Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Jhoot, Afwahain Aur Social Media

ہر سوسائٹی میں ایسے سفلہ مزاج لوگ ہوتے ہیں جن کا محبوب مشغلہ بے پرکی اڑانا اور غلط افواہیں پھیلانا ہوتا ہے۔ ایسی افواہیں خاندان‘ قبیلوں بسا اوقات قوم کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں یکم اپریل کے روز بولے جانے والے جھوٹ کی وجہ سے بے شمار لوگوں کی زندگیاں برباد ہو جاتی ہیں۔ مغرب سے نکلنے والی اس قبیح رسم کے تحت یکم اپریل کو دروغ گوئی کر کے کسی کو مذاق کے نام پر دھوکہ دینا یا بے وقوف بنانا‘ اور اذیت دینا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے بلکہ کسی کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کرنا بھی کمال مہارت قرار دیا جاتا ہے۔ جو شخص جتنی ایکٹنگ اور چابکدستی سے دوسروں کو گھمائے گا‘ اتنا ہی ذہین و فطین سمجھا جائے گا۔ شریعت محمد میں اس چیز کی کوئی گنجائش نہیں کہ تہذیب کے دائرے کو عبور کرتے ہوئے انٹرٹینمنٹ کے نام پر خلافِ مروت بات کی جائے۔سوشل میڈیا کے سحر میں سب گرفتا رہیں‘ جو ویڈیو یا پوسٹ نظر سے گزر جائے بغیر تحقیق کیے اسی کو قبلہ تصور کرتے ہوئے‘ من و عن قبول کر لیتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں فرق یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں خبر باوثوق ذرائع سے نشر کی جاتی ہے جبکہ سوشل میڈیا بے لگام ہے۔ جہاں مستند ذرائع تو دور کی بات بعض خبریں اخلاقیات کی حدود و قیود سے بھی آزاد ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال بُرا نہیں ہے۔ اگر ہم خود اسے بُرا نہ بنائیں۔افواہوں کی بہت سی اقسام ہیں ۔ ایک تویہ ہے کہ رشتوں میں بگاڑ پیدا کرنے کی غرض سے شرانگیزی کی جائے۔ تو لیجئے قارئین سوشل میڈیا کی ویب سائٹ صفِ اول ہے۔ اس وقت پاکستان میں 30 ملین سے زائد لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں۔ جعلی آئی ڈیز بنا کر نفرت کا پرچار کیا جارہا ہے۔ جدید ترین سروے کے مطابق 66% طلاقیں سوشل میڈیا کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ وکلاءکا کہنا ہے کہ طلاق ہونے کا جب سبب دریافت کیا جاتا ہے تو زیادہ تر سوشل میڈیا ہی وجوہات میں شامل ہوتی ہے۔ افواہوں کی اقسام میں سے ایک قسم وہ ہے کہ من گھڑت الزامات پر مبنی پوسٹ کے ذریعے جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جائے اور سیاسی انتشار اور بے چینی کو ہوا دی جائے۔ اس میں سیاست دانوں‘ بیوروکریٹس‘ اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کی ذاتیات پر حملے کیے جاتے ہیں‘ پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ جانور تو جانور سبزیوں مثلاً آلو وغیرہ پر سیاست دانوں کی مشابہت دلوائی جاتی ہے۔ ایک پارٹی منفی سرگرمیوں اور افواہوں سے مخالف پارٹی کو داغ دار کرتی رہتی ہے کہ اس پارٹی نے یہ کہہ دیا وہ کر دیا حالانکہ حقیقت اس سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ ایسی افواہوں کا مقصد یہ ہے کہ عوام کسی نتیجہ پر نہ پہنچیں اور ملک بہتر قیادت سے محروم رہے۔ بعض افواہیں خوش فہمیوں کے پس منظر سے ابھرتی ہیں۔ مثلاً ہر سال بجٹ سے پیشتر پاکستان میں سرکاری ملازمین کی تنخوا ہوں کے بارے میں کئی خوش کن افواہیں پھیلتی ہیں۔ ملازمین مسحورکن کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں جب بجٹ آتا ہے تو حکومت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ کچھ افواہیں تجسس پیدا کرنے کے لئے معرضِ وجود میں آتی ہیں۔ مثلاً آسمان سے آناً فاناً بوڑھی پری گری اور مرگئی۔ اس کے علاوہ شارجہ کے ساحل پر نظر آنے والی جل پریاں ان کے متعلق افواہ پھیلی کہ بالائی دھڑ ایک حسین عورت کا جبکہ نچلا دھڑ مچھلی کا ہے۔ اس ضمن میں فوٹو گرافر نے کاری گری سے مچھلی اور عورت کی تصویروں کی پیوند کر کے فوٹو انٹرنیٹ پر وائرل کر دی۔ ان افواہوں کا مقصد لوگوں کے اذیان اور قلوب کو مسخر کرنا ہے۔ افواہوں کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ حوصلہ شکنی کی جائے مثلاً سوشل میڈیا پر بہت سی ایسی ویڈیوز بھی اپ لوڈ کی جاتی ہیں جن کا مقصد کسی بھی ملک یا معاشرہ کی منفی باتوں کو پروموٹ کر کے عام آدمی کو اس سے متنفر کرنا ہوتا ہے۔بعض ویڈیوز مذہبی جذباتیت کو بڑھانے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔بہت ساری ایسی ویڈیوز ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت غیبی بزرگ کر رہے ہیں یا سرحدوں کی حفاظت معجزا نہ طور پر سبز چولے والے بزرگ سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ افواہیں مذہبی جذباتیت کا شکار نظر آتی ہیں۔افواہ سازی کے میدان میں ایک حقیقت تو یہ ہے کہ جتنی بڑی افواہ ہوتی ہے اس کی تردید بھی اتنی ہی مقتدر شخصیت کو کرنا پڑی ہے۔ جس سے ابہام دور ہوجاتے ہیں مگر سوچیئے کہ گھروں اور معاشرے میں ہونے والے نزاعات کا تصفیہ کون کرے گا؟ ایک دوسرے پر الزام تراشی اور شکوک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دراڑوں کو کو ن پُر کرے گا؟ وقت کی پکار ہے کہ ہم پہلے خبر کی تصدیق کریں اور اس کے بعد اس کو قبول کریں ہو۔ سکتا ہے کہ کوئی جھوٹ بول رہا ہو اور ہم مشتعل ہو کر ایسی کاروائی کر بیٹھیں جس پر خوفناک نتائج مرتب ہوں اور پھر ساری عمر فرط ندامت سے کف افسوس ملتے رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!