Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Dahshat Gard Aur Ghurbat Ke Afriat Ka Khatma

فاٹا میںجن دنوںدہشت گردی کے بیج بوئے جا رہے تھے، میںاسی ”علاقہ غیر“کی شمالی وزیرستان ایجنسی میں واقع کیڈٹ کالج رزمک میں زیرِ تعلیم تھا۔ اس علاقے میں 1981ءسے 1985ءتک جو کچھ ہوا اُس کا ایک چشم دید گواہ میں بھی ہوں۔ دہشت گردی کے درختوں کو کاٹنے کی خبرایک مرتبہ پھرگرم ہوئی تومیں بھی ماضی کے بند دریچوں میں دوبارہ جھانکنے پر مجبور ہو گیا۔
افغانستان پر روسی پیش قدمی سے پہلے فاٹا (بالخصوص وزیرستان )کی معیشت کا دارومدار سمگلنگ پر ہوا کرتا تھاکیونکہ وہاں زراعت تھی نہ کوئی اور کارخانہ ،بس اسلحہ سازی ہی ہوا کرتی تھی۔وہاں کے لوگ اسلحہ بنانے میںہی نہیں بلکہ چلانے میں بھی اپناثانی نہیں رکھتے تھے۔اسلحے کے ساتھ ان لوگوں کی محبت کا عالم یہ تھا کہ بندوق کو مرد کی شان سمجھا جاتا تھا اورکوئی بھی ”مرد“ایسا دکھائی نہیں دیتا تھا جس کے کندھے پر بندوق اور گولیاںنہ لٹک رہی ہوں۔میرانشاہ،درہ آدم خیل اور حیات آباد کے باڑا بازار بہت مشہور ہوا کرتے تھے جہاںروسی اشیا ءکی وہ بہتات ہوتی تھی کہ انسان تصور نہیں کر سکتا۔ روسی اشیاءکے علاوہ باڑا بازاروں میںجو چیز کثرت سے بکتی تھی وہ چرس اور شراب تھی ۔
ان لوگوں کی زندگی کامرکز و محور ان کی روایات تھیں،مذہب بھی روایات ہی کا حصہ تھا جس کے ساتھ والہانہ وابستگی کا عالم یہ تھا کہ جو لوگ منشیات اور شراب بیچتے تھے وہ بھی پنجگانہ نماز کے پابند تھے۔کئی منشیات فروشوں نے اپنے وزیٹنگ کارڈ تک چھپوائے ہوئے تھے جن میں سے کئی پر منشیات کے معیاری ہونے کی شرطیہ ضمانت کے علاوہ پراپرائٹر کے نام کے پیچھے حاجی بھی لکھا ہوتا تھا۔ تاہم ان سیدھے سادے لوگوں میںبڑی خوبیاں بھی تھیں۔مثال کے طور پر وہ بڑے ہی مہمان نواز اور قول کے پکے تھے۔مہمان کی حفاظت کرنے اور قول نبھانے میں جان تک قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے ،بالعموم سچ بولتے تھے اور بڑی حد تک امانت دار بھی تھے۔ان میں منافقت کا نام و نشان تک نہیں تھا۔بلا کے بہادر ،بے باک اور صاف گو تھے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی آزادی سے ٹوٹ کر پیار کرتے تھے،یہ الگ بات ہے کہ ان کی آزادی بے مہار بھی تھی اور آوارہ بھی۔
یہ لوگ اپنے دشمن سے انتقام ضرور لیتے تھے،مٹی کے گھروںمیں باقاعدہ طور پر مورچے بنائے جاتے تھے،کئی قبائل کے پاس توتوپیں تک موجود تھیں جو لڑائی میں بے دریغ استعمال کی جاتی تھیں۔دشمنی کی آگ کئی کئی نسلوں سے بھڑک رہی تھی لیکن اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش بزدلی کے زمرے میں آتی تھی اسی لیے اس سے بالعموم اجتناب کیا جاتا تھا۔
