Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” justice khosa Aur Tashreeh Uraniat “

یہ اعزاز بھی حضورﷺ کے دین کو حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے فلاحی مملکت کا تصور اسلام نے دیا،اور حضورﷺ کے اس تصور پہ عمل پیرا ہوکر اور عرب وعجم کی سرحدوں کو کمال وسعت پذیری سے پھیلا دینے اور زیرنگیں علاقوں کی بہتات کے باوجود معاشی واقتصادی ترقی کا یہ عالم تھا کہ سبھی زکوٰة دینے والے تھے، اور رعایا میں ڈھونڈے جانے کے باوجود مستحق زکوٰة ایک بھی نہیں مِلتاتھا۔ اس کے بعد جب سے دور ملوکیت کا بدقسمتی سے آغاز ہوا، تو بس پھر اس کسب کمال میں بتدریج زوال پذیری آتی گئی ۔ اور اب صورت حال یہ ہے، کہ ریاست مدینہ کا نام لے کر اسی ہزار خودکشیاں کروانے کا اعزاز اپنے نام کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت، اسلامی مملکت خداداد پاکستان کی بدحالی کا یہ عالم ہے، اور احکامِ اسلامی سے رُوگردانی کے سبب کروڑوں پاکستانی ناروے، ڈنمارک اور سویڈن جیسے ملکوں کو للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں، کیونکہ ان ممالک نے جنہوں نے حضرت عمرؓکے قانونِ حکومت کو اپنایا، اور اب نہ وہاں بے روزگاری ہے، اور نہ معاشی خواری ہے بلکہ ضروریات زندگی سے لے کر انصاف تک رعایا کی دہلیز پہ ملتا ہے، جبکہ یہاں یہ عالم ہے، چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ یہ کہنے پہ مجبور ہوئے کہ پاکستان کی عدالتوں میں مقدمات کی جو بھرمار ہے، اورسترسال تک مقدمہ بعض اوقات چلتا رہتا ہے، وہ جعلی گواہان کی بدولت ہے۔ یہاں تو یہ عالم ہے، ملکی خزانے کو نچوڑنے اور رعایا کو جھنجھوڑنے، بلکہ بار بار عوام سے قربانیاں مانگنے والے حکمرانوں کی ناقص حکمت عملی کے سبب ، سیب ،ٹماٹر، آلو، پیاز وغیرہ مہنگے ہوگئے ہیں، اور آئندہ ہفتوں میں کئی گناہ زیادہ روزمرہ ضروریات زندگی ،اور تیل کی قیمتیں بڑھانے کی نوید سنا کر لوگوں کی بلکہ اپنی رعایا کی چیخیں نکالنے کی وزراءبات کرتے ہیں، اوروزیراعظم ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مہنگائی ضرور بڑھ گئی ہے، مگر یہ بتدریج کم ہوتی جائے گی۔عوام کے اعصاب پہ شاہ محمود قریشی ، اور جہانگیر ترین جس میں اب چیف جسٹس صاحب کی عدالت کی توہین کی بھی باتیں شروع کردی گئی ہیں مگر یہ امر پختہ ہے کہ دانستہ اور غیردانستہ کہی گئی یہ زبان درازی، مستقبل بعید میں تحریک کے خلاف ایک تحریک کا روپ دھار لے گی۔ گزشتہ بیس سال سے مسلسل یہ راگ الاپنے کا کیا فائدہ کہ نواز شریف نے پاکستان کے 300ارب لوٹے ہیں ، اور عمران خان، سب کچھ کرسکتے ہیں، مگر کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ اب عوام کا مطالبہ ہے کہ 300ارب وصول کرنے کا کوئی بھی وقت وزیراعظم ہمیں بتائیں، ورنہ اس انتخابی نعرے کی گردان خدارا بند کردیں، اس کی بجائے عملاً سوئس حکام کو خط لکھیں کہ پاکستان سے سیاستدانوں کی لوٹی ہوئی رقم واپس کریں، مگر افسوس تو یہ ہے کہ عتیقہ اوڈھو پہ فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے، جبکہ اس اسلامی ملک میں ہزاروں ٹن دیسی اور بدیشی شراب سرعام ملتی ہے، اور لاکھوں کروڑوں عوام شراب کے ، اور حکمران اقتدار کے نشے میں بدمست ہوجاتے ہیں، اور کئی تو یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، چاہے، اصلی ہو یا نقلی بجلی کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی پہ نئی وزارت جس پہ اربوں روپے وارے جارہے ہیں تاکہ غریبوں کا خاتمہ کیا جاسکے، اور قتل کا مقدمہ بھی درج نہ ہوسکے، اس کے علاوہ پیمراکے اختیارات ، عریانی کی تشریحات ، میری چیف جسٹس کھوسہ صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی معیاد ملازمت میں یہ تشریح بھی کرہی دیں تاکہ عوام اپنے بچوں اور نئی نسل کے مستقبل کو بچا سکیں، مگر معلوم نہیں عدالت عظمیٰ مختلف ضروری مقدمات کے فیصلہ جات کی عمل درآمدات کی پالیسی اور توہین عدالت کی بے توقیری کا کیا بنا ؟دراصل بات یہ ہے کہ جب اپنے مذہب کو پسِ پشت ڈال کر قانون بھی ”درآمدی“ ہوجائے تو عوام گھرکے رہتے ہیں، نہ گھاٹ کے، حالانکہ کہا جاتا ہے کہ مذہب تمام خوبیوں کا ماخذ ہے، بقول اقبال ؒ مذہب اسلام تو یہ ہے کہ

