Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Inteha Passandi Aur Dahshat Gardi Se Pak Pakistan

تعظیم ِ حرمین شریفین کانفرنس کے سلسلہ میں لندن میں تھا کہ اطلاع ملی کہ اہم ملکی امور پر سپہ سالارِ قوم، جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان علماء و مشائخ کے وفد سے یکم اور دو اپریل کو ملاقات کر رہے ہیں لہٰذا ان ملاقاتوں میں آپ کو نہ صرف شریک ہونا ہے بلکہ اگر کچھ تجاویز بھی آپ کے ذہن میں ہوں تو ضرور پیش کریں۔ راولپنڈی پہنچے تو تمام مکاتبِ فکر کے مقتدر علماء و مشائخ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے ہمراہ سپہ سالارِ قوم جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کیلئے جا رہے تھے، افواجِ پاکستان اور ملک کے سلامتی کے ذمہ داران نے علماء و مشائخ کا بھرپور استقبال کیا اور خود جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک ایک نشست پر جا کر مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ تلاوتِ قرآنِ کریم کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ سننے کیلئے پاکستان کے تمام طبقات ترس رہے تھے۔ مدارس کے امتحانی بورڈز کے ذمہ داران سے لے کر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین تک سب تحسین ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ دعائیں بھی دے رہے تھے کہ پاکستان کو انتہاء پسندی، دہشت گردی اور عسکریت سے پاک کرنے کا جو منصوبہ موجودہ حکومت بنا رہی ہے، جس میں ملک کے سلامتی کے ادارے، افواجِ پاکستان اور حکومت، سب نہ صرف ایک پیج پر ہیں بلکہ ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ عملی اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور سپہ سالارِ قوم جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کے بعد یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مدارس کے نصاب سے لے کر مسلح جماعتوں کے خاتمے تک ایک واضح پالیسی مرتب ہو چکی ہے، مدارس کے امتحانی بورڈز کے ذمہ داران مفتی منیب الرحمٰن، پروفیسر ساجد میر، حافظ نیاز حسین نقوی، قاری حنیف جالندھری، مولانا عبدالمالک، سب اپنی بات واضح انداز میں پیش کر رہے تھے اور حکومت کا مؤقف بھی واضح طور پر سامنے آرہا تھا اور دونوں جانب کے خیالات تقریباً سو فیصد ایک ہی جیسے تھے۔الحمدللہ یہ بات خوشی اطمینان اور راحت کا سبب ہے کہ حکومت افواجِ پاکستان، ملکی سلامتی کے ادارے، سب مدارسِ عربیہ و مساجد کے کردار سے نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ مساجد و مدارس کی تعلیم کے حوالہ سے کوششوں کو بھی سراہتے ہیں اور کسی بھی صورت مدارس و مساجد کے نظام میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے بلکہ مدارس کو مزید مضبوط بنانے کے خواہشمند ہیں اور مدارس کا بہت پرانا مطالبہ تسلیم کر رہے ہیں کہ مدارسِ عربیہ کی رجسٹریشن وزارتِ تعلیم سے منسلک کر دی جائیگی اور مدارسِ عربیہ میں جدید تعلیم کیلئے اساتذہ کی تنخواہیں بھی حکومت ادا کرے گی۔ان ملاقاتوں میں اس تاثر کو بھی ختم کیا گیا کہ حکومت صرف مدارس کے نظامِ تعلیم میں اضافہ چاہتی ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاق وزیر تعلیم شفقت محمود نے بار بار یہ بات کہی کہ ہم ایک قوم، ایک نظامِ تعلیم چاہتے ہیں اور اسی کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ مدارس کے نصاب میں جدید تعلیم کے مضامین شامل کرنے کا قطعی مقصد یہ نہیں کہ جو نصاب مدارس میں پڑھایا جا رہا ہے اس میں کوئی مداخلت کی جائے۔ ملکی حالات کے تناظر میں اگر یہ بات کہی جائے کہ ملک کی موجودہ حکومت عسکری قیادت اور سلامتی کے ادارے اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ ملک میں مسلح اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے والی جماعتوں کیلئے اب کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ بات حقیقت اور اظہر من الشمس ہے کہ 1980سے افغانستان کے جہاد سے شروع ہونی والی جہاد کے نام پر تحریکیں پورے عالمِ اسلام اور دنیا کیلئے مسائل و مصائب کا سبب بن گئی تھیں اور ابھی تک ان کے واضح اثرات اور اقدامات چل رہے ہیں، پاکستان چونکہ افغانستان کے ساتھ متصل ہے تو پاکستانی قوم بھی ان مسائل و مصائب کا نشانہ بنی اور 80ہزار سے زائد پاکستانی ایک ایسی جنگ میں جو قطعی ہماری نہ تھی، کا نشانہ بن گئے۔ عالم اسلام کے اکثر ممالک عسکریت سے پاک ہو چکے ہیں، مملکت سعودی عرب ہمارے سامنے ہے، جہاں پر وزیر داخلہ امیر نائف اور ان کے بعد ان کے صاحبزادے اور سابق ولی عہد امیر محمد بن نائف نے جو اقدامات کئے، آج ان کی وجہ سے سعودی عرب عسکری تنظیموں اور ان کے کارکنان سے مکمل طور پر محفوظ اور خالی ہو چکا ہے اور موجودہ حالات میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان سعودی عرب کو اعتدال اور اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرنے کیلئے ہر طرح سے آ گے لا رہے ہیں، جو ایک مستحسن قدم ہے۔ جہاد بلا شبہ اسلام کا حصہ ہے اور کوئی بھی مسلمان جہاد کا منکر نہیں ہو سکتا، لیکن جس انداز سے جہاد کے نام کو استعمال کرکے امت مسلمہ کیلئے مسائل و مصائب پیدا کیے گئے، قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس طرح کے جہاد کا تصور بھی اسلام میں نہیں ہے۔پاکستان کو مسلح جتھوں اور جماعتوں سے پاک کرنے اور مدارسِ عربیہ کے نصاب میں جدید تعلیم کو شامل کرنے، مدارسِ عربیہ کو وزارتِ تعلیم سے منسلک کرنے کے جو اقدامات حکومت کرنے جا رہی ہے اس کی مکمل تائید حکومت کو مذہبی طبقہ سے حاصل ہے، ان ملاقاتوں کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم، مولانا پیر نقیب الرحمٰن، ڈاکٹر یٰسین ظفر، حضرت مولانا فضل الرحیم، ڈاکٹر راغب نعیمی، حافظ نیاز حسین نقوی اور دیگر اکابرین ایک ہی بات پر متفق نظر آئے کہ اگر حکومت انتہاء پسندی، دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ کر چکی ہے تو پھر ہم سب حکومت کے ساتھ ہیں۔ الحمدللہ علماء و مشائخ نے تو ماضی میں بھی کبھی کوتاہی نہیں کی۔وزیراعظم، سپہ سالارِ قوم اور ملکی سلامتی کے ادارے ایک قوم، ایک نظامِ تعلیم کے نفاذ کیلئے اور عسکری، فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے والے گروہوں اور جماعتوں کے خاتمے کیلئے عادلانہ منصفانہ جو بھی اقدامات کریں گے، قوم ان کے ساتھ ہو گی۔ اللہ کریم رحم فرما دیں اور جو ارادے اور وعدے ان مجالس میں ہوئے ان کو تمام ذمہ داران اگر پورا کریں تو ان شاء اللہ پاکستان بہت جلد انتہاء پسندی، دہشت گردی، فرقہ وارانہ تشدد اور عسکریت سے پاک ہو جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!