Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Humare Ansoo Kaon Khushk Kare Ga ?

A Land like no other سالوں بعد ایک بار پھر خون مےں نہا گئی ہے۔ دنےا کے نقشے پر کسی نازنےن کے رخسار پر گرے خوبصورت آنسو کی صورت دکھائی دےنے والے اِس قدرتی حسن سے مالامال ملک سری لنکا کا مغربی ساحلی شہر نگمبوNegomboاس کا دارلخلافہ کولمبو جن کے خدوخال کے حُسن پر کہےں پُرتگےزوں اورکہےں انگرےزوں کے عکس انھےں بہت دلکش بناتے ہےں۔ نگمبو کاSt.sebastianچرچ آنکھوں کے سامنے آگےا ہے۔مہرالنساءاور میں ڈچ فورٹ خوبصورت رومن کےتھولک چرچوں اور سی سٹرےٹ کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے کرتے نڈھال ہوچکی تھےں۔ چرچ سامنے تھا۔عبادت ہورہی تھی۔اندر داخل ہوکر چوبی بےنچوں پر بیٹھ گئیں۔ بچے،عورتےں،مرد گےت گارہے تھے۔کِسی نے نہےں روکاٹوکا۔ کِسی نے ہم سے کچھ نہےں پوچھا۔بس مسکراہٹےں بکھےریں ،ہےلو ہائے کیا۔ انہی خوبصورت دلوں کے حامل لوگوں کو مےں روتے ہوئے نم آنکھوں سے دےکھتی ہوں۔ ایک خاتون بلبلاتے ہوئے کہہ رہی ہے۔
” ہمارے آنسو کوئی خشک نہےں کرسکتا۔“
اُس اُدھےڑ عمر کی کانپتی آواز کیسے کلیجہ چیر گئی ہے جو کہتی ہے مےں اب کبھی چرچ نہےں جاسکوں گی۔اور وہ بوڑھا جو روتے ہوئے اپنا نوحہ سنا رہا ہے۔ مےرا بےٹا مر گےا ہے اور مےرا جہان لٹ گےا ہے‘۔ مجھے ےاد آےا ہے کہ اسلام آباد سرینا ہوٹل میں مصر کے قومی دن کی تقریب کا اہتمام تھا۔یہ غالباََ اکتوبر 2010 ءکے آخری ہفتہ کی بات ہے۔پاکستان میں متعین مصری سفیر عزت مآب عامر مگدی جو اپنے مُلک کے ایک بے حد فعال سفیر کے طور جانے جاتے تھے اس وقت ابھی اپنی سفارتی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوئے تھے۔استقبالیہ پر معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔لاہور سے بُشریٰ رحمٰن اور میں دونوں اس تقریب میں شرکت کیلئے گئی تھےں۔سریناہوٹل کے وسیع و عریض خوبصورت ہال میں بہت سے مُلکوں کے سفیر اپنی بیگمات کے ساتھ موجود تھے۔سفارت خانے کی تقریب میںپاکستان کی ممتاز شخصیات بھی موجودتھیں۔ یہیں سری لنکا کے سفیر کی بیگم سے ملاقات ہوئی مجھے اب ان کا نام یاد نہیں آ رہا ہے۔بات پاکستان کے ابتر حالات سے شروع ہوئی۔دہشت گردی کا بھی ظاہر ہے حالات کی خرابی میں بڑا نمایاں کردار ہے۔وہ بڑے متحمل انداز میں بولیں۔ان کے لہجے میں حالات کے متعلق مثبت انداز میں بات کرنے کا جو انداز تھا وہ میرے حسابوں بڑا تقویت دہ تھا۔