یہ زندگی ہے نہیں ہے طلسم افلاطون

عناصر اُس کے ہیں، روح القدس کا ذوق جمال

اب آئیے آپ کو ماضی کی طرف لے جاﺅں، اپنے ملک کے پانچ سالہ اقتدار کے مزے لوٹنے والے رُخ تاباں آفتاب شیر پاﺅ کے اس ظلمت زدہ رُخ کو دیکھئے ان سے سوال کیا گیا تھا ، کہ آپ نے 80لاکھ ڈالر کس مد میں اپنے پاس رکھا ہوا ہے، تو جواب ملا ”اوکھےسوکھے وقت “ کیلئے جو حکمران مسلمان ہونے کے ناطے یہ سمجھ کراور یہ کہہ کر اقتدار ملنے سے پہلے تقریر کرتے ہیں کہ اگر کوئی کتا بھی دریا کے کنارے بھوک سے مرجائے تو روز محشر وہ خالق کے حضور جوابدہ ہوگا، مگر حاکم کمال ہنر مندی سے ڈالر کی قدروقیمت بڑھا کر ٹرمپ کی نظروں میں اپنی قدر بڑھانا چاہتے ہیں، اور مودی سے اس بات کی جواب طلبی نہیں کرتے اپنے دریا خشک اوربنجر کرادیتے ہیں، کیونکہ بندوں کی ”خیر“ ہے، کتا کوئی نہیں مرنا چاہیے، اور حاکم سرعام اور پس زنداں بھی کتوں بلکہ کتے کے بچوں کے ساتھ تصویریں اترواتے باز نہیں آتے، اور ملکی پیسے سوئٹزرلینڈ میں جمع کرادیتے ہیں واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں بھی پاکستان کی طرح چار سے زیادہ بولیاں بولی جاتی ہیں۔سرحدیں بھی ہماری طرح مختلف ممالک سے ملتی ہیں بلکہ وہاں کی حکومت نے تو یہ کہا ہے کہ یہ ناجائز رقم عوام میں تقسیم کردی جائے گی۔مگر مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے دست وگریبان نہیں ہوتے، مقام صد حیف ہے کہ اسلامی مملکت کو فلاحی مملکت میں بدلنے کے لیے ہمیں اسلاف کے کارناموں اور تعلیمات کے بجائے غیروں کے آئینے میں اپنا منہ دیکھنا پڑے گا، ….یا پھر سمندر سے تیل نکالنے کے ”لارے“ کے بجائے شاہ محمود قریشی، اور جہانگیر ترین کے تنازعے کو انتہا تک پہنچا کر عوام کو اُلجھادیا جائے، تاکہ اپنی ”لٹ“ کو سلجھایا جاسکے، حضرت اقبالؒ کے شعر کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ۔

غلط نگر ہے تری چشم نیم باز اب تک

ترا وجود ترے واسطے ہے راز اب تک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!