Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Faisala Awam Ko Karna Hai

ملک معاشی بد حالی کے نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ حکومت کیلئے ان حالات میں ملک کو لیکر آگے بڑھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔پاکستان تحریک انصاف ملک میںتبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لے کر آ ئی۔ کرپشن اور بد عنوانی نے ملک کی بنیا دیں کھو کھلی کر دی ہیں ۔یہ ایک نا سور ہے جو ہما ری آ نے والی نسلو ں کو تبا ہ کر رہا ہے اس کا خاتمہ ازحد ضروری ہے۔ اس وقت وزیر اعظم عمرا ن خان کے لئے مشکل وقت ضرور ہے لیکن اگر آج وہ پاکستان کو اس گندگی سے پاک کر جا تے ہیں تو آ نے والی نسلیں صدیو ں تک ان کی احسان مند رہیں گی ۔ملک میں پہلی بار بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا،شہباز شریف کے گھر پر چھاپا ،حمزہ شہباز کی گر فتا ری،آصف زرداری کی کر پشن اور بلا ول بھٹو کی دہائی آج یہ لوگ نیب کی کاروائیوں کے خلاف نو حہ کنا ں ہیں ۔ حمزہ شہباز کے خلاف ملنے والے منی لانڈرنگ کے ثبوت ،شہبازشریف نے منی لانڈرنگ سے بیرون ملک اثاثے خریدے، شہبازشریف فیملی پر 85 ارب کی منی لانڈرنگ کا الزام ۔ پاکستانی عوام کا مفاداسی میں ہے کہ یہ مہمن منتقی انجام تک پہنچائیں، ملک میں معیشت، جمہوریت اور اسلام کو کوئی خطرہ نہیں، خطرہ صرف چوروں کو ہے۔ اس وقت ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہو رہا ہے ایک مثل مشہور ہے ’’انسان جو کچھ بو تا ہے اسے وہی کا ٹنا پڑتا ہے ‘‘ آج یہ حکمران اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کی ذمہ داری آصف زرداری اور نوازشریف پر عائد ہوتی ہے، یہ اپنے بچوں کے نام پر پراپرٹیاں بنا تے رہے ۔نواز شریف اور زرداری کو چھوڑیں، گھر کے ملازم بھی کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں،انہو ں نے پانچ براعظموں میں جائیدادیںبنائیں، پورا ملک، عدالتیں، ہر ادارہ سب ’منی ٹریل‘ مانگ مانگ کر تھک گئے۔مگر یہ بے حس لوگ ملک کو لو ٹتے رہے۔ملک کا بچہ بچہ قرضہ میں ڈوبتا گیا۔مگر ! اب احتساب کا عمل حمزہ شہباز اور بلاول بھٹو کی دھمکیوں سے رکنے والا نہیں ہے۔عوام کو لوٹی گئی دولت کا حساب دینے کی بجا ئے آج یہ حکومت گرا نے کی دھمکیا ں دے رہے ہیں۔اس سے بھی زیادہ حیران کردینے والی بات ہے کہ جو کل تک ایک دوسرے کو چور چور کہتے نہیں تھکتے تھے، آج ایک دوسرے کے ساتھ گرم جوشی سے مل رہے ہیں، ’’سوشل میڈیائی ایڈیٹرز‘‘ ان کے بارے میں تصحیح فرما رہے ہیں کہ ’’جب علاقے کے چور مل جائیں تو سمجھ لیجیے تھانے دار ایمان دار آگیا ہے‘ اور اس پر یہ کہا جا رہا ہے کہ‘ اگر خدانخواستہ آصف علی زرداری کو گرفتار کیا گیا تو ملک میں ایک طوفانی اور ہیجانی کیفیت پیدا ہو گی‘‘، الفاظ پر غور فرمائیں، اگر خدانخواستہ آصف علی زرداری کو گرفتار کیا گیا، یہ خدانخواستہ والے صاحب 4 اپریل 2017 کو کہہ ر ہے تھے ’’حیرت ہوتی ہے جب آصف زرداری کرپشن کے خلاف بات کرتے ہیں، زرداری صاحب اگر آپ کا کھاتہ کھل گیا تو آپ کا اتنا بڑا کھاتہ ہے کہ پھر بند نہیں ہو گا‘‘۔ایک وقت تھا جب یہی لوگ کہتے تھے کہ ان کرپٹ لوگوں کو چورا ہے پر لٹکا دینا چا ہئے ۔ان کے حلق سے عوام کا پیسہ نکالا جا ئے،مگر اب حالات یکسر بدل کیوں گئے ہیں؟بہرکیف آج حالات یہ ہیں کہ موجودہ حکومت کو چلنے دینے اور عوام کی فلاح کے لیے کام کرنے کے بجائے اْس کے لیے مسائل کے انبار لگائے جا رہے ہیں، کرپٹ حکمرانوں‘جاگیرداروں کو لو ٹی ہوئی دولت کا حساب تو دینا ہی ہوگاَملک میں موجود کرپٹ مافیا کا بلا تفریق کڑا احتساب کر کے ان سے لوٹی گئی دولت واپس لینا ہوگی‘کیونکہ اس کے بغیر ایک مزدور کیلئے فلاحی ریاست کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا اور یہ ملک معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوسکتا ۔اللہ نے اس ملک کے عوام کو سات دہائیوں بعد عمران خان کی شکل میں ایک ایماندار قیادت عطاء کی ہے اور عمران خان نے نئے پاکستان کی بنیاد منشور پر عمل درآمد کرتے ہوئے رکھ دی ہے پاکستان کی عوام کی پر امید نظریں نئی حکومت کی کارکردگی پر جمی ہیں۔کڑا حتساب‘معشیت کی بہتری‘ قرض سے پاک ملک‘لوٹی گئی دولت کی واپسی‘کرپشن کا خاتمہ‘اداروں کی خودمختاری‘ایک کروڑ نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا‘پچاس لاکھ سستے گھروں کی تعمیر‘غیر ملکی قرضوں میں کمی سمیت ملک کو اسلامی وفلاحی ریاست بنانے کے وعدوں کی تکمیل کیساتھ نیا پاکستان بنانا عمران خان کیلئے بہت بڑا ٹیسٹ کیس ضرور ہے مگر نا ممکن کچھ بھی نہیں!آج یقینا ان سب حالات میں نقصان عوام کا ہی ہو رہا ہے،مگر ہما رے ملک کے عوام باشعورہیں، اسے ادراک ہے ،وہ سمجھ سکتے ہیں کہ صدیو ں کی پھیلا ئی گئی گندگی کو صاف کرنے میں وقت لگے گا ۔مگر بہت جلد معاشی طور پر مستحکم اور کرپٹ عنا صر سے پاک ’’ریاست مدینہ کا خواب‘‘خوشحال پاکستان ہم سب کے سامنے ہو گا۔اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے اگر وہ خوشحال پاکستان میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو کرپشن کا ساتھ دینے کے بجائے اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کا ساتھ دیناہو گا تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!