افغانستان پر روسی حملے کے بعد سمگلنگ میں بڑی تیزی کے ساتھ کمی واقع ہوتی چلی گئی جس سے کم وبیش ہرکنبے کا کوئی نہ کوئی فرد ضرورمنسلک تھا،باڑا بازاروں کی رونق ماند پڑ گئی،بے شمار لوگ بے روزگار ہوگئے اور اس روکھے سوکھے علاقے کے طول و ارض میں غربت نے ڈیرے ڈالنے شروع کر دیے۔یہ وہ حالات تھے جب امریکہ نے ”جہادی اسلام“کی تردیج کے لیے کثیر فنڈ مختص کیے اورجنرل ضیاالحق کے ذریعے انہیں اپنے من پسند اسلام کی اشاعت و تبلیغ پر مامور کر دیا ۔ سی آئی اے کی سرپرستی میں مسلح جہاد کو فروغ دینے والے مذہبی مدرسوں کا جال بچھا دیا گیا،لوگوں نے (جن میں افغان بھی شامل تھے)اسلام کے نام پرجوق در جوق اپنے بچے ان مدرسوں میں امریکی عزائم کے بھینٹ چڑھنے کے لیے داخل کروانے شروع کروا دیے کیونکہ ایک طرف تو وہ مفلسی وبے روزگاری کی چکی میں پِس رہے تھے اور دوسری طرف اپنی اُن روایات سے اندھا لگاﺅ رکھتے تھے جن میں اسلام اور اسلحہ بنیادی حیثیت کے حامل ہیں،پھر انہیں اپنے ”ازلی و ابدی دشمن“روس سے انتقام بھی تو لینا تھا۔دال روٹی کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر عارضی طور پر حل ہو گیا کہ جو لوگ سمگلنگ کی کمی سے بے روزگار ہوئے تھے جہادی قافلوں میں برسرِ روزگار ہوگئے۔
روس کی شکست کے بعد امریکی مفادات بھی تبدیل ہو گئے،جہادی مدرسوں کا بجٹ بڑی حد تک بند کر دیا گیا،امریکہ تو خیر امریکہ تھا، ہمارے اپنے حکمرانوں نے بھی یہ نہ سوچا کہ مدرسوں کے بند ہونے کے بعد یہ لاکھوں لوگ جو بندوق چلانے کے علاوہ کوئی ہنر جانتے ہی نہیں کہاں جائیں گے اور اپنے بیوی بچوں کو کیا کھلائیں گے؟ کچھ ”مجاہدین“ واپس چلے گئے ،جبکہ کچھ نے کشمیر کا محاذ سنبھالنا ضروری سمجھا۔ امریکہ نے اس کی مخالفت کی کیونکہ ”نیو ورلڈ آرڈر“میں امریکہ کسی صورت بھی بھارت کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا تھا جس کا ساتھ چین کو حساب کتاب میں رکھنے کے لیے بڑی ضروری حیثیت اختیار کر چکا تھا۔میرے خیال میں اس کے بعد ہوا یہ کہ جن ”مجاہدوں“کو امریکہ نے اپنے قابو میں لازمی طور پر رکھنا تھا ان کے علاوہ باقی تمام مجاہد بالواسطہ یا بلاواسطہ ان ممالک کے ہتھے چڑھ گئے جو پاکستان سے حساب چکتا کرنا چاہتے تھے یا جو ان جنگجوﺅں کو کسی اور مقصد کے تحت استعمال کرنا چاہتے تھے۔مجاہدین میںدو طرح کے لوگ تھے،ایک طالب علم اورسپاہی دوسرے معلم اورکمانڈر، پہلی طرح کے مجاہدوں کو تو آج تک بھی یہ پتہ نہیں چل سکاکہ وہ کس کے لیے کام کر رہے ہیں(وہ بے چارے بس یہی جانتے ہیں کہ خدا و رسولکے حکم کی بجاآوری میںجہاد کر رہے جس سے آخرت میں جنت ملتی ہے) البتہ دوسری طرح کے مجاہد بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں لیکن ہر دو طرح کے مجاہدوں کے پاس کچھ اور کرنے کی کوئی ”آپشن“ہی نہیں ،چناچہ وہ ”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق اپنی اپنی ”عاقبت“ سنوارنے میں مصروفِ عمل رہے۔
آمدن برسرِ مطلب دہشت گردی سے نجات پانے کے لئے غربت سے نجات پانالازمی ہے ،اور اس کے ساتھ ساتھ اس خاص نصاب کو بھی کسی لگی لپٹی کے بغیرتبدیل کرنا ہو گا جو میرے خیال میں ”سی آئی اے“کی جانب سے موصول ہوا تھا بصورتِ دیگر دہشت گردی کے بڑے بڑے درختوں کی شاخ تراشی تو جا سکتی ہے لیکن انہیں جڑ سے نہیں اُکھاڑا جا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!