Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Duain Aur Mujazy !

ماں کے حوالے سے جب بھی لکھتا ہوں پتہ نہیں کہاں سے الفاظ نازل ہونا شروع ہوجاتے ہیں اوریوں محسوس ہوتا ہے میں اِس موضوع پر دوچار کالم نہیں دو چار سو کتابیں لکھ سکتا ہوں، یہ یقیناً ماں ہی کی دعاﺅں کا اثر ہے اللہ میری بے جان تحریروں میں بھی جان ڈال دیتا ہے، میں اکثر اپنے ”کالم ڈے“ پر سوچتا ہوں بیس برسوں کی کالم نگاری میں اتنا لِکھ چکا ہوں، اب شاید ہی کوئی لفظ ایسا ہوگا، یا شاید ہی کوئی موضوع ایسا ہوگا جس پر میں نے نہ لکھا ہو، اب میں اور کیا لکھوں؟ اور کتنا لکھوں؟ خصوصاً اِن حالات میں کیا لِکھوں جب معاشرے پر ہماری تحریروں کا کوئی مثبت اثر ہی نہیں ہورہا، پچھلے دِنوں ایک بڑے کالم نگار نے فون پر مجھ سے سوال کیا ”ہماری تحریروں کا لوگوں پر اثر کیوں نہیں ہوتا ؟“ میں نے بڑے ادب سے عرض کیا ”ہماری تحریروں کا ہم پر اثر نہیں ہوتا دوسروں پر کیسے ہوگا؟“ ہم جو کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں، یا جوکچھ لکھ رہے ہوتے ہیں، ہمارا ذاتی کردار اُس سے بالکل مختلف یا اُس کے بالکل برعکس ہوتا ہے، اِس ”منافقت“ کے نتیجے میں ہماری تحریروں اورتقریروں سے برکت اُٹھ چکی ہے۔ اگلے روز وزیراعظم عمران خان کی خِدمت میں بھی یہی عرض کررہا تھا ”جِس جِس قماش کے لوگ آپ کی کابینہ میں شامل ہیں، یا شامل کروائے گئے ہیں، اُن کی موجودگی میں آپ کے کِسی عمل میں برکت کیسے ہوسکتی ہے ؟“….اُن کا معاملہ مگر اِن دِنوں یہ ہے کوئی کام کی بات اُنہیں بتائی جائے، خواہ وہ اُن کا کتنا ہی بڑا خیرخواہ ہی اُنہیں کیوں نہ بتارہا ہو، وہ سمجھتے ہیں یہ ”نون لیگ“ کی زبان بول رہا ہے ۔ وہ اور کسی حوالے سے تو پتہ نہیں وزیراعظم بنے ہیں یا نہیں، اِس حوالے سے ضرور بن گئے ہیں کہ اب اُنہیں صرف وہی لوگ اچھے لگتے ہیں جو ”مالش “ میں ثانی نہیں رکھتے، ایک زمانے میں وہ جھوٹ بولنے اورجھوٹ سننے کو بدترین عمل سمجھتے تھے، ایک ”تبدیلی“ یہ بھی آئی ہے اب سچ بولنے اور سننے کو وہ بدترین عمل سمجھتے ہیں، میں نے کوئی عہدہ اِس لیے بھی قبول نہیں کیا اُن کے سامنے سچ بولنے کی عادت برقرار رہے …. ماں کے ذکر میں اُن کا ذکر بس ایسے ہی آگیا ۔ حالانکہ کالم پلید کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں یہ عرض کررہا تھا بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے آج لِکھنے کے لیے کچھ نہیں، مگر جب لکھنے بیٹھتا ہوں اچانک خیال اور الفاظ نازل ہونا شروع ہوجاتے ہیں، جیسے میں صرف لِکھ رہا ہوں، لکھوا کوئی اور رہا ہو، میں ایک نکما اور نااہل انسان ہوں، انسان بھی پتہ نہیں ہوں یا نہیں؟ مگر یہ میرے والدین کی دعاﺅں کا ، یا تھوڑی بہت جو میں نے اُن کی خدمت کی، اُس کا اثر ہے کہ جس شخص کو صحیح طرح پڑھنا نہیں آتا تھا وہ لکھتا چلا جارہا ہے، اور اشفاق احمد جیسی شخصیات اُس کے بارے میں فرماتی ہیں ” کچھ لوگ کالم لکھتے ہیں، توفیق بٹ کالم جنم دیتا ہے“۔ اور حسن نثار صاحب فرماتے ہیں ”کبھی کبھی توفیق بٹ کے کالم پڑھ کر میں حیران ہوتا ہوں کس طرح یہ شخص سمندر میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر لیتا ہے“ ….بانوآپا (بانو قدسیہ) نے تو میرے ایک کالم کے ایک مزاحیہ جملے پر پانچ سو روپے انعام بھی دیا تھا “میں نے لکھا تھا”ڈاکوﺅں نے پولیس والوں کا ایک گروہ پکڑا جو کارچوری میں ملوث تھا“ ….اللہ جانے بانو آپا کو یہ جملہ کیوں پسند آگیا تھا ؟۔ میں ایف سی کالج میں اپنی کلاس پڑھا رہا تھا جب اُن کا ڈرائیور میرے پاس آیا اور ایک لفافہ مجھے دیا جس میں پانچ سو روپے تھے، ساتھ ایک چھوٹی سی چِٹ بھی تھی جِس پر لکھا تھا ”خوب لِکھتے ہو اور لِکھتے رہو“۔….میں نے فون پر اُن کا شکریہ ادا کیا تو انہوں نے بتایا یہ پانچ سو روپے کا انعام اُنہوں نے میرے آج کے کالم کے کِسی جملے پر بھجوایا ہے“ ….کیسی کیسی بڑی شخصیات اِس دھرتی سے اُٹھ گئیں، اب چاروں جانب مجھ ایسے”بونے“ ہیں جو کسی جونیئر کی حوصلہ افزائی کرنا باقاعدہ گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں، بلکہ کچھ اور ہی سمجھتے ہیں کیونکہ ”گناہ کبیرہ“ سمجھتے ہوں تو بار بار کریں ،….یہ سب میرے والدین کی دعاﺅں کا اثر ہے مشتاق احمد یوسفی اور سید ضمیر جعفری جیسے بڑے دانشوروں اور مزاح نگاروں نے بھی تحریری طورپر میری تحریروں کو سراہا، ادارہ نوائے وقت کے زیراہتمام شائع ہونے والے ”فیملی میگزین“ کے پہلے شمارے میں ”توفیقات“ کے عنوان سے سید ضمیر جعفری نے جوکچھ میرے بارے میں لکھا، میری زندگی کا وہ سرمایہ ہے، میں ترازو کے ایک پلڑے میں اپنی ساری جائیداد سارا مال وزر ، جوکچھ میرے پاس ہے سب کچھ اُس میں رکھ دُوں اور دوسرے پلڑے میں سید ضمیر جعفری صاحب کا یہ کالم رکھ دوں، کالم والا پلڑا بھاری ہوگا۔ میری اصل جائیداد میرے یہ بزرگ تھے، کئی بار احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، مختار مسعود ایسی شخصیات کی میزبانی کا شرف نصیب ہوا، یہ ساری برکتیں میرے والدین کی وجہ سے تھیں۔ اب بس میں ایک ہی تڑپ میں ہرپل مبتلا رہتا ہوں، وہ والدین سے محرومی کی تڑپ ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے میں کسی بڑی بیماری میں مبتلا ہوں جس کا واحد علاج یہ ہے کہ میرے والدین پھر سے زندہ ہوجائیں، میں پھر سے اپنی ماں کی ٹانگیں اور کاندھے دبا سکوں۔ میں اپنی زندگی کے اِس سب سے بڑے سکون سے محروم ہوچکا ہوں۔ میں پھر سے اپنے ابوجی کو چُوم چاٹ سکوں۔ اور وہ آگے سے مجھ سے یہ کہیں ” پُتر توں اج تک مینوں پتہ ای نئیں لگن دتامیں تیرا پیو (باپ) آں یا پُتر (بیٹا) آں“ ….جی ہاں میں اپنی زندگی کے اس سب سے بڑے سکون سے محروم ہوچکا ہوں،…. اللہ نے ماں کو دنیا میں اپنا دوسرا روپ قرار دیا، اللہ ایک ہے، ماں بھی ایک ہے۔ بڑے سے بڑا رشتہ اِس رشتے کا نعم البدل نہیں ہوسکتا، یہ ممکن ہی نہیں ہے، ہمارے دین نے ایک آدھ حوالے سے عورت کو مرد سے کم تر قراردیا ہے، مگر عورت کو جو مقام بطور ایک ماں کے حاصل ہے وہ مردوں کے ہرمقام پر بھاری ہے، والدین کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا، امی اور ابو کی وفات کے بعد بڑی سے بڑی خوشی وہ لُطف نہیں دے سکی جو اُن کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر دوبالا ہوجایا کرتا تھا۔ البتہ اُن کی وفات کے بعدکوئی دُکھ کوئی غم اب بڑا غم نہیں لگتا کہ کِسی انسان کی زندگی کا سب سے بڑادُکھ سب سے بڑا غم اُس کے والدین کے انتقال کا ہوتا ہے۔ والدین کی جدائی برداشت کرنا میرے لیے ناممکن تھا، اِس ناممکن کو ممکن میرے اِس اطمینان نے بنایا کہ اب وہ اللہ کے پاس ہیں، جو اپنے بندوں سے ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے “۔ میرے والدین فرشتوں جیسی صفات کے مالک تھے۔ چنانچہ میں اِس عجیب وغریب احساس میں مبتلا ہوں کہ میں جب قبر میں اتروں گا حساب کتاب لینے والے فرشتوں کے آس پاس موجود ہوں گے۔ مجھے کسی سوال کا جواب نہیں آئے گا تو وہ اشاروں سے مجھے سمجھا دیں گے، وہ وہاں نہ بھی ہوئے ان کی دعائیں تو وہاں ضرور ہوں گی۔ وہاں بھی وہ میرے کام آئیں گی !


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!