Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Corruption Nahi Haraption

جاتی گرمیوں کی خوشگوار شام خنک زدہ رات میں ڈھلتی ہوئی، اسلام آباد کلب کیفے کی ہلکی روشنی، تیزہوا میں لگاتار دوگھنٹوں سے سندھ کی تحصیل ٹنڈو غلام حیدر کا اورنگزیب بھٹی بول رہا تھا، عبدالحفیظ بھٹی اور میں دم بخود سن رہے تھے، پہلا گھنٹہ مزے کا تھا، چٹخارے دار سندھی کہاوتیں، سچل سرمست ؒ، عبدالطیف بھٹائی ؒ کی جوشیلی شاعری، سندھ کی دلچسپ لوک داستانیں، مگر اب ایک گھنٹے سے یہ بیٹھک اداسی کا لبادہ اوڑھ چکی تھی، ہم جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہنس رہے تھے، اب آنکھوں میں نمی لئےبیٹھے تھے اور یہ سارا قصور میرا تھا، کیسے، یہ بتانے سے پہلے اورنگزیب بھٹی کا تعارف، 5اردو، 3سندھی شاعری کی کتابوں کا خالق یہ شاعر بھی، کالم نگار بھی، موسیقار بھی، گلوکار بھی، مجبو ر سندھیوں کی زبان بھی، سندھ میںہوتے ظلم وستم کاترجمان بھی، اورنگزیب بھٹی برٹش آرمی کے ایوارڈ یافتہ محمد بخش بھٹی کا بیٹا، جو قائداعظم ؒ کے گارڈ، اقبال ؒ کے مداح، فیض احمدفیضؔ کے دوست، اپنے وقتوں کے نامور صحافی سردار فضلی کے یارِغار۔

ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ کیسے میر ی وجہ سے اچھی خاصی مزیدار محفل غم زدہ ہوئی، ہوایوں اورنگزیب بھٹی کی باتیں سنتے سنتے نجانے مجھے کیا سوجھی، اسکی بات کاٹ کر پوچھ لیا’’چند دن پہلے سوشل میڈیا پر سندھ کے کسی علاقے کا ایک وڈیو کلپ دیکھا، زمین پر کپڑے پھاڑے بیٹھا ایک بوڑھا، دونوں ہاتھوں سے سینہ پیٹ پیٹ کر بین ڈالنے کے اند ار میں کہہ رہا، ظالم میری بیٹیاں لے گئے، میری دونوں بیٹیاں لے گئے، خدا کیلئے مجھے میری بیٹیاں واپس لادو، رسولؐ کا واسطہ، مجھے میری بیٹیوں سے ملادو، کیا آپ نے وہ وڈیو کلپ دیکھا، کچھ پتا ہے کہ کب کا، کیا بنا اس دکھی باپ کا‘‘، یہ پوچھنے کی دیر تھی کہ اچھا بھلا ہنستا، مسکراتا اورنگزیب چپ ہوا، پل بھر میں چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے لی، اس نے جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی، سگریٹ سلگایا، چند کش لگائے اور پھر طویل توقف کے بعد آہستہ آواز میں بولا’’سائیں یہ کہانیاں تو عام، اب سندھ میں کوئی محمد بن قاسم نہیں رہا، سندھ راجہ داہروں سے بھر چکا، پورے سندھ میں غریب کی بیٹی مالِ غنیمت، اور خوبصورت ہوتو…اندرونِ سندھ خود آکر دیکھ لیں کئی نیم پاگل والدین گلیوں محلوں میں لٹی عزتوں کی داستانیں سناتے ملیں گے، کوئی پوچھنے والا نہیں، جھوٹی تسلی، دلاسا تک نہیں۔

