Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Hakumat Ki Haq Main Ek Kaalim

بھولے نے مجھے کہا، تم کیسے صحافی ہو کہ صحافت میں غیر جانبداری اور توازن پر دھیان ہی نہیں دیتے، ہر وقت تنقید کرتے ہو، کیا حکومت میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔ میں نے کہا، پیارے بھولے مجھے توازن کے بارے تو کچھ علم نہیں مگر غیرجانبداری یہی ہے کہ پوری دیانتداری کے ساتھ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہا جائے۔ بھولے نے ترنت ٹوکا، بولا، تو کیا حکومت کچھ بھی ایسا اچھا نہیں کر رہی جسے سراہا جا سکے، کوئی ایسی پالیسی نہیں جس کی تعریف کی جا سکے، کیا یہ ممکن ہے۔ میں مسکرایا، بولا، پیارے بھولے ،یقینی طور پر جب ہزاروں لوگ سوشل میڈیا پیجز پر حکومت کا دفاع کر رہے ہوںتو یقینی طور پر کچھ نہ تو کچھ تو ایسا ہو گا جو ہوتا ہوا انہیں واقعی اچھا لگ رہاہو چاہے وہ شریف برادران کا احتساب ہی کیوں نہ ہو۔ میںنہیں مانتا کہ ہر سیاسی پارٹی کا ہر حامی متعصب ہے،ہر کارکن کرپٹ ہے اور ہر ہمدردمفاد پرست ہے۔ بھولے نے میرے سامنے دو سروے رکھ دئیے،پہلے سروے کے نتائج جنوری میں جاری ہوئے جس میں گیلپ نے حکومت کی مقبولیت اکاون فیصد ظاہرکی جو انتخابات کے وقت سے بہرحال زیادہ تھی جبکہ دوسرا سروے مارچمیں انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ نے کیا اور مارچ میں نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو ستاون فیصد لوگوں کا اعتماد حاصل ہے۔ اس نے میرے سامنے ملتا ن کے ضمنی انتخاب کے نتائج بھی رکھ دئیے جس میںپیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے امیدوار کو تحریک انصاف کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرناپڑا۔ میںنے بھولے سے پوچھا، تم چاہتے کیا ہو، جواب ملا، غیرجانبداری یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت کی اچھی باتیں بھی ڈسکس کی جائیں، انہیں بھی عوا م کے سامنے لایا جائے۔ میں نے کہا ، دیکھو بھولے، وفاقی حکومت کو اپنی اقتصادی کارکردگی بہتر کرنی چاہئے تاکہ ملک کے دیگر مسائل حل ہوسکیں۔ بھولا مسکرایا اور اگر میں وفاقی کی بجائے پنجاب حکومت بارے سوال کروں کہ یہ کس طرح شہباز شریف کی حکومت سے بہتر ہے۔ میرا جواب تھا کہ اگر عثمان بُزدار کابینہ اور حکومت میں اپنی آمریت قائم کئے بغیر سب کو پرفارم کرنے کی آزادی دے رہے ہیں تو یقینی طورپربہ حیثیت مجموعی حکومتی کارکردگی سابق دور سے بہتر ہوسکتی ہے کیونکہ اس نظام حکومت میں ہر شے اسی طرح شہباز شریف تک ہی جاتی تھی جس طرح فیصل آبادکے گھنٹہ گھر کی طرف ہر راستہ۔ مجھے ایک مرتبہ ان کے دورمیں سیکرٹری پاپولیشن پلاننگ سے ملاقات کا موقع ملا تو انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ دو برس سے ایک پالیسی تیار کئے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور منظوریکے لئے کوشش کر رہے ہیں مگر اس میں کامیابی نہیں ہو رہی کہ وہ بہت مصروف ہیں اور دوسری طرف متعلقہ وزیر میںجرات ہی نہیں کہ وہ اپنے طور پر اپنے محکمے کی پالیسی کا اعلان کردے۔ یہ بھی درست ہے کہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات اور کسی بھی منصوبے کی منظوری ایک مشکل امر تھا او ریہ مشکل بہرحال موجودہ وزیراعلیٰ کے ساتھ نہیں، وہ ہر ہفتے اپنے علاقے کے سینکڑوں لوگوں سے بھی ملتے نظر آتے ہیں۔ بھولے نے پوچھا، عثمان بزدار کم گو ہیں، وہ انگریزی کے ساتھ ساتھ فرنچ، عربی اور جرمن بھی نہیں جانتے تو کیا یہ حکومت کی کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ ہے، میں نے زور زور سے نفی میں سرہلایااور کہا کہ ذہانت بہت بولنے اور قابلیت انگریزی جاننے کا نام نہیں۔میرے ساتھ میرے دیہات میں چلو، میں تمہیں ایسے زبردست آئی کیو والے لوگوں سے ملواوں گا جو انگریزی کا ایک لفظ نہیں جانتے مگر بڑے سے بڑامسئلہ چٹکی بجاتے حل کر سکتے ہیں۔ انگریزی جاننا ہی قابلیت اور ترقی کا زینہ ہوتا تو دنیا میں چین، جاپان اور ترکی سمیت کوئی ملک ترقی نہ کرتا۔ایسی باتوں کے ذریعے عثمان بزدارکا ایک امیج بنا دیا گیا ہے جو سوفیصد درست نہیں ہے جیسے مثال کے طورپرایک صحافی کے طور پر میں نے نو اپریل کو ان کی جو خبریں وصول کیں، انہیں ہی دیکھ لو، میں نے کاغذوں کاپلندہ اٹھایا جس میں ان سے اسلام آباد میں ان کے والد کے وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے وفاقی وزرا اور بیوروکریٹوںکی لائن بھی لگی ہوئی تھی، ان کی اسی روز راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ کرتے ہوئے وہاں طبی سہولتوں کا جائزہ لینے کی خبربھی جاری ہوئی تھی،وہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی راولپنڈی کا دورہ کرتے ہوئے مساجدکے ساتھ ساتھ مندروں اور اقلیتوں کی دیگر عبادت گاہوں ، شہر کے داخلی خارجی راستوں کو خوبصورت بنانے کے احکامات دے اور راولپنڈی میں پارکنگ کے مسائل حل کرنے کے لئے پارکنگ پلازے بنانے کے فیصلے بھی کررہے تھے۔ اسی روز خوشاب کے دورے کے خبر تھی جس میں خوشاب میں سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کے لئے کارپوریشن کو بیل آوٹ پیکج دینے، وائلڈ لائف پارک بنانے، سون سیکیسر میں ایمبولینس سروس کی فراہمی جیسے فیصلے ہی نہیں تھے بلکہ وہاں صفائی کے ناقص انتظامات پر کارپوریشنکے اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی بھی شامل تھی۔ اسی روز ان کی زیر صدارت صحت کے اجلاس کی بھی خبر تھی جس میں وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور میرے دوست ڈاکٹر ارشد نظامی سمیت دیگر متعدد کے ساتھ صحت کے مسائل پر مشاورت کی تفصیلات تھیں،اسی اجلاس میں سابق ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر طاہر خلیل کو بحال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ میں نے کہا، بھولے اگر عثمان بزداراسی طرح کام کریں گے تو یقینی طور پر اس کا رسپانس ملے گا اور یہ تاثر ختم ہوگا کہ وہ وسیم اکرم پلس نہیں بن سکتے۔ بھولے کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے علاوہ کیا اچھا ہے تومیں نے بہت نیک نیتی سے بتایا کہ میں وزیراعلیٰ کے ترجمان شہباز گل کو ٹوئیٹر پر فالو کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ مجھے ان کےسیاسی ٹوئیٹس سے اتفاق نہ ہو مگر میں پورے خلوص سے کہتا ہوں کہ وہ جس طرح انسانی حقوق کے معاملات کا نوٹس لیتے ہیں، یہ رویہ قابل تعریف ہے اور اب سوشل میڈیا پر یہ یقین بڑھتا جا رہا ہے کہ وہاں کوئی بھی شکایت کی جائے گی یامعاملہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آئے گا تو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک شخص ایسا بیٹھا ہے جو نہ صرف نوٹس لے گا بلکہ پیش رفت سے بھی آگاہ کرے گا۔ شہباز گل اس سرگرمی سے صرف نیک نامی ہی نہیں بلکہ ثواب اور دعائیں بھی کما رہے ہوں گے۔ بھولا مجھ سے وزیروں کے بارے تفصیل سے پوچھنا چاہتا تھا تو میں نے معذرت کی کہ میری وزیروں کی پرفارمنس کے بارے ذاتی طور پر کوئی رائے نہیں کہ میںنے اس پر سٹڈی نہیں کیا مگر میں نے اب تک جو کچھ سنا ہے اس کے مطابق بہترین وزراءمیں راجا بشارت ، میاں اسلم اقبال ، راجا یاسرہمایوں، محسن لغاری، سمیع اللہ چودھری اور محمد اجمل شامل ہیں۔ میں نے سیاسی طور پر جناب اعجاز چودھری کو بہت متحرک دیکھا ہے اور کارکنوں کے ساتھ رابطے میں ہیں ورنہ عمومی طور پر حکومتیں بننے کے بعد کارکن لاوارث ہوجاتے ہیں۔ میں نے بھولے کو بتایا کہ میں نے ایل ایچ ویز، پروفیسروں اور اب انجینئروں کے احتجاج اپنے پروگراموں میںکور کئے ہیں اور وہ تمام وہی سہولتیں اور مراعات مانگ رہے تھے جو پی ٹی آئی کی حکومت نے خیبرپختونخوا میںدی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس سمیت مختلف شعبوں میں واقعی اصلاحات ہوئی ہیں جن سے ہم پنجاب میں رہتے ہوئے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!