Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Farranch Sahafi Ki Kashmir Par Dastaveezi Film

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم پرمبنی فرنچ صحافی کی دستاویزی فلم نے بھارت کامکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔فرنچ صحافی نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کرفلمائی گئی ’’ وار آن دا روف آف ورلڈ‘‘ کے نام سے یہ دستاویزی فلم یکم اپریل 2019ء سوموارکو آن ائیر ریلیزکردی ۔ فرانسیسی صحافی پاول کامیٹی نے دستاویزی فلم ’’ وار آن دا روف آف ورلڈ‘‘ 18ماہ میں مکمل کی۔ دستاویزی فلم کی تمام تر ریکارڈنگ مقبوضہ کشمیر میں کی گئی۔ فرنچ صحافی نے دستاویزی فلم میں بھارتی مظالم آشکارکر دیئے۔اس دستاویزی فلم میں بھارتی پیراملٹری فورسزکے کشمیریوں پرمظالم فلمائے گئے ہیں،فلم میں کشمیریوں پر پیلٹ گن کا بے رحمانہ استعمال اور دیگر انسانیت سوزحربوں کودکھایاگیا ۔ایک نوجوان کا کیس پیش کیا گیا جسے پیلٹ کے ذریعے عمر بھر کے لیے معذور کر دیا گیا۔ اس کے پھیپھڑوں گردوں اور جگر میں پیلٹ موجود ہیں جسے نکالنے سے ڈاکٹر قاصر ہیں۔اس دستاویزی فلم میں قابض ہندوستانی افواج کو پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال اور کثیرتعدادمیں کشمیری نوجوانوں جن میں بچیاں بھی ہیں زخمی ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔دستاویزی فلم میں کشمیر کو ایک سرویلنس سوسائٹی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ بھارتی ناجائزقبضے کے خلاف ہجومی احتجاج اورشہدائے کشمیرکے جنازوں میں لاکھوں کشمیریوں کی شرکت کے بھی فلم بندی گئی ہے ۔ یہ جنازے پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوتے ہیں اور تمام کشمیری آزادی کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ دستاویزی فلم میںبھارتی فوج کی جیپ کے ساتھ باندھے جانے کے بعد شہرت حاصل کرنے والے نوجوان کا انٹرویو بھی دکھایا گیا ہے۔ان نوجوانوں کو بھی دکھایا گیا ہے جو حریت نوازی کواپنی جان سے پیاری سمجھتے ہیں اور فریڈم فائیٹر بن کر کشمیر کو حقِ خود ارادیت دلانا چاہتے ہیں۔کشمیر کے اطراف واکناف میں بندوقیں تانے بھارتی افواج کی بڑی تعداد میں موجود دکھائی گئی ہے ۔ فلمنگ ٹیم نے انڈین سکرٹ سروسز یا انڈین انٹیلی جنس کو انکا پیچھا کرتے اورفلم ڈائریکٹر پال کو میٹی کو گرفتار کرتے بھی دکھایا ہے۔اس دستاویزی فلم کے آخر میں ایک فرانسیسی دانشور کا انٹرویو دکھایا گیا ہے جو مسئلہ کشمیر کو جلد ازجلدحل کرنے پرزوردے رہاہے۔ فرنچ صحافی پال کومیٹی کاکہناہے کہ دستاویزی فلم کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو اقوام عالم میں اجاگر کرنا ہے ۔کشمیرکی صورتحال پر فلم سازی کے دوران فرانسیسی صحافی کو بھارتی فورسز نے حراست میں بھی لیا، پاول کامیٹی اپنی ٹیم سمیت 3ہفتے تک بھارتی فورسزکی حراست میں رہیں،گرفتاری کے بعدفرانسیسی صحافی کو 5روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا،بین الاقوامی دبائوکے بعد بھارت نے مجبورا فرانسیسی صحافی کو رہا کیا تھا۔ تاہم فرانسیسی صحافی اور 8رکنی ٹیم کو بھارت میں بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا۔بھارتی وزیر دفاع نے فرانسیسی صحافی کی دستاویزی فلم کی درخواست کومسترد کیا،بھارت نے دستاویزی فلم روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ فرانسیسی صحافی پال کومٹی کاکہناہے کہ بھارت نے کشمیریوں کا جینا مشکل کر دیا ہے، بھارت نہیں چاہتا مقبوضہ کشمیر کے حالات دنیا کے سامنے آئیں۔فرانسیسی فلم میکر کاکہناتھاکہ انھوں نے متعد بار صحافی کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت مانگی تھی لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی۔