Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Jab Tak Zinda Hoon “

اپنے ملکی ہیجان اور عوام کو پریشان دیکھ کر تو میں گھنٹوں ٹھوڑی پر سر ٹکائے حضرت علامہ اقبالؒ والا انداز اپنا لینے پر مجبور ہو جاتا ہوں مگر اللہ تبارک و تعالی، فکر و فلسفے کی خداداد صلاحیت منتخب لوگوں کو ہی عطا کرتا ہے، مجھ جیسے کروڑوں عوام تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیںکہ وزیراعظم عمران خان کو کس عمل نے ”فاٹا“ تک محدود کر دیا ہے، اور مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آتی، کہ کیا کورٹ مارشل کے ملزم جنرل اسد درانی کو سزا ملے گی؟ یا وہ ہائی کورٹ سے رعایت لینے میں کامیاب ہو جائیں گے، کوئی مجھے یہ بھی سمجھا دے کہ جنرل عبداللہ نیازی قاتل پاکستان اور جنرل یحییٰ خان کو وفات تک کسی بھی مقتدر ادارے نے قابل جواب دہ نہیں سمجھا، مشرقی پاکستان میں اگر جنرل عبداللہ نیازی کوبری الذمہ قرار دے دیا جائے، تو ان کے اس کردار کو کیونکر فراموش کیا جا سکتا ہے کہ جس کی بنا پر حسینہ واجد درجنوں محب وطن پاکستانیوں اور خصوصاً جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کو پھانسی پر لٹکا دینے پر ذرا تامل نہیں کرتی اور نہ ہی اس ضمن میں خود جماعت اسلامی اور حکومت خواہ کسی بھی جماعت کی ہو ذرہ برابر عالمی ادارہ انصاف سے رجوع تو درکنار احتجاج بھی کرتی ہو۔ اب اگر مسئلہ کشمیر پر تھوڑا سا غور کریں جہاں درجنوں شہادتیں روزانہ وقوع پذیر ہو جاتی ہیں، ہم نے اسے بھی معمول کی بات بنا دیا ہے مگر وزیراعظم کا یہ بیان دینا کہ مودی جیت گیا تو اس سے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کرنا آسان ہو گا۔ کیا یہ بیان دینا کشمیریوں کی پیٹھ پر چھرا گھونپنے کے مترادف نہیں؟ کیونکہ مودی اور کانگریس دونوں اس کو مثبت نہیں منفی سمجھیں گے اور ایسا سمجھنا قدرتی امر ہے کیا خدانخواستہ اس حوالے سے ہمارا کردار نیازی والا کردار تو نہیں؟ ایک دفعہ میرے دوست نواب شہزاد علی خان جن کے مشاغل میں میرے مرحوم ماموں رمضان خان جو صنعت و تجارت کے ادارے میں ڈائریکٹر جنرل تھے ریٹائر ہو جانے والی شخصیات جن میں صدور وزیراعظم اور کسی مشہور جنرل کے پاس جا کر ان سے گھنٹوں ملاقات کرنا شامل تھا۔بہرحال میں نواب زادہ کے ساتھ جنرل عبداللہ نیازی کو ملنے جو میرے گھر سے کچھ فاصلے پر رہتے تھے انہوں نے سر پر فوجی ٹوپی اور اس کے اوپر کسی بڑے پرندے کا پر لگایا ہوا تھا ہاتھ میں سودا سلف لینے والی پگڑی پہنی ہوئی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ اردگرد کے ماحول اور حالات سے بے خبر ہو کر قہقہے لگانے میں مسلسل مصروف تھے، اور جب ہم لوگوں سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے نہ ختم ہونے والے لطیفوں کا سلسلہ شروع کر دیا ان کی بظاہرزندہ دلی مگر عملاً مردہ دلی دیکھ کر میں حیران و پریشان ہو گیا کہ یہ شخص کروڑوں انسانوں کو رلانے والا کس قدر بے دردی سے قہقہے لگا رہا ہے؟ اسی لئے تو حکیم جالینوس نے کہا تھا کہ بیل کے قدموں کے ساتھ جس طرح پہیہ چلتا ہے اسی طرح بدکردار اور بدگفتار شخص کے ہمراہ اس کے کیفرکردار چلتے ہیں۔ کیفرکردار کہتے ہیں برے کام کا بدلہ، کیئے کی سزاپانااپنے کیئے ہوئے کام کا پھل اس اس حوالے سے میں نے متذکرہ بالا جو دو نام بتائے ہیں قارئین کرام کیا پاکستان میں یہ لوگ اپنے کیفرکردار کو پہنچے؟ وہ اس لئے نہیں پہنچے کہ ان کو کیفرکردار تک پہنچانے والے ”ہیت ترکیبی“ میں ایک جیسے ہیں۔مگر میرے ہم وطنو اس حوالے سے دو خبریں بڑی ہی حوصلہ افزاءہیں، ایک تو یہ کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک زندہ ہوں ملک کو لوٹنے والوں کو این آر او نہیں ملے گا اس بیان کا مثبت پہلویہ ہے کہ چونکہ آجکل حکومت کے جانے کی باتوں کی بازگشت سنائی جا رہی ہے لہٰذا دو ٹوک الفاظ میں عوام کو خوشخبری سنائی گئی ہے کہ ”جب تک زندہ ہوں“ لٹیروں کو معاف نہیں کرونگا۔الحمدللہ تحریک انصاف کے بارے میں عوام کے دلوں میں جو خدشات اور وسوسے پھیلنے شروع ہو گئے تھے ایک ہی بیان سے اس کا تدارک ہو گیا ہے کہ جب تک وزیراعظم کی زندگی ہے وہ حکومت کرتے رہیں گے اس حوالے سے اپوزیشن کو اپنی ”پوزیشن“ بدلنی پڑے گی جبکہ وزیراعظم کا یہ خیال ہے کہ کمزور اپوزیشن میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ بیان کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، شکر ہے کہ عمران خان نے یہ بات اردو میں کی ہے اگر خدانخواستہ یہ بیان وہ جذباتی ہو کر ”پنجابی“ میں دے دیتے تو ہم تو ایک دوسرے کو منہ دکھانے کے بھی قابل نہ رہتے۔ اس کے علاوہ دوسری خوشخبری یہ ہے کہ موبائل فون کارڈ پر تمام ٹیکس بحال کر دیئے گئے ہیں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ٹیکس معاملات میں مداخلت کریں گے نہ یہ درست ہے کہ کیس دوسرے بنچ پہنچ جائے تو پرانے حکم ناموں پر سوال اٹھیں، لاکھوں لوگوں سے ٹیکس لیا جا رہا ہے جن پر لاگو نہیں ہوتا، مشرقی پاکستان ”فلڈ ٹیکس“ 1990ءتک لیا جاتا رہا،…. یہاں میری رائے میں کئی سوال اٹھتے ہیں، موبائل فونز کارڈز پر ٹیکس لگانا بھی مداخلت ہے تو ٹیکس چھوڑنا بھی مداخلت ہے سپریم کورٹ سے بڑی ہماری کوئی ”عدلیہ عظمیٰ“ نہیں ایک چھوٹے سے مسئلے پر بھی اگر دونوں کی آراءمختلف ہے تو بڑے بڑے معاملات کا تعین کیسے ہو سکے گا، اور یہ کہ کھوسہ صاحب نے فلڈ ٹیکس کے خلاف کیوں عدلیہ سے رجوع نہیں کیا تھا؟سابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب جنہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ تمام اداروں کو وزراءسمیت وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کو احقر سمجھتے تھے۔ بلکہ دھمکی دیتے تھے کہ کیوں نہ آئندہ وزیراعظم کو بلا لیا جائے، ان کے سیاسی اکابرین سے رابطے بھی مشکوک رہتے، وہ نجانے کس موضوع پر مشورہ کرنے اکثر آصف سعید کھوسہ صاحب کے گھر بھی پہنچ جایا کرتے تھے اب اگر ان کے ایک چھوٹے سے فیصلے پر انگلی اٹھ رہی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا گیا ہے تو پھر بڑے بڑے فیصلے جس میں ایک منتخب حکومت کو چلتا کر دیا گیا ہے وہ قابل بحث نہیں؟سنا ہے اس دور عدلیہ عظمی کے سربراہ میں لاکھوں فیصلے فیصلہ طلب پڑے رہ گئے اور یہ بات کس قدر حوصلہ افزا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم نے چند مہینوں میں لاکھوں فیصلہ طلب مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں، فوجداری، اور دیوانی مقدمات کے فیصلوں کی اگر مدت مقرر کر دی جائے تے یہ کروڑوں ہم وطنوں پر احسان ہو گا کیونکہ موجودہ چیف جسٹس کھوسہ صاحب تو ”عمر بھر“ کے لئے نہیں آئے ان کے محض چند ماہ ”اقتدار انصاف و عدل“ کے رہ گئے ہیں امید ہے وہ غلامی امت کی نجات کے لئے ضرور کچھ نہ کچھ کر کے جائینگے۔ ان شاءاللہ


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!