میں نے تلخ لہجے میں بات کاٹی، کیوںکوئی پوچھنے والا نہیں، بولا’’ضلعی انتظامیہ وڈیروں کی وفادار، پولیس بڑوں کیلئے ملازموںسے بڑھ کر ملازم، جگہ جگہ بڑوں کے ذاتی عقوبت خانے، جیلیں، زمینوں پر قبضے، غریبوں کے گھر، جھونپڑیاں جلا دینا معمول کی بات، کئی غریبوں کو صرف اس وجہ سے سزائیں ملیں کہ جب وڈیرے گالیاں دے رہے تھے تو انہوں نے سائیں کا چہرہ دیکھنے کی جسارت کر لی یا جب سائیں ڈنڈوں، ہنڑوں سے پیٹ رہا تھاتو اس نے ڈنڈا، ہنٹر پکڑنے کی کوشش کر لی‘‘۔

آج بھی میں انسانوں کو جانوروں سے بدتر حالت میں دیکھ رہا، سفید پوشوں کو بیوی، بیٹیوں کے سامنے برہنہ ماریں کھاتے، علاج نہ ہونے پر جسموں میںپڑے کیڑے دیکھ رہا، اورنگزیب بجھے سگریٹ کو دوبارہ سلگانے کیلئے رکا تومیں نے کہا’’اس میڈیا کے دور میں اتنا ظلم وستم، کوئی چرچا نہیں، کیوں؟سگریٹ کے دوکش مارکر کہنے لگا ’’کوئی غریب انتظامیہ، پولیس، میڈیا کے پاس چلا جائے، معصوم بچے عقوبت خانوں، تھانے، حوالاتوں میں، بہنوں بیٹیوں کی عزت لٹ جائیں، زیادہ شور مچائے تو لاش بھی مل سکتی ہے، باقی چھوڑیں 11سال پہلے تحصیل ٹھل ضلع جیکب آباد کی سات سالہ بچی فضیلہ سرکی اغواء ہوئی، چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ازخود نوٹس بھی لیا، کیا ہوا، کچھ بھی نہیں، آج بھی اس علاقے میں کوئی جلسہ، تقریب ہو، کوئی ایم پی اے، ایم این اے، وزیر یا وڈیرہ آئے تو فضیلہ کی ماں سکینہ ہاتھ میں قرآن پکڑے پہنچ جائے، رو رو کر بیٹی بازیاب کرانے کی دہائیاں دے، یہ چھوڑیں، سال بھر پہلے تحصیل میہڑ کی ام رباب چانڈیو کے دادا، باپ، چاچا کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا، سب کو قاتلوں کا پتا مگر کچھ نہیں ہوا۔

سائیں ہم نے سنا تھا کہ سترہویں صدی کے شروع میں سندھ کے حاکم عبدالنبی کلہوڑو کی مدد کیلئے آئے کابل کے حکمراں مددخان پٹھان نے اس مدد کی آڑ میں سندھ میں ظلم وستم کی انتہا کر دی تھی، قتلِ عام، لوٹ مار، گاؤں کے گاؤں جلادیئے مگر میں سمجھتا ہوں موجودہ حکمرانوں نے مددخان پٹھا ن کا ریکارڈ بھی توڑدیا۔