پال کومٹی کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھارت سے فلم بنانے کے لیے ویزا جاری کرنے کی درخواست کی، بھارت کی جانب سے فلم کی اجازت سے بھی انکار کیا گیا، اس کے بعد مقبوضہ وادی کی صورتِ حال جاننے کے لیے عام آدمی کی حیثیت سے گیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نے انھیں گرفتار کیا، ان سے کیمرے اور دیگر سامان چھین لیا گیا، انھوں نے اقوام عالم سے جنت نظیر وادی میں بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔پال کومٹی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ عوام کوزہرناک مصائب کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ فرانسیسی فلم میکر نے اس دستاویزی فلم میں مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کے وحشیانہ مظالم دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں اور ’’ وار آن دا روف آف ورلڈ‘‘ کے ذریعے کشمیرمیں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کاپول کھول کررکھ دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں ’’صحافت‘‘ چیلنج بھرا اور پر خطر کام ہے۔ مقامی صحافی بھارتی قابض فوج سے نہایت خوفزدہ ہیں۔خوفزدگی کاعالم یہ ہے کہ ان میں سے اکثریہ نہیں چاہتے کہ ان کی کسی رپورٹ سے بھارتی قابض فوج یابھارتی انٹیلی جنس ادارے ان سے خفا ہوں۔ ہر بار یہ ثابت ہواہے کہ کشمیر میں صحافی حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ان کے ساتھ کب کون سا سانحہ پیش آئے گا اس کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا تاہم جرات ہو تو قابض فوج کی بندوقوں کے سامنے ایک حقیقی صحافی کو سچائی لکھنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔اس پس منظرمیں بات کریں توفرنچ صحافی اوران کی ٹیم نے پوری جرأت مندی دکھاکریہ دستاویزی فلم بناڈالی ہے ۔ مقبوضہ کشمیرمیں 1990 میں شروع ہوئی مسلح جدوجہدکی کوریج کا سیدھا اثر صحافت پر پڑا اور بھارت نے صحافیوں پرقدغنوں کے شکنجے کس دئیے ۔جس کا مقصدیہ تھاکہ بھارتی مظالم کوطشت از بام ہونے سے روکاجائے۔ اعدادوشمارکے مطابق1990ء سے آج تک کشمیر میں تقریباً 21صحافی ہلاک ہوئے ہیںجبکہ انکائونٹر واقعات کی عکس بندی کرتے ہوئے آج تک درجنوں کشمیریوں صحافی بھارتی بربریت کے شکار ہو کر شدید زخمی ہوئے ہیں ان میں کئی عمر بھر کے لیے معذور بھی ہوئے۔ایسے میں فرنچ صحافی پاول کامیٹی اوراسکی بے باک ٹیم نے دستاویزی فلم ’’ وار آن دا روف آف ورلڈ‘‘ کوجس طرح مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کودس لاکھ بھارتی فوجیوں کے منحوس ناک کے نیچے18ماہ تک فلماکر بھارت کے مکروہ چہرے کودنیاکے سامنے بے نقاب کردیایہ بہت بڑی بات ہے ۔امیدکی جانی چاہئے کہ اس کاوش کے بعد عالمی سطح کے دیگر چینلزسے وابستہ صحافی بھی اس کوشش میں لگ جائیں کہ وہ کشمیریوں پرہورہے بھارتی قابض فوج کے مظالم کوفلماتے ہوئے بھارتی بربریت کوطشت از بام کردیں گے۔ اعدادوشمارکے مطابق اس وقت مقبوضہ جموںوکشمیر میں 450سے زائد اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ کشمیر میں 1993 ء میں ہفتہ وار گریٹر کشمیر کے روزنامے میں تبدیلی کوکشمیر میں انگریزی صحافت کا سنگ میل مانا جاتا ہے اور اس وقت گریٹر کشمیر ،رائزنگ کشمیر،کشمیر مونیٹر، کشمیر ٹائمز اور کشمیر لائف جیسے درجنوں انگریزی اخبارات کی کامیابی اس بات کا عکاس ہے کہ کشمیر میں صحافت میں کس قدر پیشہ واریت آئی ہے۔ مگراس کے باوجود صحافتی چیلنج روزبروز سخت ہو رہے ہیں۔کشمیر میں ایڈیٹرس گلڈ سمیت صحافیوں کی ترجمان درجنوں انجمنیں ہیں مگر ان میں کوئی اتحاد نہیں اور یہ محض ان واقعات کی مذمت کرتی رہتی ہیں ۔ آج تک کشمیرمیں صحافیوں کے قتل یا ان کے خلاف تشدداور انٹرنیٹ پر لگنے والی بار بار کی پابندیوں کی کبھی مذمت نہیں کی ۔یہ تنظیم کشمیری صحافیوں کے حقو ق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔ کشمیرمیں آزادی صحافت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ یہ روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے۔ صحافت کسی بھی حال میں سچائی سے سمجھوتہ نہ کرنے کا مشن ہے جو یہ صحافی سخت چلینج کے باوجود بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ کشمیری صحافی مشکل ترین حالات سے نبرد آزما ہیںقابض فوج کی بندوق کے سائے تلے جان ہتھیلی پر رکھ کر حقیقی حالات کو رِپورٹ کرنے کی قدروں کو زندہ رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!