Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Dhol Sahany

چند ماہ پہلے جب جاڑا اپنے عروج پر تھا تو میں بھی شام ڈھلتے ہی گرم اور اونی لباس پہن کر باہر نکلتا اور کوشش کرتا کہ سردی کی شدت سے حتیٰ الامکان بچا جاسکے۔ لیکن انہی دنوں جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ایک تصویر میری نظر سے گزری تو میں کانپ اٹھا۔ لاہور کی مال روڈ پر شدید سردی میں ایک باپ کی گود میں اس کے بچے سورہے تھے، یہ سب ایک ہی چادر میں سردی سے جنگ کررہے تھے، اور ان کے آگے لکڑی کے وہ کھلونے پڑے تھے جسے بیچ کروہ پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے درپے تھے۔ پھر کیا تھا چیرے ہوئے دل کے ساتھ چند دوستوں کے ساتھ مل کر بازار کا رخ کیا اور استطاعت کے مطابق گرم کپڑے اور موزے خریدے کر اس طرح کے ضرورت مندوں میں تقسیم کردیے۔ اس واقعے کو بتانے کا مقصد قطعاً اپنی نیکی کا پرچار نہیں ہے ضرورت مندوں کی ضرورت اب بھی باقی تھی۔ اس تصویر کی چھاپ ریاست مدینہ کا تصور رکھنے والے ہمارے وزیراعظم عمران خان کے ذہن پر بھی اتری۔ انہی کی ہدایت پر سرد راتوں میںکھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے شیلٹر ہوم کا قیام کئی شہروںمیں عمل میں لایا گیا۔ وزیراعظم نے خود ان شیلٹر ہومز کا دورہ کرکے انتظامی امور اور لوگوں کو مہیا سہولتوں کا بھی جائزہ لیا۔ لیکن ریاست کے ماں جیسا لگنے کے لیے ابھی کرنے کو بہت کچھ باقی ہے۔گزشتہ سال نومبر میں بین الاقوامی رحمت العالمین کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فلاحی ریاست وسائل نہیں، احساس سے بنتی ہے.پھر کیا تھا چند ماہ بعد ہی اپنے الفاظ کی پاسداری میں وزیراعظم نے ’احساس‘ کے نام سے غربت مٹاو¿ پروگرام کا اعلان کردیا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی پارٹی نے اقتدار میں آکر غریبوں کی فلاح اور ان کے لیے آسائشوں کا سامان پیدا کرنے کا اعلان کیا ہو۔ گزشتہ 30 سالوں میںدور کوئی بھی ہو غریب کا خاتمہ ہوتے تو دیکھا ہے غربت کا نہیں۔ لیکن یہ بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق افراد کو وظائف آج بھی مل رہے ہیں۔

اسلامی فلاحی ریاست میں احساس اور کفالت پروگرام کے خدوخال بیان کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غربت ختم کرنا بھی جہاد ہے اور ہم ملک سے غربت ختم کریں گے۔ وزیراعظم نے چین کی مثال بھی دی جس نے 30سالوں میں 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا اور یہی وجہ ہے کہ چین آج معاشی طاقت ہے۔غربت کے خاتمے کے پروگرام میں 80 ارب روپے اضافے کا اعلان، اور نئی وزارت

کے قیام کے ساتھ اس پروگرام کیلئے پورے ملک میں کام کرنے کا فیصلہ بھی قابل ستائش محسوس ہورہا ہے کیونکہ محض یہ ابھی وعدہ ہے تکمیل کے لیے معاشی بدحالی کا شکار پاکستان کو ابھی کئی مراحل سے گزرنا ہے۔ لیکن دل میں خوشی کی لہر ضرور ہے کیونکہ ماضی میں کسی سربراہ مملکت نے مسلسل غربت کے خاتمے اور فلاح انسانیت کے لیے اتنے بلند و بانگ دعوے نہیں کیے۔اس پروگرام کے تحت 57 لاکھ خواتین کیلئے سیونگ اکاو¿نٹس بنیں گے۔ دیہات میں ڈیجیٹل حب سے عوام اپنے بینک اکاو¿نٹس اور نئی نوکریوں سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گے۔ دیہی خواتین کی مدد کیلئے بکریاں اور دیسی مرغیاں دی جائیں گی، یوٹیلیٹی اسٹورز کے اندر بیج رکھے جائیں گے تاکہ لوگ ان کو خرید کر گھر میں پودے لگا سکیں۔ طالب علموں کو پڑھنے کے لیے گرانٹ،بیرون ملک روزگار کے حصول کے لیے جانے والوں کے لیے سہولیات، مزدوروں اورکسانوں کو آسان شرائط پر قرضے اور بزرگ شہریوں کیلئے گھر بنا کر دینے کاوعدہ بھی وزیراعظم نے کرلیا ہے۔ماضی کے غربت مٹاو¿ پروگرام سے یہ پروگرام قدرے مختلف یوں نظر آتا ہے کہ پہلی بار غربت مٹاو¿ پروگرام جسے احساس اور کفالت کا نام دیا گیا ہے اسے باقاعدہ ایک خودمختار وزارت کے سپرد کیا جائے گا۔ یعنی ایک ایسی وزارت کاقیام عمل میں آرہا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف فلاح عوام ہوگا اور اس وزارت کی کارکردگی وزیراعظم کی زیر تفتیش بھی ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نئی وزارت کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 38 ڈی میںترمیم کی جائے گی جس میں عوام کے بنیادی حقوق کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے آئین میں ترمیم کر کے اس کو عوام کا بنیادی حق بنانا ہے تاکہ عوام حق نہ ملنے کی صورت میں عدالت سے اپنے بنیادی حق کے لئے رجوع کرسکیں۔ یہ پہلا قدم ہے اور اس کے ذریعے حکومت خود اپنے اوپر ایک دباو¿ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے پسماندہ اور کمزور طبقات کے لئے 80ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ 2021ءتک 120 ارب مزید بڑھائیں گے۔ رحمت العالمین حضرت محمد کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم کا فرمانا تھاکہ ہر کامیاب شخص کی زندگی سے لوگ سیکھتے ہیں دنیا میں سب سے کامیاب ہمارے پیارے نبی تھے۔ جنہوں نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی جس کا پہلااصول رحم تھا۔ مدینہ کی ریاست دنیا میں پہلی فلاحی ریاست تھی جس نے کمزورطبقے کی ذمہ داری لی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں کو یاد رکھناچاہیے یورپ نے مدینہ کی ریاست کے اصول اپنائے اور ترقی کر گئے۔وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو تخفیف غربت کے حوالے سے جامع دستاویز تیار کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے غربت کے خاتمہ کا جہاد شروع کیا ہے، انسان کا دنیا میںآنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اللہ جتنا زیادہ دیتا ہے وہ اس پر اتنی ہی ذمہ داری بھی ڈال دیتا ہے کہ وہ ان کے لئے کیا کرتے ہیں جن کو زیادہ نہیںدیا، یہی اصل زندگی کا امتحان ہے۔یہ سب سننے میں اتنا اچھا لگ رہا ہے اگر واقعی اس پروگرام پر عمل ہوگیاتو وہ دن دور نہیں ہوگا جب پہلی بار اس نعرے کو اس کا اصل مفہوم حاصل ہوگا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!