Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Dr Khawaja Khursheed Ki Shandaar Salgira

ڈاکٹر خواجہ خورشید میرا دوست ہے میرا بھائی ہے میرا عزیز ہے۔ عزیز ازجان ہے۔ اس کی ساٹھویں سالگرہ اس کی اہلیہ یاسمین خواجہ نے منائی۔ بہو بیٹے امریکہ سے آئے ہمیں بھی بلا لیا گیا۔ یاسمین خورشید خواجہ اہلیہ ہیں مگر یہ اہلیہ اہل سے بھی ہے۔ وہی ساری محفل میں نمایاں تھی ایکٹو تھی اور مسلسل مہمان داری میں لگی رہی۔ مجھے اور میری اہلیہ رفعت خانم کو یاسمین ہی نے بلایا تھا۔ برادرم خواجہ خورشید کبھی اپنی ساٹھویں سالگرہ نہ مناتا۔ اس کی سالگرہ کبھی نہیں منائی گئی۔ کم از کم میرے علم میں نہیں۔ یاسمین نے بھی یہ سالگرہ منائی کہ یہ ساٹھویں سالگرہ تھی۔ خواجہ خورشید کو یہ بتلانے بلکہ جتلانے کے لیے کہ تم ساٹھ سال کے ہو گئے ہو۔آدمی کبھی اپنے آپ کو ریٹائر نہیں سمجھتا۔ ٹائر ہو سکتا ہے۔ یہ میں نے تھکنے کے معنوں میں استعمال کیا ہے مگر خواجہ خورشید تو کبھی تھکا ہی نہیں۔ تھکن میں ایک لگن ہے۔اس کی سالگرہ کی تقریب میں ہم بیٹھے بیٹھے تھک گئے۔ وہ مسلسل چلتا رہا مگر تھکن کی کوئی کیفیت اس کے بدن اور اُس کے چہرے پر نہ تھی۔ یاسمین بھی اس سے کم مصروف اور سرگرم نہ تھی۔ سارا انتظام اس کے ذمے تھا مگر وہ خوشدلی سے آخر تک ہر مہمان کی توجہ سے خاطر داری میں مصروف رہی۔ اُن کی بیٹی انعم خواجہ بھی نمایاں تھی اور مائیک اس کے ہاتھ میں تھا۔ یہ ایک بڑی یادگار اور مختلف محفل تھی۔ بے تکلفی کی ایک فضا تھی جو سب کے لیے پسندیدہ تھی۔ یہ محفل یاسمین نے خواجہ خورشید سے بھی چھپائے رکھی۔ اتنی چھپائی کہ محفل میں شریک ہو کے بھی خواجہ صاحب کو پتہ نہ چلا کہ اُن کی سالگرہ کی محفل ہے۔غالباً انعم بیٹی نے مجھ سے کچھ کہنے کے لیے کہا یہ اتنا فوری اور اچانک ہوا کہ میں جو گفتگو کو آرزو کا متبادل سمجھتا ہوں۔ گبھرا گیا۔ میں نے کچھ خواجہ صاحب کے لیے کہا۔ نجانے کیا کہا۔ البتہ میری اہلیہ رفعت نے ایک شعر مجھے سُنایا جو اصل میں ساری محفل کو سنانا چاہئے۔ خواجہ صاحب توجہ کریں۔ ؎

وہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھائوں جیسا ہے

بہت اچھا شعر ہے۔ میری اہلیہ بہت ذوق و شوق والی ہے۔ اُسے سینکڑوں اشعار یاد ہیں۔ وہ مجھے حیران کرتی رہتی ہے۔ مگر لوگوں کو حیران نہیں کرنا چاہتی۔ انہیں پریشان کرنا چاہتی ہے۔خواجہ خورشید میرے سامنے جوان ہوا۔ اس کی شادی پوری طرح رفعت کو یاد ہے۔ اُن کے بچے ہمارے سامنے بڑے ہوئے۔ انعم خورشید، مہر خورشید اور بلال خورشید۔ بچوں کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ سارا بلال کی بیوی ہے، ان کی والدہ یاسمین خورشید ان سب سے زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔ بیٹی بھابھی یاسمین خوش مزاج ہیں۔ وہ ساری محفل کی جان ہیں۔ خواجہ صاحب کے نانا محترم فضل الٰہی ہمارے قصبے موسیٰ خیل کے بہت باوقار آدمی تھے ان کی سب عزت کرتے تھے۔ خواجہ صاحب کی والدہ کو رفعت بہت یاد کرتی ہے۔ خواجہ خورشید کے بڑے بھائی خواجہ ابال میرے بہت دوست تھے۔ ان کی یادیں بے شمارہیں وہ کسی دوسرے کالم میں لکھوں گا۔بھائی خواجہ سکندر کے ساتھ محفل میں ہی فون پر میانوالی سے بات ہوئی۔ خواجہ سکندرکی بہو اور خواجہ غفار کی بیٹی طیبہ اور بیٹی تسنیم سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہاں ایک غیر رسمی اجتماع تھا جس کے ساتھ جو چاہتا ملتا باتیں کرتا۔ میرے ساتھ ڈاکٹر طارق نیازی کی گپ شپ ہوئی۔ وہ میانوالی میں پریکٹس کرتے ہیں۔ وہاں سب لوگ مجھے جانتے تھے۔ میں کچھ لوگوں کو نہیں جانتا تھا مگر یہ تکلف بھی مٹ گیا۔ یاسمین خورشید نے ماحول ہی ایسا بنایا کے سب ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل گئے… ڈاکٹر نجم ایاز مسلسل چلتے ہوئے گاتے رہے۔ یہ ان کی محبت تھی۔ ہم بھی ان کے شریک ہوئے گیت سننا بھی ایک عمل ہے جو گانے والے کو تقویت دیتا ہے۔ وہ خواجہ خورشید کی محبت کو سارے ماحول میں رچا دینا چاہتے تھے۔ یہ ایک مختلف خوشی کی محفل تھی جس کا کریڈٹ بھابھی یاسمین کو جاتا ہے۔ ڈاکٹر خورشید کو بھی یہاں آ کے پتہ چلا کہ اس کی سالگرہ ہے مگر یہ پتہ نہیں چلا کہ اس کی ساٹھویں سالگرہ ہے۔ وہ ساٹھ سال کا لگ بھی نہیں رہا تھا۔ ہر شخص یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی سالگرہ ہے مگر جب اسے معلوم ہوتا کہ ساٹھویں سالگرہ ہے تو وہ خاموش ہو جاتا اور خواجہ خورشید کو مبارکباد دینے کے لیے تیار ہو جاتا۔خواجہ صاحب نے بہت اہم خدمات میڈیکل کی دنیا میں انجام دیں۔ وہ ہر شخص کے کام آئے۔ وہ چیئرمین اینڈ ہیڈ آف ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میوہسپتال لاہور کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے بڑی عزت اور محبت پائی وہ میڈیکل یونیورسٹی کے اہم ترین افسران میں سے تھے۔سالگرہ کی شاندار تقریب میں یاسمین خواجہ خورشید نے سارا اہتمام کیا۔ مجھے بھی دعوت انہوں نے ہی دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تقریب جس مقام پر ہوئی اس کانام ’’فردوس بریں‘‘ ہے۔ مرنے کے بعد ہم فردوس بریں میں جائیں گے یا نہیں جائیں گے۔ یاسمین خورشید نے ہمیں جیتے جی فردوس بریں میں پہنچا دیا۔ ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ وہ اگلی دنیا میں بھی ہمارے فردوس بریں کی دعا کریں اور سفارش کریں بلکہ اہتمام کریں۔ اس تقریب میں جتنے لمحے گزرے وہ کم نہ تھے۔ ہم نے دل و جان سے فردوس بریں میں ہونے کا لطف اٹھایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!