Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Ghuftagoo Ki Kaak Tail

امریکہ کے 243 ویں یوم آزادی کے موقع پر گزشتہ روز امریکی سفیر نے ایک استقبالیہ دیا۔ روایتی طور پر امریکہ کا یوم آزادی چار جولائی کو منایا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں تک اسلام آباد میں بھی یوم آزادی پر امریکی سفارت خانہ کی طرف سے استقبالیہ چار جولائی کو ہی دیا جاتا رہا ہے ۔ جولائی کی حبس آلودگرمی سے بچنے کے لیے اب یوم آزادی کا استقبالیہ ایسے موسم میں دیا جاتا ہے جس میں مہمان گرمی اور حبس سے بچ سکیں۔ گزشتہ روز امریکی سفیر پال جونز کی طرف سے دیاگیا استقبالیہ ایک مزے دار موسم کی شام کا استقبالیہ تھا۔ حسب روایت ہرطبقہ زندگی کی نمائندگی کرنے والے مہمانوں کی بڑی تعداد اس استقبالیہ میں شریک تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) ‘تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی‘ مسلم لیگ (ق) ‘ اے این پی‘ایم کیو ایم اور دوسری جماعتوں کی سیاسی شخصیات استقبالیہ میں موجود تھیں۔ مہمانوں کی گفتگو کا موضوع پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال تھی۔ اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے موجودہ صورت حال پر اپنی دلچسپ اور فکرانگیز آرا کا اظہار کیا۔ جماعت اسلامی کے نو منتخب جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی ایک روایتی حکومت ہے۔ جس طرح ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے حکومتیں بنتی بگڑتی رہیں یہ حکومت بھی اسی طرح کی ایک حکومت ہے۔ اگر موجودہ حکومت چلی جاتی ہے تو بھی ملک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یہاں پر سیاسی تجربات کئے جاتے رہے ہیں یہ اسی طرح کا ایک سیاسی تجربہ ہے ۔ جماعت اسلامی ماہ رواں کے آخری ہفتہ میں اپنی شوریٰ کا اجلاس میں ملکی صورت حال پرغور کرے گی۔مسلم لیگ (ن) کے راہنما سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز جو جنرل مشرف کے دور میں قومی تعمیر نو بیورو نیشنل ری کنٹرکشن بیورو کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ سیاسی صورت حال پر دلچسپ تصبرہ کیا اور کہا

کہ پاکستان میں گزشتہ تیس سال میں جمہوری حکومت یا اٹھارہ ماہ چلی ہے یا اڑھائی سال۔ راقم نے دانیال عزیز سے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کس کیٹیگری میں آتی ہے تو انہوں نے کہا میرے خیال میں یہ چوبیس ماہ والی حکومت ہے ۔ اے این پی کے سابق راہنما اور بائیں بازو کے ممتاز دانشور سیاست دان افراسیاب خٹک کی موجودہ صورت حال کے بارے کی رائے تھی کہ یہ حکومت بھی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بننے والی ایک روایتی حکومت ہے۔ جو ملک میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں لا سکے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے جواں سال راہنما اور پنجابی زبان کے دل موہ لینے والے گلوکار ابرار الحق کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت معاشی بحران سے ملک کو نکال لے گی لیکن ایسے کم سے کم دو سال کا عرصہ چاہیے۔ وفاقی وزیر اور پاکستان کی سیاسی صورت حال پر سب سے زیادہ دلچسپ تبصرہ کرنے والے مستقبل کی پیشن گوئیاں کرنے والے فرزند پنڈی شیخ رشید احمد نے نوائے وقت کے استفسار پر کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی لڑائی نہیں ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی داخلی چپقلش کو’’ ہلکی پھلکی موسیقی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ حکومت میں کوئی سنجیدہ اختلاف رائے نہیں ہے۔ کچھ مغربی ملکوں کے سفارت کار بھی سیاسی صورت حال اور معاشی چیلنج کی سنجیدگی کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ سیاسی لیڈروں اور اخبار نویسوں سے جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ کیا ہورہا ہے؟ امریکی یوم آزادی کے استقبالیہ میں بعض ممتاز کھلاڑی ‘گلوکار ‘ اور مصورموجود تھے۔ ان میں عاطف اسلم‘ ابرارالحق ‘ شفقت امانت بھی نمایاں تھے۔

ائیر چیف مارشل انور مجاہد خان اس تقریب کے دولہا تھا۔ لوگ انہیں مبارک بادیں دیتے رہے ان کے ساتھ سیلفیاں بنانے والوں کا بھی ایک ہجوم تھا۔ ائیر چیف مارشل انور مجاہد خان کی سیکورٹی پاکستان کے سپیشل سروسز گروپ کے جوانوں کے ذمے تھی۔ جو ائیر چیف مارشل سے ملنے والے ہر فرد پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔

استقبالیہ کے مہمان خصوصی توانائی کے وفاقی وزیر عمر ایوب تھے۔ عمر ایوب نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے انہوں نے پاک امریکہ تعلقات پر پُرجوش تقریر کی۔ عمر ایوب نے اپنے دادا صدر ایوب خان کے دور کا ذکر کیا اوربتایا ان کے گھر میں ایوب خان کی کئی امریکی صدر کے ساتھ تصویریں موجود ہیں۔ عمر ایوب نے صدر ایوب خان کی طرف مسز چیکولین کینیڈی کو تحفے میں دئیے گئے گھوڑے سردار کا ذکرسامعین کو ماضی میں لے گیا۔ ایوب خان کی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں وہ تصویر موجود ہے جس میں ایوب خان نے سردار گھوڑے کی باگیں پکڑ رکھی ہیں اور گھوڑے پر مسزچیکولین کینیڈی سوار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!