Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

fata Aur Hamsaye Main Jangi KabarKhana

میں جس علاقے میں تھا وہ کبھی علاقہ غیر کہلاتا تھا۔ اب آئینی ترمیم کے بعد آپ اسے ’’اپنا علاقہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔افغانستان کی سرحد یہاں سے قریب تو نہیں مگر زیادہ دور بھی نہیں۔ یہاں ایسے کاروباری افراد رہتے ہیں جو افغانستان تجارت اور کاروبار کے سلسلے میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ بظاہر سادہ سے لوگ‘ اردو بڑی مشکل سے سمجھتے ہیں۔ میں نے ایک نوعمر سے اس کی مصروفیات کا پوچھا تو وہ ہنسنے لگا۔ اس کے ساتھ بیٹھے ایک نوجوان نے ٹوٹے پھوٹے اردو الفاظ میں بتایا کہ یہ اردو نہیں سمجھتا۔ بعد میں دوران گفتگو وہ نوعمر کئی بار ہنستا رہا۔ مجھے نہیں پتہ وہ مجھ پر ہنس رہا تھا‘ اپنے دوسرے دوستوں کی طرف سے دقت کے ساتھ اردو بولنے پر ہنس رہا تھا یا پھر ہنسنا اس کی عمر کا تقاضا تھا۔ اس علاقے کے لوگ بڑا سیدھا تجزیہ کرتے ہیںکہ افغانستان میں امن صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب امریکہ اور طالبان ایسا چاہیں گے۔ دونوں میں سے کوئی ایک بدنیت ہوا تو حالات میں بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ افغانستان میں بریگیڈیئر جنرل سیٹون شیپروکی سربراہی میں کلوز ڈائون آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔امریکی عملداری والے علاقے بگرام میں ایسی ہزاروں ناکارہ‘ جزوی ناکارہ اور کارآمد جنگی ٹرانسپورٹ اور گاڑیاں کھڑی ہیں جو سردرد کا درجہ اختیار کر گئی ہیں۔ ان گاڑیوں کو واپس امریکہ لے جانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ امریکی ٹیکنیشن ہزاروں گاڑیوں میں موجود حساس ٹیکنالوجی کے پرزے نکال رہے ہیں تاکہ یہ آلات سکریپ کے ذریعے کسی دوسرے ملک کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ ایسا اسلحہ اکٹھا کیا جا رہا ہے جو لاوارث ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ 28ہزار گاڑیاں کسی طرح سے واپس لے جائے۔ ایسے 20ہزار شپنگ کنٹینر بھی واپس جانے ہیں جن میں اتحادی افواج کے لئے سامان افغانستان آتا رہا ہے۔ ان کنٹینروں کی بڑی تعداد پاکستان کے علاقوں سے گزر کر افغانستان پہنچی ہے۔ یہ کنٹینر اب بھی کئی طرح کے سامان سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ سب امریکہ کی ملکیت ہے۔ امریکہ کو یہ سامان واپس لے جانے کے لئے 6ارب ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے۔ بریگیڈیئر جنرل سٹیون شیپرو عراق میں بھی کلوز ڈائون آپریشن کا حصہ رہے ہیں۔ امریکہ کے ذرائع ابلاغ جہاں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا امریکہ نے افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر لئے وہاں جواب بھی خود دیتے ہیں‘ بغیر کسی دلیل کے‘ کہ امریکہ نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ امریکی ذرائع بتا رہے ہیں کہ ان گاڑیوں اور کنٹینروں کی 60فیصد تعداد پاک افغان سرحد پار کرتے ہوئے فاٹا کے اضلاع سے گزرے گی‘ پھر یہ گاڑیاں اور کنٹینر کراچی پہنچیں گے جہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے انہیں امریکہ پہنچا دیا جائے گا۔ باقی 40فیصد گاڑیوں اور آلات کو ہوائی جہازوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ پہنچایا جائے گا۔ قیاس ہے کہ یہ 40فیصد سامان اردن میں اکٹھا کیا جائے گا۔ اس کے باوجود افغانستان میں آرمرڈ ٹرکوں‘ ٹیلی ویژن سیٹوں‘ آئس کریم ٹرے اور ضروریات زندگی کی لگ بھگ ہر چیز کا اتنا سکریپ رہ جائے گا جس کی مالیت 7ارب ڈالر کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بہت سا سامان پہلے ہی افغان منڈی میں کباڑیوں کو فروخت کیا جا چکا ہے۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ کچھ فالتو فوجی گاڑیاں اور سامان بھارت کو فروخت کر دیا جائے۔ بھارت کو یہ سامان پاکستان کے راستے بھیجا جا سکتا تھا۔ نواز شریف کے ساتھ سجن جندال نے راہداری کی ڈیل تقریباً طے کر لی تھی۔ اس طرح امریکہ کا کچھ اسلحہ بھی بھارت انتہائی سستے داموں خرید لیتا۔ مگر پاکستان نے بطور ریاست طے کیا کہ امریکہ کے کلوز ڈائون آپریشن میں معاونت کے بدلے کسی خاندان کی بجائے فوائد ریاست کو ملیں۔ مودی کے یار کا نعرہ اس صورت حال میںلگا۔ افغانستان میں پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بڑی طاقت یہاں سے بھاگتے ہوئے اس مفلوک الحال ملک میں اپنے اثاثے چھوڑنے پر مجبور دکھائی دی۔1840ء میں جب برطانیہ افغانستان سے نکلا تو اس نے ایسے قلعے خالی کئے جو آج بھی مضبوط ہیں۔1980ء کی دہائی میں جب سوویت یونین آیا اورمنتشر ہو کر جب نکلا تو اپنے بہت سے ٹینک‘ ٹرک اور طیارے افغانستان میں چھوڑ گیا۔ امریکہ جاتے ہوئے گدے‘ خار دار تاریں‘ شپنگ کنٹینر اور سکریپ کا ڈھیر چھوڑے جا رہا ہے۔ یہ چیزیں اس سال کے آخر تک ہمیں پاکستان کی مارکیٹوں میں دکھائی دیں گی۔ امریکہ نے طالبان کو پیشکش کی کہ کچھ فوجی گاڑیاں اور اسلحہ انخلا کے بعد طالبان کو سستے داموں ادھار پر دیا جا سکتا ہے۔ امریکی چاہتے ہیں کہ ہزاروں کنٹینروں میں لایا گیا اسلحہ افغانستان میں ہی فروخت کر دیا جائے۔ طالبان نے یہ اسلحہ قیمتاً لینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت کو اس اسلحہ کی فروخت کی کوششیں آگے نہ بڑھ سکیں جس پر چند ماہ پہلے صدر ٹرمپ نے بھارت سے پسندیدہ تجارتی شراکت دار کا درجہ واپس لے لیا ہے۔ ممکن ہے معمولی رقم یا واپسی کی راہداری فراہم کرنے کی فیس کے طور پر ایسا کچھ اسلحہ پاکستان کو مل جائے۔ فاٹا اضلاع کی منفی شناخت منشیات، اسلحہ کی بلا روک ٹوک فروخت اور ملک بھر کے مفرور افراد کا وہاں پناہ گزیں ہونا رہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اب کھلی ہوا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ فوج کی نگرانی میں کھیلوں اور کاروبار سے متعلق سرگرمیاں ایک نئی جہت میں سامنے آ رہی ہیں۔ ممکن ہے کوئی ستم ظریف یہاں لوہے کی بھٹی لگا لے جس میں افغانستان سے آنے والا سکریپ پگھلا کر لوہے کی مصنوعات سازی شروع کر دی جائے۔ پاکستان میں سامان کی نقل و حمل کے لئے مستعمل بھاری ٹرانسپورٹ کا کاروبار پشتونوں کے ہاتھ میں ہے۔ بگرام میں امریکی فوج کو سکریپ یارڈ کے لئے جگہ دینے والے الفت خان کی توقعات طالبان کے اقتدار میں آنے سے ڈھیر ہو سکتی ہیں‘ اسے امریکیوں سے جن فوائد کا لالچ تھا وہ حاصل نہ ہو سکیں گے مگر امریکی سکریپ سے طالبان اپنے ابتدائی اخراجات اچھے طریقے سے پورے کر سکیں گے۔ امریکی اور پاکستانی سکیورٹی حکام میں رابطوں کے نتیجے میں کچھ اہم فیصلے ہوئے ہیں۔ میں نے فاٹا کے تھوڑے سے علاقے میں جاکر جائزہ لیا ہے کہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کی صورت میں یہاں کے لوگوں پر کیا اثرات ہوں گے۔ مجھے لگتاہے کہ فاٹا کے لوگ سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ کچھ سماجی تبدیلیوں پر آمادہ ہیں۔ پرامن افغانستان اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسلحہ رکھنے کے قوانین ترتیب نہیں پاتے اور اسلحہ استعمال کرنے کا حق صرف ریاست کے پاس ہو۔ ’’اپنا علاقہ‘‘ کے لوگ پرامید ہیں کہ ان کے لئے کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ فاٹا یونیورسٹی کا منصوبہ اب سچ ثابت ہو چکا ہے۔ معیاری اور کشادہ سڑکیں بن رہی ہیں۔ ہسپتالوں اور کھیلوں کے میدانوں کی منصوبہ سازی ہو رہی ہے۔فاٹا کے لوگ اب کباڑ کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع سے بھی روزی روٹی کما سکیں گے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!