دِن اعلان فرمایا کہ ’’ کل لشکرِ اسلام کا عَلم ایک ایسے مجاہد کو دِیا جائے گا جو مردِ میدان بھی ہے اور کرّار ؔ اور غیر فرّارؔ بھی۔ ( یعنی۔ بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والا اور کبھی مُنہ نہ موڑنے والا) ہے اور اللہ اور اُس کے رسول ؐ  بھی اُس سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔ صبح ہُوئی ، حضرت علی ؑ آشوبِ چشم میں مُبتلا تھے ۔ حضور ؐ نے اپنا لعاب دہن آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں پر ملا اور لشکر کا عَلم آپ ؑ کو عطا فرمایا۔ قلعہ کا فولادی دروازہ بہت وزنی تھا اور بہت گہرا اور چوڑا۔ خندق پار کر کے اُس کے پاس پہنچا جاسکتا تھا ۔ حضرت علی ؑ نے ایک ہی جست میں خندق کو پار کرلِیااور زورِ خُدا سے دروازے میں اپنی انگلیاں گاڑ کر اُس کی چُولیں ہلا دِیں اور ایک کو اَڑا کر خندق پر پُل بنا دِیا۔

لشکرِ اسلاؔم اُس پُل سے قلعے میں داخل ہوگیا۔ یہودی پہلوان (جرنیل) مرحبؔ اور عنترؔ جو، ہزاروں فوجیوں کا مقابلہ کرنے میں مشہور تھے ، حیدر کرّار ؔ، حضرت علی ؑ کی ایک ایک ضرب سے ہی واصلِ جہنم ہوگئے۔ غیر مسلم مؤرخین نے بھی حضرت علی ؑ کو جنگِ خیبرؔ کا”Hero” قرار دِیا ہے ۔ معزز قارئین!۔ قدیم یونان میں دیوتائوں کے منظورِ نظر اور مافوق اُلفطرت خصوصیات کے حامل شخص اور کسی نظم ، تمثیل یا کہانی کے خاص مرکزی مردانہ کردار کو “Hero” کہا جاتا تھا اور قدیم ہندوستان میں سُورما (مہا بلی یا جنگجو ) کہا جاتا تھا ۔ 

10 اپریل 2017ء کو روزنامہ ’’92 نیوز‘‘ کا اجرا ہُوا تو، 11 اپریل 2017ء کے میرے کالم کا عنوان تھا ۔’’ مولا علی ؑ اور ذُولفقارِ علی ؑ!‘‘جس میں مَیں نے لکھا کہ ’’۔ بھارت کے صوبہ ہریانہ کے قدیم شہر ’’ کورو کیشتر‘‘ میں ہزاروں سال پہلے ایک ہی دادا کی اُولاد کوروئوں اور پانڈوئوں کی جنگِ عظیم ’’ مہا بھارت‘‘ ہُوئی ۔ دورانِ جنگ ، شرِی کرشن جی نے اپنی بہن ’’ سُبھادرا‘‘ کے شوہر پانڈو ہِیرو ۔ارجُن کو جو اُپدیش ( خُطبہ) دِیا ۔ وہ ہندوئوں کی مقدس کتاب ’’ گِیتا‘‘ کہلاتی ہے ۔ ارجُن ۔ شرِی کرشن جی کا پھوپھی زاد اور شاگرد تھا ۔ بہت ہی زیادہ عالم ، فاضل ، مہا بلی ؔ(بہادر اور جنگ جُو ) شرِی کشن جی نے اپنے شاگرد ۔ ارجُن کے لئے۔ ’’ ستھِت  پرتگّیہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ۔ جِس کا مطلب ہے ۔ ’’ بہت زیادہ عالم و فاضل اور بہت ہی بہادر اور جنگ جُو شخص ۔ 

حضرت علی ؑ نبی اکرم ؐ کے چچا زاد ہیں ، داماد اور شاگرد بھی۔ حضور پُر نُور ۔ مدینۃ اُلعِلم ہیں اور حضرت علی ؑ ’’باب اُلعلم‘‘ ۔  تاریخ اسلام میں اُن سے بڑا ’’ ستھِت  پرتگّیہ‘‘ اور کون ہے؟۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خُطبات کا مجموعہ ’’ نہج اُلبلاغہ ‘‘ کا دُنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ حضرت علی ؑ سے کسی نے پوچھا کہ ۔ ’’ آپ بے خطر جنگ میں کود پڑتے ہیں ۔ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا؟‘‘۔ آپؑ نے جواب دِیا کہ ۔ ’’ موت علی ؑ پر گِر پڑے یا علی ؑ موت پر ، ایک ہی بات ہے لیکن، فرزندِ ابو طالبؑ موت سے ہر گز بھاگنے والا نہیں ، اِس لئے کہ موت خُود زندگی کی محافظ ہے ‘‘۔

 عربی زبان کے لفظ ’’مولا ‘‘ کے معنی ہیں ۔ ’’ مدد گار ، آقا ، سردار ، اور رفیق ‘‘لیکن، عجیب بات ہے کہ بعض مسالک کے مسلمان اپنے محلّے کی مسجد کے امام صاحب کو تو ’’ مولانا ‘‘ کہتے ہیں لیکن، ولیوں کے سردار اور رسول ؐ  کو ’’مولا ‘‘ کہنے سے شرماتے ہیں ؟ ۔ علاّمہ اقبالؒ نے اپنی ایک نظم میں کہا کہ …

بغضِ اصحابِ ثلاثہ ، نہیں اقبال ؔکو!

