Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bisakahi Ka Mela Yaadoo Ky Jharoky Se

سُنو مَیں روز دیکھتا ہوں کہ پچھلے گاﺅں سے دُھواں اُٹھتا ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ےہ دُھواں کس چیز کا ہے؟بُوڑھے آم کا درخت پاپولر کے درخت سے کہہ رہا تھا ۔ ےہ دُھواں کھانا پکانے کا نہیں کیونکہ ایک تو ےہ صبح تقریباً 9بجے کے قریب اُٹھتا ہے اور اس میں سے عجیب سی سڑن والی بدبو سی اُٹھتی ہے ۔ آخر ےہ ہوکیا رہا ہے؟چلو کل پنچھیوں سے پوچھیں گے ۔ اگلے دن آم کے درخت نے اپنی شاخ پہ بیٹھی کوئل سے پوچھا:”بی کوئل!سُنو تمہارے بارے میں کہاوت ہے کہ تم دوسروں کے پیغام لے کر آتی ہوتو بتاﺅ تو سہی کہ برابر والے گاﺅں سے آخر ےہ روز ایک مخصوص وقت میں اتنا تیز اور بدبو دار دُھواں سا کیوں اُٹھتا ہے؟ ارے مت پوچھو!وہاں آبادی سے باہر ایک گڑھے میں کچھ جلایا جاتا ہے ۔ آم کے درخت نے پوچھا کیا جلایا جاتا ہے؟کوئل نے جواب دیا” انسان کی ایک دوسرے سے محبت ، امن اور رواداری“۔ پوچھا کون جلاتا ہے؟جواب دیا :©©”خود انسان“۔ درخت سے ذرا پَرے گندم کی بالیوں سے بھرے کھیت تھے وہ سب سُن رہے تھے۔ جھٹ سے گندم کے سنہری دانے بول پڑے ہائے! کیا محبت سے بھرے دن تھے جب موسم بدلتے ہی بیساکھی کا میلہ سج جاتا تھا ۔ ڈھول کی تھاپ پہ گاﺅں کے لوگ اکٹھے ہوجاتے ، گند م کی کٹائی شروع ہوجاتی ۔ عورتیں ڈھولک کی تھاپ پر ٹپے اور ماہیے وغیرہ گاتیں۔ مر داور لڑکے بالے جھوم جھوم کر بھنگڑا ڈالا کرتے ۔ پورا کا پورا گاﺅں مل جُل کر گند م کی کٹائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ۔ےہ ان دنوں کی بات ہے جب سب تہوار خوشیوں کے ہرکارے سمجھے جاتے تھے ، بیساکھی کا میلہ سانجھا ہوتا تھا۔ پھر پتہ نہیں کیسے ےہ عصبیت کے بڑے بڑے گڑھے کھود دیے گئے اور سب تہوار، رسم و رواج جلادیے گئے ۔ نفرت کی آگ سے اُٹھتا ےہ دُھواں گاﺅں چھوڑ سب شہروں اور ملکوں میں پھیل گیا ۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کتنی منصوبہ بندی سے ےہ ڈرامہ سٹیج کیا گیا ۔ پھر کمال درجے سے تہواروں کو کاٹ کر الگ الگ کردیا گیا اور پھر بیچ میں ہی کہیں دہشت گرد بھی آن دھمکے ۔ بی کوئل ! تم تو اُڑان بھر کر اِدھر اُدھر جاتی رہتی ہوبتاﺅتو پرانے دنوں کی کچھ یادیں تازہ کرو۔ کوئل نے اک ٹھنڈی آہ بھری اور کہنے لگی ہائے! بڑے بوڑھوں کے مطابق 1947ءسے پہلے پنجاب کے تمام کسان مذہبی تقسیم سے بالاتر ہوکر گندم اور اور دیگر ربیع کی فصلوں کی کٹائی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے اور میلے منعقد کرتے تھے۔ ان تمام میلوں ٹھیلوں میں رونقیں اور محبتیں عروج پر ہوتی تھیں ۔ شہروں سے مختلف دکاندار پہنچ جایا کرتے تھے اور اپنی دکانیں سجایا کرتے تھے۔ جادوگر ، رسے پہ ناچنے والے، مداری، اداکار، گلوکار، رقاص اپنی کاریگری سے لوگوں کے دلوں کو بہلاتے تھے۔ تب کوئی شخص بھی ایک دوسرے کے خلاف بدظنی کا زہر نہیں گھولتا تھا بلکہ ٹپے، ماہیے اور عوام کے مقبول گانے یوں گائے جاتے تھے۔
فصلاں دی مکھ گئی راکھی
جٹا آئی وساکھی آئی وساکھی
ایک اور مقبول ٹپہ یوں گایا جاتا تھا۔
تانا تنک تانا تنک
تانا تنک تانا تنک
تیری بودی میرے ہتھ
میری گُت تیرے ہتھ
مینوں رکھنا اِی تے رکھ
مینوں کڈھنا اِی تے کڈھ
مَیں اِی اَو تیرے نال وسی آں
تے ہور کوئی وَسے وی ناں
