Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Jhooty Mudayee , Jhooty Gawahan – Lamhaye Fikaria

جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرہ میں جھوٹ کی لعنت اس قدر پھیل چکی ہے کہ ہر معاملہ خواہ کاروباری ہو‘ عدالتی ہو یا دیگر امور سے تعلق رکھتا ہو جھوٹ کا استعمال عام ہوگیا ہے۔ انگریز کے بنائے ہوئے قانون میں جھوٹ کی سزا بہت معمولی ہے۔ تھانوں میں جھوٹی رپورٹ ابتدائی درج کرانے کا رواج عام ہوگیا ہے یا تو رپورٹ ابتدائی سراسر جھوٹی ہوگی یا اس میں جھوٹ کی کافی حد تک ملاوٹ ہوگی۔دفعہ 154 ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس افسر پابند ہے کہ جرم قابل دست اندازی کے متعلق کوئی رپورٹ آئے تو رپورٹ ابتدائی مرتب کرے اور اس کے بعد تفتیش کرے اور جرم ناقابل دست اندازی پولیس کی صورت میں زیر دفعہ 155 ضابطہ فوجداری روزنامچہ میں رپورٹ درج کرے اور رپورٹ کنندہ کو روزنامچہ میں درج رپورٹ کی نقل دے کر عدالت میں چارہ جوئی کی ہدایت کرے۔ رپورٹ ابتدائی ایک شخص کا بیان ہے اگر سچا ہے تو رپورٹ ابتدائی بھی سچی ہوگی اگر جھوٹا ہے تو رپورٹ ابتدائی بھی جھوٹی ہوگی۔ یہ تفتیش کرنے والے پولیس افسر پر منحصر ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ کو کس طرح علیحدہ کرتا ہے۔ رپورٹ ابتدائی پر مقدمہ درج ہوجاتا ہے تو مدعی اور الزام علیہان کا مقابلہ شروع ہوجاتا ہے۔ مدعی کی کوشش ہوتی ہے کہ رپورٹ ابتدائی کی تائید ہو خواہ اس میں جھوٹ کی ملاوٹ ہو اور الزام علیہان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ انصاف ہو۔
اب اس موقع پر اگر پولیس افسر ایماندار اور فرض شناس ہو تو وہ اپنی ذہانت سے کام لیتے ہوئے مقدمہ کو حقائق پر نپٹائے گا لیکن اگر پولیس افسر بے ایمان اور نالائق ہوگا تو تفتیش تبدیل کرانے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔ بے گناہ الزام علیہان جیل میں پڑے رہیں گے اور مقدمہ کی تفتیش تبدیل ہوتی رہے گی ۔چالاک اور ہوشیار مدعی کی سرتوڑ کوشش ہوگی کہ تفتیش تبدیل کرانے اور دیگر ایسے ہتھکنڈے استعمال کرے کہ الزام علیہان کا وقت زیادہ سے زیادہ جیل میں گزرے۔ 1979ءکی بات ہے کہ میں کمالیہ میں سب ڈویژنل پولیس افسر تعینات تھا ،ان دنوں کمالیہ ضلع فیصل آباد کی سب تحصیل تھی۔ ایس ایس پی فیصل آباد نے مجھے ٹیلی فون کیا کہ تھانہ پیر محل کے ایک مقدمہ جرم 365 تعزیرات پاکستان کی فائل بھیج رہا ہوں اس مقدمہ کی تفتیش کرکے انصاف کریں۔ دوسرے روز مجھے فائل موصول ہوئی میں نے فائل کا بغور مطالعہ کیا مقدمہ کو درج ہوئے ایک سال گزر چکا تھا اور اس میں تین اشخاص الزام علیہان گرفتار ہوکر دس ماہ سے جیل میں بند تھے۔ ان کیخلاف مدعی نے رپورٹ ابتدائی میں تحریر کرایا تھا کہ اس کے لڑکے بعمر 16 ‘ 17 سال کو ان ملزمان نے اغوا کرکے کہیں چھپایا ہوا ہے اس مقدمہ کی تفتیش مجھ سے پہلے تین پولیس افسر کرچکے تھے ان میں دو کی رائے یہ تھی کہ الزام علیہان نہایت ہوشیار اور پختہ کار ہیں جو مغوی کی موجودگی کے متعلق کوئی انکشاف نہیں کررہے۔
