Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Cheen Sath Chor Gaya, Kharja Policy

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر دیا جسے روایتی دشمن ملک بھارت اپنی سفارتی کامیابی قرار دے رہا ہے۔پچھلے کئی ماہ سے مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کی راہ میں ہمسایہ دوست ملک چین رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ ایک ماہ قبل بھی چین نے مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کو تکنیکی بنیادوں پر ہولڈ کروا دیا تھا۔ تاہم اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر لیا جس کے بعد اب حکومت پاکستان کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے تاکہ عالمی برادری کو مطمئن کیا جاسکے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین نے گذشتہ روز مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے پاکستانی مو¿قف سے دستبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھ چھوڑ دیا ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے بعد پاکستان کے لئے مسعود اظہر کے خلاف فوری کارروائی کرنا اور ان کی تنظیم پر سفری اور ہتھیاروں کی پابندیوں سمیت ان کے مالی اثاثہ جات اورفنڈز کو منجمند کرنا لازمی ہوجائے گا۔
پلوامہ حملے کے بعدبھارت نے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ قرار دلوانے کی کوشش تیز کر دی تھیں جس کے بعدامریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مشترکہ تجویز پیش کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ 10 روز میں شدت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیا جائے، جسے چین نے تکنیکی بنیادوں پر روک دیا تھا۔بھارت 2016ءسے مسعود اظہر کو اس فہرست میں شامل کرنے کا خواہاں رہا ہے لیکن چین اِس کی مخالفت کرتا رہا ہے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلہ کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے مو¿قف اختیار کیا گیا کہ مولانا مسعود اظہر کا تعلق پلوامہ حملے سے جوڑنا کسی طور پر بھی ثابت نہیں کیا جاسکا بلکہ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کا خمیازہ اسے اپنے دو لڑاکا طیاروں کی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ کمیٹی کے تمام تکنیکی معاملات کااحترام کیا اور پابندی کے حوالے سے کمیٹی کے سیاسی استعمال کی مخالفت کی۔ بھارتی میڈیا نے مسعود اظہر پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو سفارتی محاذ پر اپنی بڑی فتح قرار دیا لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے اس مذموم مقصد کے حصول کے لیے 5 بار پہلے بھی کوشش کر چکے ہیں۔اسی طرح حکومت پاکستان کے لیے بھی مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا اطمینان کا باعث نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اس اہم موقع اور ایک عالمی فورم پر ہمسایہ دوست ملک چین نے پاکستان کا ساتھ چھوڑتے ہوئے عالمی برادری کے مو¿قف کی حمایت کی۔ یہ عمران خان حکومت کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ان کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اب دوست ممالک بھی اپنی اپنی سمتیں تبدیل کر رہے ہیں۔ سلامتی کونسل میں منظور کی گئی اس قرارداد کے بعد یہ تشویش بھی لاحق ہوچکی ہے کہ چین جو پاکستان میں سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ سمیت بہت سے دیگر ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے کی سرمایہ کر چکا ہے کیا وہ ان منصوبوں کے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے گا؟
سلامتی کونسل کی کمیٹی نے مولانا مسعود اظہر کو کالعدم تنظیم جیش محمد کا سربراہ‘القاعدہ اور داعش کا مددگار قرار دے کر یہ اقدام کیا تاہم بھارتی تجاویز مسترد کرتے ہوئے پاکستان کا یہ مو¿قف تسلیم کیا کہ مسعود اظہر کا پلوامہ حملہ کے واقعہ یا کشمیریوں کی جدوجہد برائے حق خودارادیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس طرح یو این کمیٹی میں پاکستانی مو¿قف کو تسلیم کئے جانے کی بدولت بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو گئی جو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی بھی ہے ۔یہ درست ہے کہ ہمیشہ ہی سے پاکستان سمجھتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارت کی ریاستی دہشت گردی بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ میں مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستان نے کہا کہ بھارت نے مسعود اظہر کیخلاف پلوامہ اور کشمیر سے متعلق اپنا موقف تبدیل کیا ہے اور اب بھارت نے کشمیر سے متعلق الزام واپس لے لیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد پر حتمی فیصلہ چین کیساتھ مشاورت سے ہوا اور اس حوالے سے چینی ترجمان وزارت خارجہ نے وضاحت بھی کر دی تھی۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مسعود اظہر پر پابندی سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ چین اس معاملے میں تمام فریقین سے ذمہ دارانہ رابطے میں رہا۔ حال ہی میں متعلقہ ممالک نے نظرثانی شدہ تجاویز کمیٹی میں جمع کرائیں۔ نظرثانی شدہ تجاویز، فریقین کی رائے کے تحت چین نے پابندی کے فیصلے پر اعتراض نہیں کیا۔ مناسب طریقے سے مسئلے کا حل انسداد دہشتگردی کے خلاف اقوام عالم سے تعاون کرنا اصل مقصد تھا۔ چین نے اپنے مو¿قف میں یہ بھی کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قابل قدر قربانیاں دی ہیں اور ہر قسم کا تعاون فراہم کیا ہے اس لیے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں عالمی برادری کو پاکستان تعاون اور قربانیوں کا بھی کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہئے۔ چین نے کہا کہ مولانا مسعود اظہر پر سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیاں لگانے سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے، مسئلہ کشمیر پر چین کا مو¿قف واضح اور مستقل ہے، مسعود اظہر کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں ڈالنا موجودہ حالات میں مناسب حل تھا۔چین اقوام متحدہ کے قواعد و ضوابط کی قومی سلامتی کمیٹی کا احترام کرتا ہے اور باہمی احترام، اتفاق رائے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو طے کرنے کے اصول پر کاربند ہے، مسئلہ کشمیر کو مناسب انداز میں متعلقہ فریقین کی جانب سے مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، چین دہشتگرد اور انتہا پسند قوتوں کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان کا مو¿قف تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد مقامی اور قانونی ہے، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں موجود ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عوامی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ بھارت اور ان کے میڈیا نے پاکستان اور جدوجہد کشمیر کو بدنام کرنے کی کوشش کی حالانکہ مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی خالصتاً حق خودارادیت کی تحریک ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور اس وقت بھی مقبوضہ وادی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔وزیراعظم عمران خان اور فیصلہ ساز ریاستی اداروں پر موجودہ حالات کے تحت یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ برسہا برس سے پاکستان کے دوست ممالک سے اپنے تعلقات متاثر ہونے سے محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اور جامع خارجہ پالیسی اپنائیں۔ چین حقیقی معنوں میں پاکستان کا ایک مضبوط اتحادی اور دوست ملک رہا ہے جس نے ہمیشہ تمام عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر سمیت تمام امور پر پاکستانی مو¿قف کی حمایت کی ہے اس لیے پاکستان کو موجودہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!