اورنگزیب بھٹی پانی پینے کیلئے بات کرتے کرتے رکا، مجھ میں اور دکھ سننے کی ہمت نہ تھی، موقع غنیمت جان کر فوراً موضوع بدلا ’’یہ بڑے کاروباری گروپ کا کیا چکر ہے، مبینہ کرپشن داستانوں میں کتنی صداقت‘‘ پانی کا گلاس حلق میں انڈیل کر اورنگزیب بولا ’’سائیں یہ کرپشن نہیں ہڑپشن ہے، اصل چیزیں تو منظرعام پر آئی ہی نہیں، میرے گھر سے 3کلومیٹر دور اس کاروباری گروپ کی ایک شوگر مل، 2سال سے گنے کے زمینداروں کو ایک دھیلا نہیں ملا، مل والوں نے مبینہ طور پر چھوٹے ملازمین کے شناختی کارڈوں پر 5پانچ لاکھ، افسروں کے شناختی کارڈوں پر کروڑوں کے قرضے لے لئے، میرا اپنا بھتیجا جو شوگر مل میں اکاؤنٹ افسر، اس کے نام پر 13کروڑ کا قرضہ لے لیا گیا، ہمیں پتا تب چلا جب نیب دفتر سے ہمیں فون آیا‘‘، سائیں اس بار الیکشن میں تبدیلی کی امید پیدا ہوئی مگر مبینہ طور پر جس دھونس، دھاندلی سے پی پی کو جتوا گیا وہ شرمناک، دو تین ضلعوں کے علاوہ ہرجگہ ہاری ہوئی پی پی جیت گئی، کہیں دو ہزار کا ایک ووٹ، کہیں نئے ماڈل کی گاڑی، کہیں تھانیدار کاڈر، کہیں وڈیرے کا خوف، کہیں مبینہ طور پر خود ٹھپے۔

سائیں میں ٹاؤن کمیٹی میں ملازم، مگر ساڑھے 5سال سے تنخواہ نہیں ملی، پتا ہے میر اجرم کیا، میر اجرم یہ کہ ایک عید پر مجھے ٹاؤن کمیٹی افسر کافون آیا، کہنے لگا، ٹریکٹر ٹرالی آرہا، ریسیو کر لو، میں نے جاکر دیکھا تو صرف ٹرالی کھڑی تھی، ٹریکٹر کا نام ونشان تک نہیں، میںنے ٹاؤن کمیٹی افسر کو فون کر کے بتایا تو بولا’’تم کاغذوں میں ٹریکٹر ٹرالی ریسیو کرلو، باقی میں خود سنبھال لوں گا‘‘ میں نے انکار کردیا اور کاغذوں میں صرف ٹرالی ہی ریسیو کی، وہ دن اور آج کا دن، مجھے تنخواہ نہیں ملی حالانکہ میں تو وہ جس نے جب ذوالفقار بھٹو کی’ منظوم سوانح حیات‘ لکھی تو اپنی وفات سے 3ماہ قبل بے نظیر بھٹو نے فون کیا، بولیں، ’’شاعری میں بھٹو شہید کی زندگی، سن کر بہت لطف آیا، آپ نے بھٹو خاندان کو اپنا مقروض بنا دیا‘‘ آج بھٹو کے سند ھ میں میر ے ساتھ یہ ہورہا ہے۔

یہاں پہنچ کر ایک بار پھر اورنگزیب کا لہجہ گلوگیر، آواز بھرائی، ماحول بوجھل ہوا اوراس سے پہلے محفل پھر سے دکھی ہوجاتی میںنے زیرلب مسکراتے ہوئے اورنگزیب کی بات کاٹ کر کہا’’اگر یہ بات ہے تو پھر آپ کے ساتھ صحیح سلوک ہورہا‘‘ حیران ہو کربولا’’میں سمجھا نہیں‘‘ میںنے کہا’’بی بی نے کہا تھا ناکہ آپ نے بھٹوخاندان کو اپنا مقروض بنالیا‘‘ بولا’’ہاں کہاتھا‘‘ میں نے کہا’’بھائی جان زرداری صاحب بھٹو خاندان کے وہی قرض تو اتار رہے بلکہ سود سمیت اتاررہے اور آپ اکیلے نہیں، آپ سے لے کر بلاو ل بھٹوزرداری تک، زرداری پیپلزپارٹی، بھٹو پیپلز پارٹی کا سود سمیت قرضہ اتار رہی، چندلمحے تک تو اورنگزیب کے بات سمجھ نہ آئی، لیکن جونہی کچھ پلے پڑا، ایک زوردار قہقہہ ماکر بولا’’سائیں اگر آج بلاول اورمیرا دکھ ایک ہی تو پھر مجھے تنخواہ نہ ملنے کاکیا دکھ‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!