سری لنکا بھی تو ایسی ہی گھمن گھیریوںمیں سے گزرتا رہا ہے۔1954 ءمیں سنہالیوں اور تاملوں کے جو جھگڑے شروع ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کی حق تلفی،محرومیوں،نا انصافیوں اور ایک طبقے کا دوسرے طبقے پر غالب آنے کے الزامات۔ پھر تامل ٹائیگرز کی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے آغاز نے مُلک میں خانہ جنگی جیسے منفی حالات پیدا کردیئے۔جب وہ بات کرتی تھیں اپنے سفرسری لنکا کے دوران چند واقعات میرے ذہن کے فلیش بیک سے جھانکنے لگے تھے۔ ہم لوگ کینڈی سے نویرا علیہ جا رہے تھے۔جب راستے میں دو عمر رسیدہ عورتوںکو پیدل چلتے دیکھا ۔اُن کے سر پر اےندھن کے چھوٹے سے گٹھے تھے۔ دھوپ میں تیزی اورحبس کی سی کےفےت تھی۔میں نے اپنی گاڑی کے ڈرائیور سے کہا کہ وہ گاڑی روک کر ان عورتوں کو بٹھالے۔گاڑی میں مَیں اور میری دوست ہی تھیں۔ ہماراڈرائیور عقےدے کے اعتبار سے بدھ تھا۔اُس نے فی الفور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔ ”توبہ کیجئے ۔یہ تامل ہندو عورتیںہیں۔بڑی شَرپسند قوم ہے۔ کیا پتہ بیٹھتے ہی گاڑی میں دھماکہ کر دیں۔ایسی نیکی مجھے نہیں کرنی۔“
انورادھا پور میں وہ تامل نوجوان لڑکا جس سے میری بہت سے موضوعات پر باتیں ہوئیں۔لڑکے نے جوشیلے لہجے میں کہا تھا۔ احتجاج اور ہتھیار جب اُٹھائے جاتے ہیں تو ان کے پسِ منظر میں معاشروں کے اندر پلنے والی محرومیوں،نا انصافیوںکے عناصر ہوتے ہیں۔سنہالیوں نے ہمیں انسان نہیںسمجھا۔تامل لوگ کتنے غریب ہیں۔کتنے دُھتکارے ہوئے ہیں۔سری لنکا کی کِسی ایک حکومت کا نام لیجئے جس نے اُنہیں اُن کے حقوق دئیے ہوں۔اقتدار کو تو اُنہوں نے اپنی جاگیر بنا لیا ہے ۔
مےرے لئے ےہ مقام حےرت تھا کہ جب گھر کے اندر سے اےک سےدھی سادھی خاتون جس کے بالوں کا کس کر بنا ہوا جوڑا اس کے ماتھے کی کشادگی کو کچھ زےادہ ہی نماےاں کرتا تھا ہمارے پاس آکر بےٹھی اور اُس نے ےہ بات نہاےت شُستہ انگرےزی لہجے مےں کی۔مےں اندر بےٹھی آپ لوگوںکی باتےں سُن رہی تھی۔مےںکولمبو ےونےورسٹی مےں سنہالی زبان کی اُستاد ہوں ۔ دراصل ساری بات روےوں کی ہے۔سنہالی اکثرےتی طبقہ جس سےاسی،معاشی اور آئےنی قدم کو اپنے مفادات کے ساتھ ٹکڑاتا ہوا دےکھتا تھا۔اس پر پرتشّدد روےے کا اظہار کرتا۔سالومن بندرانائےکے جےسے متوازن سوچ رکھنے والے اےک ہر دلعزےز لےڈر کو انہی بدھ انتہا پسندوں نے قتل کےا۔ زبان کا مسئلہ تو اےک چھوٹا اےشو ہے۔سماجی سطح پر جب برتر اور کمتر والا طرز عمل ہوگا۔سےاسی سطح پر نمائندگی سے محرومی ہوگی۔تعلےمی مےدان مےں آگے بڑھنے کے چانس نہےں ہوں گے۔ےہی بندرانائےکے ،مےتھو،سورےا مارکر جےسے خاندان غرےبوں کے مونڈھوں پر سوار اور پردھان منتری بنے رہےں گے تو پھر ےہی کچھ ہوگاجو ہورہا ہے۔مجھے لگا جےسے مےرے ملک کا کوئی غرےب بلوچی،سندھی ےا پختون اِن چےموں،چٹھوں ،ملکوں ،زردارےوں کا ستاےا ہوا ہاری اپنے دل کا زہر اُگل رہا ہے۔
