Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Dil Sahib Aulad Se Insaf Talab Hai

میری ملاقات محبت اللہ، حُسن پری، ہلال احمد اور دیگر بچوں سے چلڈرن ہسپتال لاہور کے مسافر خانے میں ہوئی، یہ بچے اتنے ہی خوبصورت تھے جتنے ہمارے اور آپ کے بچے ہو سکتے ہیں بلکہ سچ پوچھئے تو ان سے بھی کچھ زیادہ کہ پختونوں، افغانیوں اور گلگت بلتستانیوں کے بچے واقعی بہت دلکش ہوتے ہیں۔ اصل بات پوچھئے تو وائے ڈی اے پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن ڈاکٹر عمر شفیق نے جان عذاب کر رکھی تھی کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ میں بڑے ہسپتالوں کو ملنے والی خود مختاری ( وہ اسے نجکاری اور ٹھیکیداری کہہ رہے تھے) میڈیکل کمیونٹی کے لئے کم اورغریبوں کے لئے کہیں زیادہ زہر قاتل ہے ۔ میں اپنے دو عشروں سے زائد کے تجربات کی بنا پر ان کے بہت سارے مشاہدات اور خدشات سے متفق تھا مگر میرے ذہن میں یہ سوال تو موجود تھا کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہی یہی ہے کہ اس نے خیبرپختونخوا میں صحت، تعلیم، بلدیات اور پولیس میں اصلاحات کی بنیا د پر ہی اس صوبے کی حکمرانی دوبارہ حاصل کی ہے اور اگر ایم ٹی آئی اتنا ہی برا ہے تو وہاں اسے خوش آمدید کیوں کہا گیا ہے ؟ میرے سوال کا جواب حیران کن تھا، بتایا جا رہا تھا کہ خیبرپختونخوا میںہسپتالوں کو بورڈ کے حوالے کرنے کے بعد وہاں تیس کے قریب ڈی ایچ کیوز اور ٹی ایچ کیوز بند ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے ایم ٹی آئی کو ڈاکٹروں کی اپنی ذیلی تنظیم قائم کرتے ہوئے تجرباتی بنیادوں پر منظور کروایا مگر اس تجربے کے ناکام ہونے کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جن اداروں میں اس ایکٹ کے تحت بورڈز کو قائم کیا گیا وہاں سے نصف کے قریب سینئر پروفیسرز اور دیگر سٹاف رخصت ہو چکا ہے اور وہاں کی تمام تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کے تحت ہسپتالوں کی نجکاری کی مخالف ہو چکی ہیں اور وائے ڈی اے پنجاب کے ساتھ مل کر ہڑتال اور احتجاج کررہی ہیں۔ میرا ایک اور سوال تھا کہ عمومی تاثر ہے کہ ڈاکٹر کام نہیں کرتے اور مریض رُلتے رہتے ہیں لہٰذا اگر وہ کنٹریکٹ پر ہوں گے تو کم از کم نکالے جانے کے خوف سے کام تو کریں گے، مجھے اس سوال کے دوجواب ملے، ڈاکٹر عمر شفیق نے مجھے 29 اپریل کی میڈیکل یونٹ ون کی پیشنٹ پوزیشن دکھائی جس میں 48 بیڈز پر 304 مریضوں کا علاج کیا گیا، ان کا موقف تھا کہ یہ سب مریض ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرامیڈکس نے ہی دیکھے اور ان کا علاج کیا گیا، بیڈز پورے کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج نہیں ہو رہا اور دوسرا جواب کچھ زیادہ تلخ تھا کہا اگر کنٹریکٹ سسٹم اتنا ہی اچھا ہے تو اسے بیوروکریسی اور فوج میں کیوں لاگو نہیںکر لیا جاتا؟ مجھے کالم لکھتے ہوئے یاد ہی نہیں رہا کہ میں تو آپ کو محبت اللہ، حسن پری ، ہلال احمد اور دیگر بچوں سے ملوا رہا تھا۔ میری یہ ملاقات اس وجہ سے ہوئی کہ اگر میں بھی ٹھنڈے ائیرکنڈیشنڈ سٹوڈیو میں بیٹھ کر پروگرام کر لیتا یا اپنے گھر میں بیٹھ کے کسی وزیر، مشیر کو خوش کرنے کے لئے کالم لکھ لیتا تو میرے سامنے حقائق کبھی نہ آتے، میں اپنی لفاظیسے واہ ، واہ تو کروا لیتا مگر اپنے لوگوں کا حق کبھی ادا نہ ہوتا۔ مجھے ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس نے بتایا کہ چلڈرن ہسپتال کے بعض شعبوں میں خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ افغانستان تک سے آنے والے مریضوں کا رش چالیس سے ستر فیصد تک ہوتا ہے ۔ میرے لئے یہ ناقابل یقین تھا کہ لوگ خیبرپختونخوا کے مثالی بنا دئیے گئے ہسپتالوں کو چھوڑ کر پنجاب کے کرپٹ ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ وہ کیوں آتے ہیں ، میرا سوال تھا اور جواب عملی تھا کہ چلئے آپ چل کے خود ہی ان سے پوچھ لیں۔ یہ مناسب نہیںتھا کہ میں کیمرا لے کر وارڈوں میں گھس جاتا مگر چلڈرن ہسپتال کی نئی عمارت کے ساتھ ایک مسافر خانہ بھی ہے اور جب میں وہاں پہنچا تو وہاں انہی مریضوں کاڈیرہ تھا۔ یہ بچے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں، شمالی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی ، گلگت بلتستان اور افغانستان تک سے آئے تھے۔ ان میں سے اکثریت کو بلڈ کینسر تھا مگر ان کے والدین بتا رہے تھے کہ پشاور اور ایبٹ آباد کے ہسپتالوں میںا ن کے علاج کے لئے اٹھارہ، بیس لاکھ روپے تک طلب کئے جا رہے تھے جو غریب والدین کے لئے ادا کرنے ناممکن تھے اور اگر وہ خیبرپختونخوا کے مثالی ہسپتالوں میں ہی بیٹھے رہتے تو علاج نہیں ہونا تھا اور انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے سامنے سسک سسک کرمرتے ہوئے دیکھنا تھا اور یہی وہ ٹھیکیداری سسٹم ہے جس کو نوشیرواں برکی پنجاب کے ہسپتالوں میں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد کسی بھی حکومتی پالیسی سے آزاد ہوتے ہوئے اس ہسپتال کا بورڈ فیصلہ کرے گا کہ کس مریضسے کتنے پیسے وصول کرنے ہیں، اس طرح عملی طور پر ہمارے ٹیکسوں کی کمائی سے بنے ہوئے یہ ہسپتال پرائیویٹ ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!