Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Hamein Dong Aur Dongi Passand Hai

پنجاب کے واسی بہت ہی خوش مزاج اور میلے ٹھیلوں کے شوقین ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ جب لڑکپن میں گندم کی کٹائی کا موسم آتا تو “باشہ” ا±سے آپ سوانگی یا ڈھونگی کہہ سکتے ہیں کھیتوں میں ہی گندم مانگنے آ جاتا تھا کبھی وہ گرمیوں میں لانگ کوٹ پہن کے آجاتا اور کبھی لانگ شوز اور پھر وہ اپنی اداکاری اور کرتبوں سے سب کو محظوظ کرتا اور آخر میں گندم لیکر چلا جاتا مگر ہم سب لڑکے کافی دنوں تک ا±س کی اداکاری اور فن کو سراہتے رہتے تھے۔ ہمارے لوگوں کو بھی ڈھونگ اور سوانگ پسند ہیں کیونکہ ہم اپنے ڈیروں اور داروں میں بیٹھ کر طلسماتی اور کرشماتی کہانیاں س±نتے آئے ہیں تو ہمیں حقیقت کے قریب چیزیں اچھی نہیں لگتیں۔ ہمیں کڑوی سے کڑوی چیز خوبصورت پیکنگ میں ڈال کر کھلا دیں ہم خوشی خوشی کھا لیں گے مگر ہاں آپ ہمیں بتا کر نہیں کھلا سکتے۔ پچھلے کئی سالوں سے پنجاب کے لوگوں نے ٹی وی اور اخبارات میں سوانگیوں اور ڈھونگیوں کے ڈھونگ دیکھے ہیں جنہوں نے ہمیں وہ وہ کرشماتیاور الف لیلوی کہانیاں س±نائیں جن کا حقیقت سے د±ور د±ور تک تعلق ہی نہیں تھا۔ انگریز سے آزادی تو ہم نے حاصل کر لی مگر بدقسمتی یہ کہ ہم ا±ن کے غلاموں کے نرغے میں پھنس گئے۔ انگریز جن لوگوں کو نواز کر گیا وہی لوگ گھوم پھر کے ملکی نظم ونسق کی باگ ڈور سنبھالتے رہے۔ کیونکہ سیاست میں پیسہ چاہیے لہٰذا غریب آدمی چاہے جتنا مرضی پڑھ لکھ جاتا وہ تو سیاست نہیں کر سکتا تھا پھر مجبورا” ہمیں انہی لوگوں کو برداشت کرنا پڑا جن کو انگریز نواز کر گیا تھا۔ ہمارا معاشرہ ب±ری طرح طبقاتی نظام کا شکار ہے ہمیں گوارا ہی نہیں کہ کوئی کم صاحب ثروت یا ا±ردو میڈیم ٹائپ آدمی پنجاب کے دور افتادہ علاقے کا رہائشی جس کو اربانائزیشن کا پتا نہ ہو وہ ہم پہ حکمرانی کرے۔حالانکہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ گاو¿ںکے لوگ اچھے منیجر اور زیادہ ایکسپوڑر رکھتے ہیں وہ دیہی اور شہری معاشروں کے رموز واوقاف سے زیادہ اچھی طرح واقف ہوتے ہیں مگر ا±ن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کم گو ، باتونی اور ڈھونگی نہیں ہوتے ہیں اور پھر یہ زیادہ سراہے بھی نہیں جاتے۔ یہی مسئلہ ب±زدار صاحب کے ساتھ ہے۔ جس دن پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا ہما سردار عثمان احمد خان بزدار کے سر پر بیٹھا ا±س دن انگریزی میڈیم طبقے کو دھچکا لگا کہ کیسے ایک پسماندہ علاقے کا رہنے والا پنجاب کا سرپرست بن گیا۔ مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنوں کے ر±وپ میں چ±ھپے بہروپیوں نے تنقید کے نشتر چلانے شروع کر دئیے اور ایک بے بنیاد مقدمہ کی آڑ میں منفی پراپیگنڈہ شروع کر دیا گیا پھر جب ب±زدار صاحب نے حلف ا±ٹھا لیا تو مخالفین نے ایک بار پھر سازشوں اور پراپیگنڈہ کا بازار گرم کر دیا کہ عثمان ب±زدار تو صرف چہرہ ہے حکومت تو علیم خان چلائے گا مگر جب نیب کیس کی بنا پر علیم خان جیل چلا گیا تو پھر ایک نیا شوشہ مارکیٹ میں آگیا کہ پنجاب کی حکومت گورنر اور پرویز الٰہی چلا رہے ہیں ب±زدار صاحب تو محض خانہ پ±ری کے لئے ہیں ۔ اور جتنی بھی بیورو کریسی ہے وہ صرف گورنر کے احکامات مانتی ہے یا پھر پرویز الٰہی کے اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ کچھ لوگوں کو عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور کیوں ہضم نہیں ہو رہے،شائد ان کا قصور یہی ہے کہ وہ ہماری طرح ایک عام آدمی ہیں ۔ بزدار صاحب کم گو ،ملنسار اور منکسر المزاج انسان ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ڈھونگ ، سوانگ، جھوٹ،فریب والی سیاست کرنا نہیں جانتے جس کی عادت ہمیں کئی دہائیوں سے پڑی ہوئی ہے۔ بزدار صاحب ایک نہایت شائستہ اور سلجھے ہوئے سیاستدان ہیں جس نے پہلے تیل دیکھا پھر تیل کی دھار دیکھی اور ایکشن لیا۔ مخالفین اور اپنوں کے روپ میں جو بہروپیے تھے ان کو بھی اب سمجھ آ گئی ہے کہ انھوں نے بزدار صاحب کو ضرورت سے زیادہ ہلکا لے لیا تھا اور اب آہستہ آہستہ وہ اپنی اوقات میں آنا شروع ہوگئےہیں ۔جو لوگ سمجھتے تھے کہ بزدار صاحب فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کے لئے بزدار صاحب کا تجاوزات کے خلاف آپریشن ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ بزدار صاحب نے اس طاقتور طبقے کے خلاف آپریشن کیا جس کے خلاف شہباز شریف جیسے طاقتور وزیر اعلیٰ کو کبھی ہمت نہ ہوئی تھی۔ بیوروکریسی کسی بھی صوبے کی گورننس میں اہم کردار ادا کرتی ہے یقینا” بزدار صاحب کو ان کی طرف سے ٹف ٹائم ملا ہو گا مگر اب ب±زدار صاحب نے بیوروکریسی کے حوالے سے جو اہم تبدیلیاں کی ہیں اس کے بعد اچھی خبریں آنا شروع ہوگئیہیں کہ محکموں میں کام ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ترقیاتی کاموں کی رفتار دوبارہ سے ٹریک پر آ گئی ہے۔بزدار صاحب جس طرح پنجاب کے مختلف اضلاع کے طوفانی دورے کر رہے ہیں اور وہاں پہ ترقیاتی کاموں کا آغاز کر رہے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب کے سارے معاملات اب ان کے کنٹرول میں ہیں اور اس تاثر کو بھی زائل کر رہے ہیں کہ وہ صرف جنوبی پنجاب کے نہیں پورے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں ۔ میری ذاتی رائے ہے کہ تبدیلی ایک پراسیس کا نام ہے جو راتوں رات وقوع پذیر نہیں ہوگی بزدار صاحب کی جماعت اور ان کے حمایتیوں کو کھل کر بزدار صاحب کا ساتھ دینا چاہیے اور اس پراپیگنڈہ کا موثر جواب بھی دینا چاہیے جو ان کے مخالفین کر رہے ہیں کہ بزدار صاحب آج گئے یا کل گئے دوسرا اب میرا مشورہ ہے کہ بزدار صاحب کو فرنٹ ف±ٹ پر آئیں اور ترجمانوں کے بجائے خود عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے اور شہباز شریف کی طرح میڈیا کے کسی ایک گروہ کے ہاتھوں یرغمال بننے کے بجائے سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!