برصغیر کی تقسیم میں بننے والی بہت سی فلموں میں بیساکھی سے متعلق گیت ایک ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ مگر وقت بدلا تو ےہ تہوار سکھوں کے مذہبی تہوار کا درجہ حاصل کرگیا۔ لہٰذا اب اس کے میلے پنجاب کے کسی گاﺅں یا قصبے میں نہیں لگتے بلکہ سکھ ےہ تہوار اپنے گُردواروں میں مناتے ہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے بیساکھی کا میلہ دریائے راوی کے کنارے اپریل کے مہینے میں منعقد کیا جاتا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ راوی کے پانی میں نہاتے۔اسلام آباد سے تقریباً 50کلومیٹر کے فاصلے پر راولپنڈی اور پشاور کو ملانے والی جی ٹی روڈ پر ضلع اٹک میں ایک چھوٹا سا شہر حسن ابدال ہے۔ جس کی وجہ¿ شہرت گُردوارہ پنجہ صاحب ہے۔ اس گردوارے کی مقدس علامت بابا گورونانک کے ہاتھ کا وہ نشان ’پنجہ ‘ہے جو ایک پتھر پر نقش کی صورت میں موجود ہے۔ اس کی تاریخ تقریباً 300سال پرانی ہے ۔ ہر سال اپریل کے مہینے میں دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری پنجہ صاحب زیارت کرنے ےہاں آتے ہیں۔ بیساکھی میلے کو اس سال 312سال مکمل ہوجائیں گے ۔ باباگورونانک کے جنم دن کے بعد بیساکھی سکھ مذہب کا دوسرا بڑا تہوار ہے ۔ 1699ءسے پہلے بیساکھی کو گندم کی کٹائی کا مہینہ سمجھا جاتا تھا ۔ پھر گوبند رائے نے سکھوں کے دسویں گورومذہب کے احیاءکے لیے پانچ جزو کو لازمی قراردیا اور یوں ےہ دن ایک میلے کے طور پر منانا شروع کیا۔ عموماً پنجہ صاحب کے بعد سکھ یاتری بابا گورونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب بھی جاتے ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار سکھ بستے ہیں جن میں سے زیادہ تر پشاور میں آباد ہیں ۔ ان کے لیے بیساکھی وہ موقع ہوتا ہے جب وہ اپنے سرحد پار رشتہ داروں سے مل پاتے ہیں۔ اگر ےہ کہا جائے کہ بیساکھی مذہبی تہوار ہونے کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں سے ملنے کا بھی میلہ ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
اس تہوار کے ساتھ ہی کسان گند م کی فصل کی کٹائی بھی شروع کردیتے ہیں جو ان کے لیے انتہائی مسرت اور خوشی کا باعث ہوتا ہے ۔ اس وقت بہار اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔ پھول اپنی خوشبو بکھیر رہے ہوتے ہیں اور آم کے درختوں پہ بُور اور کلیوں کی بہتات ہوتی ہے۔ وسط اپریل میں پنجاب میں جہاں گندم کی کٹائی شروع ہوتی ہے وہیں دیسی مہینے بیساکھ کا آغاز بھی ہوجاتا ہے۔حکومت ِ پاکستان سکھوں کی آمدو رفت اور حفاظت کے لیے خصوصی انتظام کرتی ہے۔حکومت ِ پنجاب کی طرف سے ویزوں اور امیگریشن سے لےکر سب خصوصی انتظامات پوری شدو مد سے کیے جاتے ہیں۔ان دنوں بیساکھی میلے کا آغاز گردوارہ پنجہ صاحب میں گرنتھ صاحب کے پارٹ پڑھنے سے ہوتا ہے۔ مذہبی رسومات کے دوران یاتری گردوارے کے درمیان واقع تالاب میں اشنان کرتے ہیں۔ سکھ عقیدے کے مطابق اس تالاب میں نہانے سے ان کے تمام کردہ گناہ دُھل جاتے ہیں۔گردوارے میں بہنے والے چشمے کے پانی کو سکھ یاتری مقدس سمجھتے ہوئے اپنے ساتھ بوتلوں میں لے جاتے ہیںتاکہ جو زائرین یاترا پر نہ آسکے وہ اس سے مستفید ہوسکیں۔ تقریبات کے آخری دن بھوگ کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ سکھ یاتری بابا گورونانک کی بیٹھک میں بڑی عقیدت اور انہماک کے ساتھ بیٹھ کر پارٹ پڑھتے اور سنتے ہیں۔ پرساد پکائے جاتے ہیں ۔ پنجہ صاحب سے فارغ ہوکر پھر ننکانہ صاحب لاہور کا رُخ کرتے ہیں جہاں گُردواروں میں جانے کے علاوہ وہ شاپنگ بھی کرتے ہیں۔ بیساکھی میلے میں آنے والے بہت سے سکھ یاتری اپنے ساتھ مختلف اشیاءخصوصاً کپڑا جس میں سلک اورساڑھیاں وغیر ہ لاتے ہیں ۔ مقامی دکانداراور گاہک انھیں شوق سے خریدتے ہیں ۔ اس طرح سکھ یاتری اپنے عزیزو اقارب کے لیے پاکستان سے تحائف خریدتے ہیں ۔ یوں انار کلی بازار اور دیگر تجارتی مراکز کے تاجروں کو ہرسال بیساکھی کا انتظار رہتا ہے۔ لاہور آنے کے بعد سکھ یاتریوں کی بھارت اور دیگر ممالک میں واپس کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ یوں بیساکھی کا رنگا رنگ میلہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!