Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Eent Sy Laath Tak

اچانک بلاول بھٹو زرداری کی لات میں اتنا دم کہاں سے آگیا کہ جس کے ایک بار استعمال سے وہ موجودہ حکومت کو تہہ و بالا کرسکتے ہیں۔ گڑھی خدا بخش کی زمین پر بولے جانے والے ان الفاظ کو سن کر میں پریشان کم حیران زیادہ ہوگیا۔حالانکہ صرف اینٹیں بجانے کی وجہ سے ان کے والد بہت عرصے تک دبئی میں دبکے رہے پھر کہیں جاکر ان کی توبہ تائب قبول ہوئی۔جی معاملہ ہے18وں ترمیم کا لیکن سادے الفاظ میں جتنی سمجھ مجھے پڑتی ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس فنڈز کی کمی کا 18وں ترمیم سے اتنا بڑا تعلق نہیں ہے لیکن این ایف سی ایوارڈ کا ہے۔ بہت سی چیزیں جو اب صوبوں کو منتقل ہو گئی ہیں اس کی وجہ سے این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھا دیا گیا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بہت بڑی بحث شروع ہو چکی ہے اور عوام کو اس حوالے سے معلومات فراہم کرنے کیلئے بہت کم کوشش کی جا رہی ہے۔ جواب ڈھونڈنے کے بجائے سوالات پہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ترمیم تو مجموعی طور پر اچھی ہے لیکن مسئلہ اس دلیل میں ہے جو تشکیل دی جا رہی ہے۔ مسائل کیا ہیں یہ نہیں بتایا جا رہا اور اس بات کی بھی کوئی وضاحت نہیں کہ یہ مسائل کیوں حل نہیں ہو سکتے۔ اس بات پر بحث سے پہلے کہ اس ترمیم سے جڑی کن باتوں کو قرار دیا جا رہا ہے، اس میں موجود حل کی نشاندہی کرنا میرٹ کی بات ہے کیونکہ اس ترمیم کی وجہ سے ہمارے نظام کی ساخت میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ اپریل 2010ءمیں منظور کی جانے والی 18ویں ترمیم ایک ایسا قانون ہے جو اتفاق رائے سے منظور ہوا، کسی ایک رکن اسمبلی نے اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ وجہ صاف تھی کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کو سینیٹر رضا ربانی کی زیر قیادت قائم کی جانے والی آئینی اصلاحاتی کمیٹی میں نمائندگی حاصل تھی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا پارلیمنٹ میں ایک رکن ہونے کے باوجود کمیٹی میں اس کا رکن موجود تھا۔ اب وفاقی حکومت اس لیے بھی مشکل میں ہے کہ قرضوں کا پہاڑ ہے جس کی ادائیگیاں وفاقی حکومت کو کرنی ہیں اور وہ ادائیگیاں بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔ وفاقی حکومت کو اپنے ان وسائل سے صحت، تعلیم، دفاعی اخراجات پورے کرنے ہیں اور قرضوں کی واپسی بھی کرنی ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا حکومت یہ تمام سروسز مہیا کرسکے گی یا اسے اپنے آپ کو محدود کرنا ہے۔ صوبوں کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں مختص کیا گیا حصہ کم نہیں ہو سکتا۔ اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو وہ کرنا ہے جو آئین میں دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کا اعتراض 18ویں ترمیم سے زیادہ این ایف سی ایوارڈ پر ہے۔ ترمیم میں این ایف سی کے حوالے سےکہا گیا ہے کہ صوبوں کے فنڈز میں اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی نہیں ہو سکتی۔ ہم اسے این ایف سی کی خامی تو کہہ سکتے ہیں لیکن یہ 18ویں ترمیم کی غلطی نہیں ہے۔ اگر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تو وہ این ایف سی کو ہے۔ صوبوں کے فنڈز کو یکدم 42 فیصد سے بڑھا کر 57 فیصد تو کر دیا گیا لیکن افسوس صوبوں سے کوئی کمٹنمٹ نہیں لی گئی کہ وہ اپنے ذرائع آمدن کو بڑھائیں گے۔ اب صوبوں کو یکدم اتنی بڑی رقم مل جانے کے بعد ان کو اپنے فنڈز کو بڑھانے کی ترغیب ہی نہیں رہی ہے یعنی انہیں بیٹھ کر کھانے کی عادت پڑ گئی ہے۔ 18ویں ترمیم میں صحت ، تعلیم کے علاوہ کئی شعبے صوبوں کے دائرہ اختیار میں چلے گئے ہیں لیکن وفاقی حکومت بھی ان شعبوں پر اخراجات کر رہی ہے۔ اگر وفاقی حکومت مکمل طور پر ان شعبوں سے دستبردار ہو جائے اور وہ وزارتیں اور ایجنسیاں بند کر دے تو اس سے اچھی خاصی رقم بچ جائے گی۔ وفاقی حکومت انسداد پولیو، فلڈ پروٹیکشن جیسے بڑے بڑے پروگرامز کی فنڈنگ کر رہی ہے۔ اگر حکومت ان تمام شعبوں کی فنڈنگ چھوڑ دے جو 18ویں ترمیم میں صوبوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں تو اس کے فنڈز کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کی تشریح کرینگے، یہ پارلیمنٹ میں بحث کے بغیر منظور ہوئی،جوآئینی تشریح کیلئے اہم ہوتی ہے، 18ویں ترمیم پارلیمنٹ میں بحث کئے بغیر منظور ہوئی یہی وجہ ہے کہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس وقت اراکین کیا چاہتے تھے۔سابق چیف جسٹس کہہ گئے کہ پارلیمنٹ اپنا کام کرچکی ہے اب اسکی تشریح ہم کریں گے، حالانکہ پارلیمانی بحث آئین کی تشریح کیلئے اہم ہوتی ہے، دنیا بھر میں آئینی ترامیم سے پہلے سالہا سال تک اس معاملے پر بحث کرائی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں بغیر کسی بحث کے ہی ترمیم کردی جاتی ہے،ہمارے ملک میں اتنی بڑی تبدیلی لائی گئی۔ظاہری بات ہے قانون سازی کیلئے پارلیمان سپریم ادارہ ہے۔ یاد رہے آئین پاکستان میں 18ویں ترمیم 8 اپریل 2010 ءکو پی پی پی کے دور حکومت میں قومی اسمبلی نے پاس کی اور بغیر کسی بحث کے منظور ہوئی، اس وقت آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔ 18ویں ترمیم نے صدر کے پاس موجود تمام ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دئیے۔کیونکہ وزیر اعظم قائد ایوان اختیارات وزیر ہیں اس لیے اختیارات بھی انہیں کے پاس ہی آئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی مغربی سرحد صوبہ کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ وفاق سے زیادہ تر اختیارات لیکر صوبوں کو دیئے گئے۔ اسی ترمیم میں بی اے کی شرط اور تیسری بار وزیراعظم اور وزراءاعلیٰ بننے کی پابندی ختم ہوئی تھی۔18ویں آئینی ترمیم دراصل ایک آئینی پیکیج تھا جو آئین کی مختلف شقوں میں پائے جانے والے ابہام اور مختلف اوقات میں کی جانے والی غیر جمہوری ترامیم کا جائزہ لینے کے بعد ان میں مناسب اضافے اور ترامیم کے علاوہ بعض شقوں کی تنسیخ پر مبنی تھا۔ اس طرح 25 آئینی شقوں میں ردو بدل اور10 مختلف نوعیت کے پارلیمانی فیصلوں کو آئین کا حصّہ بنایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آئین کی یہ ترمیم پارلیمان میں ہوئی تھی تو اس کے کسی نقطے پر بحث بھی لات کے ذریعے نہیں بلکہ بات کے ذریعے پارلیمان میں ہونی چاہیے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!