میں نے اس مقدمہ کے مدعی کو بلوایا اس نے آتے ہی ہاتھ جوڑ کر رونا شروع کردیا کہ وہ ایک سال سے دھکے کھا رہا ہے پولیس اس کا بیٹا برآمد نہیں کررہی، میں نے اس سے اغوا کا سارا واقعہ پوچھا تو وہ مجھے مشکوک لگا اور اس کا ہاتھ جوڑ کر رونا ایک ڈرامہ اور مصنوعی لگا۔ میں نے اس کو تسلی دی کہ ملزمان سے پوچھ گچھ کرکے ان شاءاللہ لڑکا برآمد کرینگے۔ دو روز بعد علاقہ مجسٹریٹ سے اجازت لے کر میں نے جیل میں تینوں ملزمان سے علیحدہ علیحدہ انٹروگیشن کی ، انٹروگیشن کے دوران مجھے یقین ہوگیا کہ تینوں ملزمان اس مقدمہ میں بے گناہ ہیں۔
یہ میرے لئے بڑا ہی کٹھن مرحلہ تھا کہ حقائق کو بھی سامنے لانا ہے اور مدعی کو بھی مطمئن رکھنا ہے۔ ذراسی بے اعتمادی پر وہ پھر میرے پاس سے بھی تفتیش تبدیل کرانے کو تیار ہوجائیگا۔اب میں نے اس کو اعتماد میں لینے کیلئے اس کے ساتھ مصنوعی دوستی شروع کردی۔ تفتیش کے دوران مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اس نے اپنے مخالفین کو ذلیل کرنے کیلئے اپنے بیٹے کو خود کہیں چھپا کر مخالفین کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ میں نے اس کو کرسی پر بٹھا کر چائے وغیرہ پلانی شروع کردی آہستہ آہستہ وہ میرے اعتماد میں آتا گیا جب میں نے سمجھا کہ اب وہ مجھ پر مکمل اعتماد کرنے لگا ہے تو میں نے اسے کہا کہ میں سر توڑ کوشش کررہا ہوں کہ آپ کا لڑکا برآمد ہوجائے ،میں اس کا بیان تحریر کرکے ملزمان کو عمرقید کی سزا دلواﺅںگا لیکن اگر لڑکا جلدی برآمد نہ ہوسکا تو ملزمان کی ضمانت ہوجائےگی آپ بزرگوں سے دعا کروائیں کہ آپ کا بیٹا دشمنوں کے چنگل سے نکل کر آ جائے۔ دوسرے دن سویرے سویرے وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک بزرگ سے دعا کروائی ہے انہوں نے حوصلہ دیا ہے کہ آپ کی مشکل جلد حل ہوجائے گی اور ساتھ ہی کہنے لگا کہ سر جی میرا بیٹا مل جائے تو میں آپ کو خوش کرونگا۔ میں نے اس کو مزید اعتماد میں لینے کیلئے کہا کہ بیٹا مل گیا تو کرلیں گے، اسے مزید کہا کہ کسی بڑے بزرگ کے دربار پر بیٹھ کر دعا کریں۔ دو دن کے بعد میرے پاس آیا اور کہا کہ میں نے دو بزرگان کے درباروں پر جاکر رو رو کر دعا مانگی ہے گزشتہ رات ان میں سے ایک بزرگ مجھے خواب میں ملے ہیں جنہوں نے خوشخبری سنائی کہ تمہارا بیٹا بہت جلد دشمنوں کے قبضہ سے چھوٹ جائے گا، اب میں نے اسے کہا گھر جاکر ایک بکرے کا صدقہ کرے وہ چلا گیا۔ اب میں پرامید تھا کہ یہ مکمل میرے اعتماد میں آگیا ہے اب کام جلدی ہوجائیگا۔ تین دن کے بعد دس بجے دن کے قریب میرے پاس آیا دور سے مجھے سلام کرکے کہا، سر جی مبارک ہو بزرگوں کی دعاﺅں سے میرا بیٹا دشمنوں کے شکنجہ سے نکل کر بھاگ کر آج صبح سویرے گھر پہنچ گیا ہے۔ میں نے کہا وہ کدھر ہے، کہنے لگا ساری رات دوڑتا رہا ہے تھکا ہوا تھا آتے ہی سو گیا ہے۔ میں نے اسے کہا جلدی جاکر اسے لاﺅ، مجسٹریٹ کے پاس اس کا بیان کروانا ہے اب تیرے دشمن جیل سے ساری عمر باہر نہیں آئیں گے۔ لیکن اسے جلدی لے آﺅ کہیں ایسا نہ ہو کہ مخالف پارٹی میرے سے تفتیش تبدیل کرالے پھر میرے اختیار میں کچھ نہیں رہے گا۔
