Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Ishq Main Badi Barkat Hai !

میں تو ہمیشہ دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی کسی کو نصیحت نہ کرو اور اگر کبھی مجبوراً کرنا بھی پڑ جائے تو اتنے اچھے انداز میں کرو کہ دوسرا بدمزہ نہ ہو۔ میں نے ہمیشہ اسی اصول پر عمل کیا ہے اور اس کے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز میں نے ایک دوست، جو چین اسموکر ہے کو کہا ’’تم ارشاد کو جانتے ہو، جو تمہاری ہی طرح چین اسموکر تھا‘‘ بولا ’’ہاں ہاں کیوں نہیں‘‘۔ میں نے کہا ’’گزشتہ روز اس کا انتقال ہو گیا ہے‘‘۔ اس نے حیرت سے پوچھا ’’واقعی‘‘، میں نے جواب دیا ’’اور کیا‘‘۔ یہ سن کر اس نے ایک اور سگریٹ سلگایا، لمبا کش لیا اور کہا ’’بہت افسوس ہوا، اللہ اس کے درجات بلند کرے‘‘۔

ایک بٹ صاحب میرے دوست ہیں۔ وہ کھانے بیٹھتے نہیں، کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایک دفعہ میرا پورا دن ان کے ساتھ بسر ہوا، صبح وہ حلوہ پوری، کچوری اور جگ بھر لسی پینے کے دو گھنٹے بعد مالٹوں کی ایک ریڑھی کے پاس رکے اور کار سے اتر کر ریڑھی والے سے کہا ’’مالٹے کاٹ کر کھلائو‘‘ اس نے پوچھا ’’جناب کتنے مالٹے؟‘‘ بولے ’’تم بس کاٹتے جائو‘‘ پھر میری طرف دیکھا اور فرمایا ’’مالٹے ہاضمے کے لئے اچھے ہوتے ہیں‘‘۔ اس کے دو گھنٹے بعد انہوں نے کانجی کے دو گلاس پیئے اور مجھے بتایا کہ کانجی معدے کی گرمی مارتی ہے۔ دوپہر کو بڑے پائے اور کھد کے ساتھ چار نان نوشِ جاں کئے تو میرے صبر کی حد ختم ہو گئی میں نے کہا ’’بٹ صاحب، خدا کا خوف کریں۔ بلڈ پریشر آپ کو ہے، ذیابیطس کے آپ مریض ہیں، آپ کے دل کی دو شریانیں بند ہیں، کیوں اپنی جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں‘‘ خوش طبعی سے بولے ’’یار آپ تو خواہ مخواہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ میں ان امراض کو نیچا دکھانے کے لئے ادویات کا بیگ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہوں‘‘ یہ کہنے کے دوران انہیں کچھ گھبراہٹ سی محسوس ہوئی اور انہوں نے جیب سے انجائنا کی گولی نکال کر زبان کے نیچے رکھ لی۔ جب کچھ سکون ہوا تو مجھے بتانے لگے کہ ان کے والد کی خوراک ان سے دو گنا تھی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انہوں نے پچاس سال کی عمر طویل پائی۔ مجھے ان کی اس دلیل پر غصہ تو آیا، مگر ضبط کرتے ہوئے پوچھا ’’آپ نے پچاس کہا یا پچاسی کہا ہے؟‘‘ بولے برادر پچاس سال کہا ہے۔ الحمدللہ کھاتے پیتے فوت ہوئے۔ ایک دن بھی بیماری کا نہیں کاٹا۔ بس کرسی پر بیٹھے بیٹھے فوت ہو گئے۔

ایک شاعر دوست مجھے ہمیشہ بتایا کرتے تھے کہ اس وقت ان سے بڑا شاعر کوئی نہیں، جب انہوں نے پہلی دفعہ یہ کہا تو میں سمجھا کہ وہ ’’بُرا‘‘ نہیں ’’بڑا‘‘ کہہ رہے ہیں۔ میں اپنے اصول کے مطابق انہیں نصیحت کرنا چاہتا تھا کہ انسان خود کو بڑا کہنے سے نہیں، دوسروں کے بڑا ماننے سے بڑا ہوتا ہے مگر میں نے اپنے اصول کی پاسداری کے تحت خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ایک دن مجھے کہنے لگے ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ ساری دنیا میری شاعرانہ عظمت کی قائل ہے، ایک تم ہو جو نہیں مانتے‘‘۔ ایک دن مجھے احساس ہوا کہ وہ زیادہ غلط نہیں۔ دیکھا میں نے کہ بازار سے گزرتے ہوئے دکاندر اپنی دکان سے خود اٹھ کر انہیں سلام کرتے مگر میرے دوست عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا۔ موصوف نے ان سب کے پیسے دینا ہیں اور یہ جو ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے تھے تو اس میں یہ گزارش پنہاں ہوتی تھی کہ یار خدا کے لئے دوست کے سامنے میری عزت رکھا کرو۔

میرے ایک بزرگ دوست یعنی مجھ سے بھی زیادہ بزرگ صبح صبح اٹھتے ہیں اور رات کو بھی کم ہی سو پاتے ہیں۔ ان کے دوستوں کا ایک گروپ ماڈل ٹائون پارک سیر کے لئے جاتا ہے اور ہلکی پھلکی سیر کے بعد یہ گروپ ایک ٹولی کی صورت بیٹھ جاتا ہے اور محلے بھر کے راز ہائے دروں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ ایک دن انہوں نے اپنے گھر مدعو کیا۔ کیا عظیم الشان بنگلہ تھا۔ وسیع و عریض لان، قیمتی سامان سے آراستہ و پیراستہ مگر چھ کینال کی اس کوٹھی میں ہُو کا عالم تھا، نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ میں نے کہا برادر آپ کی فیملی کہاں ہے؟ بولے الحمد للہ تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور سب کے سب امریکہ میں سیٹلڈ ہیں۔ میں نے پوچھا ’’اور بیگم صاحبہ؟‘‘ بولے:وہ فوت ہو چکی ہیں۔ آپ حیران ہوں گے میں نے زندگی میں صرف اپنی بیوی کے ساتھ عشق کیا، اس کا دنیا میں کوئی نہ تھا مگر میں نے اس کے عشق میں ساری توجہ اس کی بیماری پر مرکوز رکھی۔ نہ کوئی ملازمت کی اور نہ کاروبار‘‘۔

میں سن کر حیران ہوا کہ ساری عمر کام بھی نہیں کیا اور اتنی بڑی جائیداد۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا کہ برادر جب آپ نے ساری عمر کچھ نہ کیا تو اتنی بڑی جائیداد کیسے بنائی؟ بولے ’’میں نے بتایا ناکہ وہ کینسر کی مریضہ تھی۔ ایک دن فوت ہو گئی اور اس کی ساری جائیداد مجھے مل گئی۔ اللہ اس کی مغفرت کرے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’بچے کبھی ملنے آتے ہیں؟‘‘ فرمایا ’’نہیں۔ مگر کئی بار ان سے فون پر بات ہو جاتی ہے۔‘‘ مجھے گھر کے سناٹوں سے اور موصوف کی باتوں سے خوف آنے لگا تھا۔ اس دن میں نے اپنے اصول کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں کوئی نصیحت نہیں کی۔ بس رخصت ہوتے ہوئے آہستہ سے کہا ’’دُر فٹےِ منہ تیرا بے غیرتا!‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!