Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Deewar Kia Giri

اسد عمر کے استعفے کے بعدپوری بتیسی باہر تھی اوربلیوں اچھل رہے ہیں اور لگ ایسا رہا ہے جیسے حکومت ن لیگ کو مل گئی یا پھر پیپلز پارٹی بر سر اقتدار آ گئی ہے۔ شعر یاد آیا ۔
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے
جھلے ہیں اور بھولے بادشاہ ہیں وہ لوگ جو عمران خان کو نہیں جانتے ‘نسل در نسل غلامی کی زندگی گزارنے والوں کو پہلی بار صحیح جمہوری کلچر سے پالا پڑا۔اس سے پہلے کون کسی وزیر سے استعفیٰ لیا کرتا تھا۔ماضی قریب میں چلے جائیں اور بتائیے پرویز رشید، مشاہد اللہ ،نہال ہاشمی، فاطمی کا استعفیٰ کیسے لیا گیا اور مزید بد نیتی دیکھئے رانا ثناءاللہ سے ماڈل ٹاﺅن کیس پر استعفیٰ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں وزیر قانون بنا دیا جاتا ہے ۔لیکن دوستو!دیکھئے وہ استعفے اور یہ استعفے ۔
پی ٹی آئی نے اسد عمر کی بعض پالیسیاں جو عوام کے لئے اور ملک کے لئے مناسب نہیں سمجھی گئیں ،اس کی بنیاد پر فارغ کیا گیا لیکن جس عزت اور پیار سے ان سے یہ وزارت لی گئی وہ طریقہ ٹھیک تھا۔ انہیں کہا گیا کہ آپ وزارت توانائی لے لیں لیکن انہوں نے معذرت کر لی۔ یہ عمران خان تھا جس کی عوام میں جڑیں تھیں۔استعفے ایسے آسانی سے ہضم نہیں ہوتے ۔بھٹو سے ان کے منہ بولے ڈیڈی ایوب خان نے 1965ءکی جنگ میں غلط فیصلوں کی وجہ سے استعفیٰ لیا تو وہ تاشقند معاہدے کی آڑ لے کر عوام میں چلے گئے ۔اللہ کے کرم سے ہمارے کسی ایک وزیر نے اف تک نہیں کی اور فیصلوں کو من و عن تسلیم کیا۔فواد چودھری کی جگہ فردوس عاشق اعوان کو لیا گیا اور اسد عمر کی جگہ حفیظ شیخ آئے۔
غلام سرور خان کی منسٹری کی تبدیلی کی وجہ انہوں نے خود بتا دی کہ مجھے کئی روز پہلے چیئرمین نے کہا تھا کہ یہ وزارت ٹیکنیکل ہے آپ کے بس کی بات نہیں انہیں دوسری منسٹری دے دی گئی۔ ایک عامر کیانی کی وزارت گئی ‘وزارت صحت میں جو کچھ ہوا اس کا اثر عوام پر پڑا،جان بچانے والی دوائیاں دل اور موذی امراض کی دوائیوں کی قیمتیں چار سو گنا تک بڑھیں تو انہیں ٹکاسا جواب دے دیا گیا۔کیانی عمران خان کے پرانے دوستوں میں ہیں لیکن جہاں معاملہ عوام اور قومی دولت کے زیاں کا آیا اس نے معاف نہیں کیا۔ میں نے دو ہفتے پہلے علی نواز اعوان سے ایک شادی کی تقریب میں کہا تھا کہ لگتا ہے کہ کیانی کی وزارت گئی، اس لئے کہ معاملات کی بھنک ہمارے کانوں میں پڑ چکی تھی۔مجھے اس بات کا پورا یقین تھا کہ عمران خان کو اگر کسی قسم کی کرپشن اور بدعنوانی کی ایک معمولی سی بھنک بھی پڑ گئی تو وہ اسے مثال بنا دے گا۔دعا کریں معاملہ یہیں تک رک جائے کچھ بھی ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے نیب ان مستعفی وزیروں کے پیچھے جائے خاص طور پر جنہیں ون وے گھر بھیجا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے نیا کلچر متعارف کرایا ہے جو اس سے پہلے کسی جماعت میں نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے لوگ جو کھسیانی ہنسی ہنس رہے ہیں انہیں تو گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ ترک وزیر اعظم کا تحفے میں دیا گیا ہار کا ہی معاملہ سامنے رکھا جائے تو مقام غریق بن جاتا ہے ان دو پارٹیوں کی لوٹ کھسوٹ کے قصے سن سن کر کان پک چکے ہیں اگر ان کی لوٹ کھسوٹ پر لکھیں تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے وزیر بدلے ہیں ،یہ پہلے بھی ہو سکتا تھا لیکن ماضی قریب میں جب کابینہ میں تبدیلی کے اعلان ہونے والے تھے اس وقت پاک بھارت لڑائی کی وجہ سے یہ معاملات رک گئے ۔