وہ چونکہ میرے اعتماد میں آچکا تھا اور مجھے اپنا سچا ہمدرد سمجھ رہا تھا چلا گیا اور 4 بجے شام اپنے نام نہاد مغوی بیٹے کومیرے پاس لایا ۔میں نے اس کے بیٹے کو پیار کیا اور کرسی پر بیٹھنے کو کہا، اب میں نے اس کے باپ کو کہا کہ آپ چلے جائیں میں نے لڑکے کا بیان تحریر کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ آپ میری موجودگی میں میرے بیٹے کا بیان تحریر کریں لیکن میں نے اسے چلے جانے کو کہا وہ اٹھ کر چلا گیا ۔ میں نے اس سے کہانی پوچھی تو اس نے رٹا رٹایا بیان سنادیا کہ فلاں فلاں اشخاص مجھے نشہ آور چیز پلا کر لے گئے دور دراز علاقے میں ایک کمرہ میں بند کر دیا ۔ صبح شام کمرے کا دروازہ کھول کر مجھے روٹی دے دیتے گزشتہ رات عشاءکے بعد کمرے کے پیچھے لگی ایک لکڑی کی کھڑکی کو توڑ کر بھاگ پڑا ایک گھنٹہ کی مسافت پر پختہ سڑک آگئی پھر ایک بس آگئی اس میں بیٹھ کر اڈا رجانہ آگیا اس کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ سب کچھ جھوٹ بول رہا ہے۔ دوبارہ بیان سنا تو کافی تضاد تھا لڑکا بھی کوئی زیادہ پختہ ذہن کا نہیں تھا چند کراس سوالات کئے تو اس کا چہرہ پسینے سے شرابور ہوگیا بالآخر وہ سچ اگلنے پر آگیا۔ اس نے بتایا کہ عرصہ تین سال ہوئے مخالف فریق نے ہمارے خلاف جھوٹا پرچہ کروایا تھا ہم دو سال ذلیل و خوار ہوتے رہے ہم نے ان سے بدلہ لیا ہے والد نے مجھے سکھر میں میری پھوپھی کے پاس بھیج دیا اور مخالفوں کیخلاف اغوا کا پرچہ در کروادیا اب والد کے کہنے پر میں آگیا ہوں جو بیان انہوںنے مجھے پڑھایا وہ بتا دیا ہے لیکن بعد میں اب میں نے سچ بتادیا ہے ۔اب میں نے اس کے والد کو بلوایا میرے تیور بدل چکے تھے اب وہ میرے سامنے ایک مظلوم نہیں بلکہ جھوٹا انسان تھا کرسی پر بیٹھے لگا میں نے اسے کہا کہ کرسی پر مت بیٹھو تم کرسی کے قابل نہیں ہو قصہ مختصر اس نے بھی سچ بتلا دیا اورمعافی مانگنے لگا۔ میں نے ضروری کارروائی کرنے کے بعد تینوں ملزمان جو تقریباً دس ماہ سے بے گناہ جیل میں سڑ رہے تھے مقدمہ سے ڈسچارج کراکے جیل سے رہا کرایا۔
قارئین کرام ہمارے معاشرہ کا یہ حال ہے تین اشخاص جھوٹے مقدمہ میں دس ماہ بے گناہ جیل میں بند رہے۔ جھوٹے مدعی کیلئے کوئی سزا نہیں جو معمولی سزا ہے اس سے بھی وکیل حضرات جھوٹے مدعی کو بچا لیتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ اس طرف خصوصی توجہ دے رہے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں جھوٹ اس قدر رچ بس چکا ہے جس کو ختم کرنے کیلئے من حیث القوم سخت محنت کی ضرورت ہے۔ میں نے تو ایک معمولی واقعہ بتایا ہے اس سے زیادہ سنگین واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ جھوٹے مدعی ‘ جھوٹے گواہان‘ نااہل اور بددیانت پولیس افسران کی وجہ سے سینکڑوں بے گناہ جیلوں میں پڑے ہیں بلکہ کئی بے گناہ لوگ اس سسٹم کی خرابی کی وجہ سے سزائے موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اس کے خاتمہ کیلئے پولیس افسران خاص طور پر جو تفتیشوں کی نگرانی کرتے ہیں عدالتیں اوروکلاءحضرات بہتر رول ادا کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!