دِق مگر اِک خارجیؔ آ کے مولاؔئی ہُوا!

نجف ؔ ۔ عراق کا ایک شہر ، جہاں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا روضہ شریف ہے۔ اپنی ایک اور نظم میں علاّمہ اقبالؒ نے فرمایا کہ …

نجفؔ، میرا مدینہ ؔہے، مدینہ ہے میرا کعبہؔ!

مَیں بندہ اور کا ہُوں، اُمّتِ شاہ ولایت ہُوں!

معزز قارئین!۔ مَیں نے اپنے 11 اپریل 2017ء کے کالم میں اپنا ایک خواب بیان کِیا تھا کہ ’’ ستمبر 1983ء کو مَیں نے خواب میں ایک خشک دریا میں قدم رکھا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ دلدل ہے۔ میرا جِسم آہستہ آہستہ دلدل میں دھنسا جا رہا تھا۔ اچانک میرے مُنہ سے از خود ۔ ’’ یاعلی ؑ !‘‘ کا نعرہ بلند ہُوا ۔ مجھے ایسا محسوس ہُوا کہ کِسی “Crane” نے مجھے دلدل سے نکال کر کنارے پر اتار دِیا ۔ مجھے ایک آواز سُنائی دی کہ ۔ ’’ تُم پر مولا علی ؑ کا سایۂ شفقت ہے‘‘۔ پھر مَیں نے اپنی اردو اور پنجابی نعتوں اور منقبتوں میں ’’ باب اُلعلم ‘‘ (علم کا دروازہ / پنجابی میں بُوہا علم دا ) اور مہا بلی کی حیثیت سے مولا علی ؑ کا تذکرہ تیز کردِیا ۔ ایک نعت کے دو بند ہیں …

سَرچشمہ ، حُسن و جمال ، دا!

کِسے ڈِٹھّا نہ ، اوسؐ دے نال دا!

ربّ گھلّیا ، نبیؐ ، کمال دا!

مَیں غُلام ، اوسؐ دی ، آل رضی اللہ عنہ دا!

…O…

بُوہا ؔعِلم دا ، تے مہاؔبلی!

اوہداؐ جانِشین ، علی ؑ وَؔلی!

جیہڑا ، ڈِگدیاں نُوں، سنبھال دا!

مَیں غُلام ، اوسؐ دی ، آل ؑ دا!

مولا علی رضی اللہ عنہ کی ایک منقبت کا مطلع اور دو بند یوں ہے …

نبی ؐ  آکھیا سی ، وَلیاں دا وَلی مولا!

جیِہدا نبیؐ مولا ، اوہدا علی رضی اللہ عنہ مولا

’’اسرار اسمائے علی مرتضیٰ ؑ ‘‘کے عنوان سے علاّمہ صاحب ؒ کی فارسی نظم کے دو شعروں کا ترجمہ یوں ہے کہ ’’ جو مسلمان اپنے بدن کے گھوڑے پر زِین کس لیتا ہے ، وہ سلطنت کی انگوٹھی میں نگینے کا درجہ حاصل کرلیتا ہے ۔ اِس دُنیا میں فتح خیبرؔ کی شان و شوکت اُس کے پائوں کے نیچے ہوتی ہے اور وہاں اُس کا ہاتھ آب کوثر تقسیم کرتا ہے ۔ عاشق ِ رسول ؐ علاّمہ اقبالؒ نے اپنی ایک رُباعی میں فرمایا کہ …

معزز قارئین!۔ شارح اقبالیات ،مولانا غلام رسول مہر ؔ ؒ اِس کی شرح یوں کرتے ہیں کہ ’’ عشق کبھی تو پہاڑیوں کی تنہائی پسند کرتا ہے، جہاں کسی سے واسطہ نہ پڑے ۔ کبھی وہ محفل اور اُس کے سوزو سرُور کی طرف مائل ہو جاتا ہے ، کبھی محراب اور منبر کو زینت بخشتا ہے ۔ یعنی ۔ امام اور خطیب بن جاتا ہے ۔ کبھی حضرت علی ؑ کی طرح خیبر کا قلعہ توڑ کر رکھ دیتا ہے‘‘ ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!