اسد عمر سے استعفیٰ لینے میں دو رائے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ملک جیسے تیسے بھی مشکل میں تھا یہ اس سے نکل جانے کے راستے پر چل نکلا تھا اگر کچھ عرصہ اور برداشت کر لیا جاتا تو ہو سکتا تھا ہم آئی ایم ایف کی چیرہ دستیوں سے نکل جاتے۔یہی لوگ کہتے ہیں کہ جن لٹیروں نے اس ملک کو لوٹا انہیں عدالتوں سے بریت مل رہی ہے۔جن سے دولت اگلوانی یا نکلوانی تھی وہ لوگ لاہور سے پاک ہو کر نکل رہے تھے یہاں جس کی ضمانت ہو جاتی ہے سمجھو اس کی جان بھی چھوٹ جاتی ہے ۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مہنگائی کو روکا جا سکتا تھا اگر اسد عمر سخت بیانات نہ دیتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چھپائے گئے ڈالروں اور ریالوں کو لوگوں سے نکلوا کر پاکستان کی مشکلات کم ہو سکتی تھیں ۔اور زیادہ تر تو ایمنسٹی اسکیم کے مخالف تھے۔ان سب چیزوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پی ٹی آئی کے کارکن کو یہ مایوسی ضرور ہوئی ہے کہ اب پی ٹی آئی کے نظریاتی لوگ کابینہ میں نہیں ہیں، مشیروں کی بڑی تعداد بھی مانگے تانگے کے لوگوں کی ہے۔انہیں اس بات پر بھی مایوسی ہے کہ وزیر خزانہ تو وہ ہے جس کے ہاتھوں پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق ہوا۔ ایک ٹاک شو پر جا رہا تھا تو دوست کا فون آیا اس کا کہنا تھا مانیں یا مانیں عمران خان کے ہاتھ باندھ دئے گئے ہیں اسے بوری میں بند کر کے دوڑنے کو کہا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ انٹرنیشنل اسٹیبلیشمنٹ کا نمائندہ خاص ہے اس نے اپنی مرضی سے ان مالیتی اداروں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے جو اس ملک کو پنجہ یہود میں پھنسا کے رکھیں گے ۔اس بھائی کا کہنا تھا یہ حسین حقانی یا شوکت عزیز ہوں یا ترین، حفیظ شیخ ہوں یا پاشا ،ڈاکٹر عشرت ہوں یا کوئی اور عالمی بینک،آئی ایم ایف ایشین بینک کے ملازم یہ سب پنجہ یہود کی گرفت مضبوط کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ بندہ زور دار آواز میں کہہ گیا کہ یاد رکھو رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے، عمران خان کی رہائی کی تحریک شروع کرو۔
میں جس خان کو جانتا ہوں اس نے کئی حفیظ دیکھے ہیں شوکت ترین اور عزیز کے ساتھ تو جدہ میں دیکھ چکا ہوں، عمران خان پیدائشی لیڈر ہے اللہ نے اسے صلاحیتوں سے نوازا ہے، ہاشمی جیسے چالاک گرگے اسے گھیرنے آئے پنکچر ہو کر چلے گئے ۔میرا اللہ اس کے ساتھ ہے بڑی مشکلات میں گھرے ہوئے اس اللہ کے بندے کو میرا رب کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
حالیہ تبدیلیوں کو عمران خان کی شکست سمجھنے والوں کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ایسے ہی کرتا ہے پارٹی میں بھی اکھاڑ پچھاڑ کرتا رہتا ہے، آج کل پارٹی منشور بنا رہی ہے، تنظیم نو جاری تھی، انٹرویوز ہو رہے تھے ارشد داد صاحب لگے ہوئے تھے ،آرڈر آیا چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی آ گئے اور نئے سرے سے کام شروع ہو گیا۔
پارٹی میں 2007ءمیں آیا ہوں میرے ہوتے ہوئے دس تو سیکرٹری اطلاعات آ چکے ہیں ،ایک ایک سے بڑھ کر ایک قابل دیانت دار، سب آئے اپنا اپنا کام کیا، کئی تو دو بار آ گئے۔مجال ہے کہ کوئی غلط پرفارم یا کمزوری دکھانے والا ٹک سکا ہو۔
