Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Haye …… !!! Mahngayee

ایک مشہور مثل ہے ’’غربت اور مہنگائی کا چولی دامن کا ساتھ ہے‘‘ پاکستان کے غریب عوام پچھلے کئی سال سے اس کہاوت کی عظیم مثال بنے ہوئے ہیں ۔کئی عوام دوستی کی دعوے دار حکومتیں آ ئی اور گئیں۔حکومتو ں کی اپنی اپنی مفادات کی پالیسیوں کی بدولت غریب، غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ درمیانے طبقے کے لوگ بھی اب غرباء میں شمار ہونے لگے ہیں۔ آئے دن بڑھتی مہنگائی غربت میں اضافے کا سبب بنتی جا رہی ہے۔ جس نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ تقریباً تمام چیزوں کی قیمتیں بڑھاتا جا رہا ہے۔ ان میں اشیائے خورد و نوش سے لے کر عام استعمال کی بھی تمام چیزیں شامل ہیں ۔ پاکستان میں تقریباً سات کروڑ بیس ہزار لوگ غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں اس بڑھتے ہوئے مسئلے کی جانب توجہ دیں تاکہ ایک خوشحال پاکستان کی تعمیر کو ممکن بنایا جا سکے۔تبد یلی کے د عو ے د ا ر و ں نے غر یب کے منہ سے ر و ٹی کا نو ا لہ تک چھین لیا۔عو ا م کی غر بت مٹا نے کا نعر ہ لگا نے و ا لو ں نے مہنگا ئی سے عو ا م کی چیخیں نکا ل د یں۔ مہنگائی کے طوفان سے عام طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہے، لوگوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ادویات، بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے تو عوام کی مشکلات میں اضا فہ کر دیا ہے۔ہماری 70 سالہ تاریخ میں ’’غربت مٹائو‘‘ طرزکے کئی پروگرام آئے اور حکومتوں کے ساتھ دفن ہوتے گئے ،کئی سیا سی جما عتو ں نے عوام کی فلا ح کے دعوے کئے مگر غربت جہاں تھی وہیں دکھائی دیتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں 43 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ چین نے 30 سال کے اندر 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔مگر وطن عزیز میں غریبو ں کا کو ئی پر سا ن حال نظر نہیں آ تا ۔: مہنگائی کا سب سے زیادہ شکار گھریلو خواتین ہوتی ہیں، جنہوں نے گھر کا بجٹ تشکیل دینا ہوتا ہے، مہنگائی کے منفی اثرات ملکی امن و امان کے ساتھ ساتھ ہر گھر کے امن و امان پر بھی پڑتے ہیں، گھریلو ناچاقیوں کی سب سے بڑی وجہ کم آمدنی اور غربت ہے، جب چند ہزار روپے کمانے والے ایک خاندان کو یکایک آٹا، چینی، دالیں، بجلی، گیس 10 یا 20 فیصد مہنگی ملیں گی تو اس گھر کا نظم و ضبط اور امن و سکون بربادہو جاتا ہے 2018/19 میں ٹیکس وصولی کا ہدف 4400 ارب روپے ہے۔ اس سال ریونیو وصولی کے ہدف میں 233.2 ارب کی کمی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک نے تسلیم کیا ہے کہ مہنگائی ہدف سے زیادہ اور مالیاتی خسارہ قابو سے باہر ہے۔ قومی پیدوار کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔ یکم جولائی سے گیس مزید 144 فیصد تک مہنگی کرنے کی تجویز ہے۔ مہنگی گیس نے عوام کومزید دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ لڑکھڑاتی معیشت کیلئے اچھی خبر یہ ہے کہ چین سے 2 ارب 10 کروڑ ڈالر موصول ہونے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 81 کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں لیکن ساتھ ہی سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی8.2 فیصد رہے گی۔ملک میں مہنگا ئی کی یہ شرح بلند ترین ہے ۔ پٹرول کے بڑھتے نر خ دیگر اشیا ء خودرونوش کی قیمتو ں میں اضا فے کا با عث بنتے ہیں۔اس کے عوام پردور رس نتا ئج مرتب ہو تے ہیں۔کر پشن کی وجہ سے خزا نہ خالی ہے ۔حکومت کے پاس قیمتیں بڑھا نے کے سوا اگر کو ئی چا رہ نہیں تو عوام کی مشکلات کا ازالہ بھی کیا جانا چا ہئے ۔حکومت کے’’ غربت مٹائو ‘‘پروگرام اپنی جگہ پر مگر عوام پر بے جاہ بو جھ ڈالنا کسی بھی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔عوام کو کا رو با ری مواقع فرا ہم کئے جا ئیں ۔غیر ملکی سرمایا کا ری کے فرو غ کی کو ششوں کو مزید تیز کیا جا ئے ۔اقتصادی منصوبو ں پر عمل درآ مد کو تیز کیا جا ئے ۔عوام کی ضروریات زندگی تک رسا ئی آ سا ن بنا ئی جا ئے۔اس وقت جس شر ح سے ملک میں مہنگا ئی میں اضا فہ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ملکی معاشی صورتحال میں بہتر ی حکومت کے بس میں نظر نہیں آ رہی ۔بجلی ،گیس ،پٹرول اور ادویا ت کی قیمتو ں میں اضا فہ سے عوام میں مایوسی پھیلے گی اور یہ صورتحال کسی صور ت بھی ملکی مفاد میں نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!