تےسری دنےا کے خوفناک المےے۔
لڑکا پکّاپکّا مجھے علےحدگی کا حامی اور سنہالےوں کا بےج مار دےا جانا چاہےے جےسی آرزو کا پالنے والا جان پڑا۔تھوڑی سی ماضی کی جانکاری سے ےہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں نسلی گروہوں کا تعلق بنےادی طور پر ہندوستان سے ہے۔سنہالی شمالی ہندوستان سے کوئی چھٹی صدی مےں جزےرے پر آئے جبکہ تامل جنوبی حصّوں سے تےن صدی قبل مسےح کے ےہاں ڈےرے ڈال بےٹھے تھے۔سنہالی عقےدے کے اعتبار سے بدھ جبکہ تامل ہندو تھے۔دونوں گروہ غلبے کےلئے ہمہ وقت جنگ و جدل مےں جُتے رہتے تھے۔ پہلے پرتگالےوں نے پھر ڈچ قوم نے اور اس کے بعد انگرےزوں نے جزےرے کو غلام بنا لےا۔1948مےں آزادی کے بعد اقتدار کی رسہ کشی پھر شروع ہوگئی۔
سری لنکا پر ہلکی پھلکی باتےں ہونے لگی تھےں۔ مذہبی لحاظ سے ےہ چار خانوں مےں بٹا ہوا ہے۔ بدھ، ہندو، عےسائی اور مسلمان۔ سرکاری مذہب بدھ ہے۔ تامل اور سنہالی اہم زبانےں ہےں تاہم انگرےزی ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ مسلمان آبادی کا تقرےباً 9% ہےں۔ اور خاصے با اثر ہےں۔ مقامی لوگوں کے لباس بھی تقرےباً ان کے مذہبی عقائد کے مطابق ہےں۔ بُدھ عورتےں عام طور پر اپنی قومی ائےر لائن کی ائےر ہوسٹس جےسا ٹخنوں کو چھوتا تنگ سا کسی قدر ساڑی نما پہناوا پہنتی ہےں۔ عےسائی عورتےں بلاﺅز اور سکرٹ ۔ ہندو عورتےں ساڑھی اور مسلمان عورتےں شلوار قمےض اور حجاب ۔ ہندو عورت کی اےک واضح نشانی اسکی بندےا بھی ہے۔ جو بدھ عورت نہےں لگاتی۔ سری لنکا کے ساحلی شہرجافنا میں مسلمانوں کی آبادی ففٹی پرسنٹ ہے۔ کاروباری لحاظ سے یہ بڑے مضبوط اور امن پسند لوگ ہیں۔ تامل ٹائیگرز کے دہشت گردوں نے اکتوبر 1990 ءمیںصرف دو گھنٹوں کے نوٹس پر اُنہیں اُن کے گھروں سے بے گھر کر کے پورے مُلک میں لاءاینڈ آرڈرLaw and orderکی بدترین صورت پیدا کردی تھی۔کےنڈی میں بہت سے بے گھر لوگوں سے ملاقات ہوئی اور ان کے دُکھ سُنے تھے۔
بڑے درد ناک عذابوں کے بعد اُن کے مُلک میں سکون ہوا تھا۔وہ خوش تھیں اور پاکستان کیلئے محبت بھرے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی تھیں۔
”گھبرائیے نہیں۔قومیں ابتلا کے دور سے گزرتی ہیں۔تب گھٹا ٹوپ اندھیرے ہی ہر سمت نظر آتے ہیں۔پھر انہی اندھیروں میں سے اُمید کی کرنیں پھوٹتی ہیں اور ہر سمت روشنی ہو جاتی ہے۔پاکستان کیلئے ہماری ڈھیر ساری دُعائیں ہیں۔“
