Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

internet Dahshat Gard Ki Yalghar

میں روشنی کے چند مزید میناروں کی تلاش میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اگر کسی اندرونی یا بیرونی قوت نے پاکستان کا عالمی انٹرنیٹ رابطہ منقطع کرنے کی کوشش کی تو ہم چند ثانیوں کے اندر اپنے متبادل ذرائع سے یہ رابطہ مکمل طور پر بحال کردیں گے۔ یہ کہنا ہے برین نیٹ کے ڈائریکٹرز ڈاکٹر شاہد علوی اور باسط علوی کا۔ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے مگر میں ان پر یقین کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ برین کے بھائیوں نے پاکستان میں انٹرنیٹ کو فروغ دینے میں ان تھک محنت کی۔ اب ڈاکٹر شاہد علوی پاکستان کی بائیس انٹرنیٹ کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ تینوں بھائی دن رات جاگتے ہیں۔، دیگر کمپنیاں بھی ان کی دست و بازو ہیں۔ اور پاکستانی نیٹ ورک پر ہر لمحے ہونے والے ہزاروں حملوں کا تدارک کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر ملک کے حساس اداروں کے ڈیٹا کی حفاظت کو فول پروف بنا دیا گیا ہے۔ میں نے انہیں آئی ٹی کی دہشت گردی کے موضوع پر گفتگو کے لئے مدعو کیا تھا۔ ایک بھائی امجد علوی کہیں مصروف تھے،۔ اور عام آدمی تو عام آدمی ہے، کچھ دفاع کرنے کے قابل نہیں ۔ مگر اب تو بڑی طاقتیں بھی لرزہ بر اندام ہیں۔ صدر ٹرمپ کے الیکشن کو روسی صدر پوٹن پر ہیک کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ امریکی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔ گوگل، فیس بک،یو ٹیوب اور دیگر کمپنیوں کے مالکان امریکی محکمہ داخلہ اور دفاع کے ساتھ تعاون کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ صدر اوبامہ نے ان کو ایک اجلاس میں بلایا اور دھمکی دی کہ اگر ان اداروں کے مالکان نے حکومت کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ انہیں کسی نوٹس کے بغیر جیل میں بند کر دیں گے۔ ایسی ہی دھمکی سابق برطانوی وزیراعظم کو ان کمپنیوں کے مالکان کو دینا پڑی جب برطانیہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات معمول بن گئے اور ان کی وڈیو فلمیں بھی جنونیوں نے سوشل میڈیا پر ڈال دیں۔ اس میٹنگ میں بھی سوشل میڈیا کے مالکان نے یہی موقف اختیار کیا کہ وہ لوگوں کی اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتے تو برطانوی وزیراعظم نے طیش میں آ کر کہا کہ میں ابھی آپ سب کو اندر کر دوں گا۔ مگر اب برطانیہ کو اس امر کی تحقیقات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ بریگزٹ کی ووٹنگ میں فیس بک کے ذریعے لوگوں کی رائے بدلنے کی کوشش کی گئی تو اس اجلاس میں فیس بک کے مالک نے شمولیت سے انکار کر دیا، بھارت کا حالیہ الیکشن سوشل میڈیا کے بل بوتے پر لڑا جا رہا ہے اور لاکھوں جعلی اکائونٹس کے ذریعے سیاسی لیڈروں کے خلاف منافرت پھلائی جا رہی ہے یا کسی خاص پارٹی کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کیا جا رہا ہے۔ اس میں کسی کو اعتراض نہیں کہ ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے مگر اس رویئے کو قبول کرنا مشکل ہے کہ روبوٹس اکائونٹس کو بھی اظہار رائے کی آزادی دی جائے۔ یہ تو سراسر بے چہرہ، بے نام و بے نشاں مخلوق ہے جو صرف اور صرف پروپیگنڈے کی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ یہ بات بھی محل نظر ہے کہ سوشل میڈیا کے مالکان کو کون سا آئین اجازت دیتا ہے کہ وہ فرد کی آزادی اور اس کی نجی زندگی میں تانک جھانک کریں اور اس کی لمحہ لمحہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔ یہ کام موبائل فون کے ذریعے سرانجام دیا جاتا ہے، فون بند بھی ہو تو اس کے ذریعے گوگل جیسی کمپنیاں پرائیویسی کے حق پر ڈاکہ ڈالتی ہیں۔ ساری گفتگو سن سکتی ہیں، اسے ریکارڈ کر سکتی ہیں تصویر یا ویڈیو بنا سکتی ہیں اور یہ سب کچھ اپنے سرورز میں محفوظ کر کے انسانی زندگی میں مخل ہو سکتی ہیں، یہ کھلی دہشت گردی ہے جس کا کوئی توڑ نہیں سوائے اس کے کہ جواب میں وہی کچھ کیا جائے۔ چین کی ٹیکنالوجی سے امریکہ سٹپٹا اٹھا ہے۔ خلا میں سینکڑوں سیٹلائٹ گھوم رہے ہیں، ان کی آنکھوں سے بھی کوئی محفوظ نہیں۔ تہتر کی عرب اسرائیل جنگ میں امریکہ نے مصر اور شام کے راڈرز کو اندھا کر دیا تھا جس کی وجہ سے اسرائیل کو جارحیت میں برتری مل گئی۔ اور عربوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں بھارت نے واویلا مچایا کہ پاکستان نے اس کے خلاف ایسے ایف سولہ طیارے استعمال کئے جنہیں صرف دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لئے امریکہ نے دیا تھا، بھارت نے یہ مطالبہ بھی داغ دیا کہ امریکہ آئندہ ایسا کرنے سے پاکستان کو روکے یا پھر اس کے ایف سولہ کے نظام کو جام کر دے۔ بھارت کواس پروپیگنڈے میںمنہ کی کھانا پڑی کیونکہ اس کا یہ دعوی امریکہ نے مسترد کر دیا کہ پاکستان کا کوئی ایف سولہ بھارت نے مار گرایا ہے، مگر بھارت کو چپ کون کرائے۔پورا بھارت سوشل میڈیا پر پاکستان کو مغلظات سنا رہا ہے۔ میںنے کئی برس قبل آئی ایس پی آر کے اس وقت کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ سے کہا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ اب آپ کو روایتی جنگ لڑنا پڑے گی۔ میرا خیال تھا کہ آئندہ جنگ فون کی سکرین پر لڑی جائے گی۔ نوے میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو اسے سی این این کی سکرین پر لڑا گیا تھا۔ اب اس جنگ کا میدان بدل چکا ہے اور عالمی طاقتیں دوسروں کو زیر و زبر کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا محاذ چنتی ہیں ، اپنے ذہن میں عرب بہار کا منظر نامہ تازہ کیجئے۔ اس بہار کے جھونکے صرف سوشل میڈیا پر پھنکار رہے تھے ورنہ عرب دنیا میں اس کے سوا کوئی تبدیلی نہ آئی کہ ہر سو خزاں اور خون کے رنگ بکھر گئے۔ لیبیا سے لے کر مصر اور شام تک انسانی لاشے تڑپ گئے۔ پاک فوج آج روائتی، غیر روائتی۔ کولڈ اسٹارٹ یا ہاٹ اسٹارٹ ہر آپشن کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ اسے کسی محاذ پر چت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی اسی طرح سرخرو ہو گی جس طرح اس نے بھارت کامنہ توڑ کررکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد علوی نے کہا کہ آپ کو یہ یقین ہے کہ جنرل باجوہ درست کہتے ہیں کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اسی طرح شاہدعلوی کی بات پر بھی یقین کریں کہ اگر کسی نے پاکستان کو انٹرنیٹ دہشت گردی کا نشانہ بنایا، تمام زمینی یا سمندری فائبر آپٹک کیبلز کاٹ دی گئیں تو ہمارا نجی سیکٹر چند ثانیوں کے اندر پاکستان کا پوری دنیاسے ا نٹر نیٹ رابطہ بحال کر دے گا۔ اور یہ بھی یقین کر لیں کہ ملک کے دفاعی ڈیٹاسرورز کو بھی مکمل طور پر محفوظ بنادیا گیا ہے۔ میں خود انٹر نیٹ کے محاذ پر پچھلے چوبیس برس سے سرگرم عمل ہوں۔ اس لیے اپنے طویل تجربے کے پیش نظرمجھے ڈاکٹر شاہد علوی کے دعوے پر مکمل یقین ہے۔ مگر ایک الجھن در پیش ہے کہ علوی برادران مہینوں تک کسی کا فون نہیں سنتے تو کسی ایمر جنسی میں ان کے ساتھ کیسے رابطہ ہو گا۔ شاہد علوی نے کہا کہ اس وقت بھی جب ہم لوگ آپ سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ ہماری نظریں اپنے موبائل کی سکرین پر جمی ہیں جہاں ایک ایک لمحے کی رپورٹیں مل رہی ہیں۔ فکر نہ کیجئے۔ ہم فون سنیں یا نہ سنیں، مگر ایمرجنسی کی صورت میں ایک خودکار نظام حرکت میں آ جائے گا۔ چلئے جی جیسے ان کی مرضی!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!