کارکن پریشان نہ ہوں انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جس طرح عمران خان نے کہا تھا کہ میں کلا ای کافی آں( میں اکیلا ہی کافی ہوں)۔جس شخص کو فضل الرحمن ،نواز شریف، زرداری، اچکزئی ، اسفند یار ولی نہیں گرا سکے انہیں کوئی ادھاریا کیا گرائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں قوم میں مایوسی پھیلی ہے لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہئے کہ کیا عمران خان سے لوگ مایوس ہوئے ہیں بالکل نہیں اس نظام اور اس سسٹم سے لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے جو ایک طرف چند لٹیروں کی لوٹ مار کو دکھاتا ہے قوم کے دل میں ان کے لئے نفرت پیدا کرتا ہے اور پھر یہی نظام انہیں رعائتیں دیتا ہے ضمانتیں مل جاتی ہیں۔نواز شریف ،شہباز شریف ،حنیف عباسی کے کیس آپ کے سامنے ہیں حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں پکڑا جاتا ہے اور پھر اسے ضمانت مل جاتی ہے نواز شریف کو ذہنی دباﺅ کی بناءپر ضمانت ملتی ہے تو لوگوں میں مایوسی تو پھیلے گی ۔
موجودہ دور میں عمران خان کو جن چیلینجز کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کا نہیں تھا اس قوم کو سب سے بڑا دکھ اس کے خواب ٹوٹنے کا ہے۔جو لوگ اپنا سب کچھ لٹا کر تبدیلی کے کارواں میں شامل ہوئے تھے وہ منزل پر پہنچنے کے بعد ہم سے سوال کرتے ہیں کیا اس صبح کے لئے جان ہتھیلی پے رکھی تھی۔سچ تو یہ بھی ہے کہ جو اقتدار میں آ گئے ان کے رویے بھی کارکنوں کو مایوس کر گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کا کارکن آج بھی حالت جنگ میں ہے، اس کے اپنے خان کی حکومت ہے لیکن تھانے کچہریوں عدالتوں میں نظام کی بوسیدگی اسے مایوس کرتی ہے۔اس نے میرٹ کو مانگا ہے انصاف کو مانگا ہے۔اس کی طلب سچی ہے اور اس کارکن کو جب وہ لوگ اقتدار میں دکھائی دیتے ہیں تو وہ پریشان ہوتا ہے اس کی قسمت کے فیصلے اگر پیپلز پارٹی سے آئے ہوئے لوگوں نے ہی کرنے تھے تو اس نے ان سے ٹکر کیوں لی تھی۔ آج عمران کے آس پاس کیا ہے جب اسے وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں جو دھرنے کے دنوں پر ان پر پرچے کٹواتے تھے اس سے پہلے مزاحم ہوتے تھے تو وہ سوال کرتا ہے کہ میں تبدیلی رضا کار ہوں میرے حصے کی تبدیلی کدھر ہے؟
ہفتے کے شروع میں رحمت آباد گیا، وہاں ایک ساتھی کی بیوی فوت ہو گئی تھی وہاں بھی کارکنوں کا یہی شکوہ تھا کہ ہم بے روزگار ہیں ،ہمیں روزگار کون دے گا۔ان میں ایک دوست نے کیا خوب بات کی، اس نے کہا نوکریوں کو گولی مارو ہمارے جنازے اور ہماری خوشیاں اپنے نمائندوں کا منہ تک رہی ہیں کیا وہ یہ بھی نہیں کر سکتے۔پی ٹی آئی کے نمائندوں کو اللہ نے بیٹ کے نشان پر عزت دی ہے اسے سنبھال کے رکھو۔عمران خان کو نہ تو نون لیگ شکست دے گی اور نہ ہی پیپلز پارٹی ،اسے یہ رویے مار دیں گے، کارکنوں سے جنہوں نے مکھ موڑا اللہ نے انہیں رسوا کر دیا۔
اللہ نے عمران خان کو بڑی مشکلات سے نکالا ہے ،اس کے ان فیصلوں سے اللہ بہتری نکالے گا اور نہ ہوا تو وہ توڑ پھوڑ کا عادی ہے وہ اگر کیانی جیسے پرانے دوست کو گھر بھیج سکتا ہے تو کوئی شیخ کوئی اعوان اس کے راستے کا کانٹا نہیں بن سکیں گے۔آج ٹی وی دیکھ رہا تھا ایک نون لیگئے کی بتیسی باہر تھی۔
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!