مگر کیا کرےں ہماری تو راتےں اتنی لمبی ہوگئی ہےں کہ ختم ہونے مےں نہےں آرہی ہےں۔چند دن پہلے کوئٹہ مےں جو ہوا اور اب سری لنکا کے شہروں مےں جو ہوا وہ رُلا دےنے والا ہے۔ ان چار دنوں مےں جیسے کوئی مےرے دل مےں وسوسے سے جگاتا اور کہتا تھا۔ پروردگار ہم مسلمان بہت ہی بدنام ہوگئے ہےں۔ خداےا اس المناک حادثے مےں کہےں مسلمان نہ ملوث ہوں۔سری لنکن مسلمانوں کی کچھ تعداد تنگ نظر ہے ۔مجھے اس کا تجربہ بھی تھا۔تاہم پھر بھی خیال تھا کہ شاےد تامل پرانی دشمنی کا بدلہ لےنا نہ چاہتے ہوں۔ مگر جو سُننے کو ملا اس نے دل دہلا دےا ہے۔ایک تو اِس کمبخت داعش کو اللہ سمجھے ۔بڑا شوق ہے اِسے ہر معاملے مےں کُود پڑنے کا۔اب لنکن مسلمانوں کی توحید جماعت کے بارے بھی سُن رہے ہےں کہ وہ حملے کروانے کی ذمہ دار ہے۔ اور کہا جارہا ہے کہ یہ نےوزی لےنڈ حملوں کا ردّعمل ہے۔
اب یہ حقےقت بھی عیاں ہوئی ہے کہ انٹےلی جنس کی رپوٹیں بتارہی ہےں کہ حملوں بارے اطلاعات تھےں مگر لاپروائی برتی گئی۔کےا ایسا قصداً کےا گےا کہ انڈیا نواز عناصر اِس حادثے کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑنا چاہتے تھے۔کےونکہ یہ طے شدہ بات ہے کہ مقامی تعاون کے بغیر باہر کی کوئی دہشت گرد تنظیم کچھ نہےں کرسکتی ہے۔ماضی مےں تامل ٹائےگرز کا القاعدہ کے ساتھ بڑا گہرا ےارانہ تھا۔بہت سے ابتدائی سبق اس نے القاعدہ ہی سے پڑھے تھے۔بہت سی چالےں بھی اس نے اسی سے سےکھی تھیں۔پھر خیر سے خوفناک قسم کے تخلےقی جنگی معرکے خود مارنے لگ گئی۔خود کش حملوں کی تکنےک اس نے زاروں کے ستائے ہوئے ماٹھے غریب روسیوں سے سےکھی اور اِس کا عملی مظاہرہ شروع کردےا۔
اب کولمبو وائی ڈبلےو سی اے کی وہ لڑکےاں ےاد آگئی ہےں۔جو ہر شام ہم سے دل کی باتےں کرتی تھےں۔26 سالہ دہشت گردی کی جنگ کے تحفوں مےںملنے والی دردناک شاعر سُنا کر ملول کرتی تھےں۔اےودھا بندرا پریرا کی اِس نظم کے ساتھ مےں اِسے ختم کرتی ہوں۔
خون مےں بھےگا ہوا‘اُس کا سفےد لبادہ‘کےا ملےن پانی کے قطرے اس کے دھبوں کو دھو سکےں گے‘آنسوﺅں اور درد سے بھرا اےک چہرہ‘ماتم کناں ہے
اےک روشن چمک دار شعلے نے‘پل بھر کےلئے لمبی سانس کھےنچی‘موت نے خاموش کردےا
کےسا بھےانک کام‘کتنی بڑی قےمت‘درد کتنا گہرا
گالوں پر بہتے آنسوﺅں کی بوچھار‘اےک ماں کا بچہ چھن گےا‘نڈھالی بڑھ گئی
خوشےوںنے منہ موڑ لےا‘مہےب خاموشی بہت لمبی ہوگئی‘اےک باپ اپنی لخت جگر کےلئے
ماتم کناں ہے‘خےالوں مےں اُداسی کا ڈےرہ ہے‘کھانے کی مےز پر وہ جگہ خالی ہے
جہاں امےدےں،خواب اور خواہشےں‘اب کبھی مےسر نہ ہوں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!