Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bimar Jo Pado To Mar Jao Logo

وزیراعظم عمران خان نے حکم جاری کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو پنجاب حکومت تین دن کے اندر واپس لے، تین کے اوپر بھی بہت دن گزر گئے مگر اضافہ واپس نہیں ہوا، بالکل ایسے ہی جیسے سوئی گیس کے ہزاروں روپوں کے اضافی بل واپس لینے کا حکم دیا گیا۔ پچھلے بل کیا واپس ہوتے اگلے مہینے پھر اتنے ہی بل آ گئے کیونکہ حکم عمل کے لئے جاری نہیں ہوتا، یہ اس لئے جاری ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر واہ ، واہ کروا لی جائے بالکل اسی طرح جیسے میٹرو پشاور کی گزرگاہ میں سوئی گیس کے کالے بڑے اور بھدے پائپ سے سرجھکا کے گزرنے کی خبر سامنے آئی تو فیس بک پر اگلے چندگھنٹوں میں ہی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیل نے تصویر فوٹو شاپ کی اور پائپ غائب کر کے اپنے تنخواہ دار وں کے اکاونٹس سے وائرل کر دی۔ یہ گڈ گورننس کا وہ ترنت ماڈل ہے جو تحریک انصاف نے پیش کیا ہے جس میں تحریک انصاف والوں کے مامووں کے بیٹے کامران سعودی عرب کی جیلوں سے گھنٹوں میں رہائی پا کے سوشل میڈیا پروطن پہنچ جاتے ہیں مگرحقیقت میںنہیں۔ ایک کامن سینس کا سوال ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی قانونی بنیاد ایک ایس آر اوبنا کیااسے واپس لیا گیا ہے۔ شعبہ صحت سے منسلک معروف صحافی کہتے ہیں کہ ایس آر اوواپس نہیں ہوا اور اس کے بغیر قیمتوں میں کمی کے لئے احکامات، چھاپے اور گرفتاریاں محض ڈرامہ ، محض ملی بھگت ہے۔ ڈرگز مینوفیکچرزز اور ڈرگرز ریگولیٹری اتھارٹی اس گٹھ جوڑ کے لئے ہمیشہ سے مشہور ہیں جیسے نواز شریف دور میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا ایس آر او جاری ہوا، اس پر شور مچاتو دو روزبعد ایس آر او ختم اور ملی بھگت شروع ہو گئی۔ ایس آر او کی واپسی کے خلاف ڈرگز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن عدالت میں چلی گئی ، ڈریپ نے وہاں کیس ہی نہیں لڑا اور قیمتوں میںا ضافے کے حق میں حکم امتناعی جاری ہو گیا۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اربوں روپوں کی دیہاڑی ہوتا ہے اور اگر اس ایک دیہاڑی میں سے چند لوگوں کو دس، دس اور بیس، بیس کروڑ دے بھی دئیے جائیں تودینے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ آسانی سے دس ، بیس ارب جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ ایس آر او کے مطابق قیمتوں میں اضافہ پندرہ فیصد تک کیا گیا تھا مگر عملی طور پربعض ادویات کی قیمتیں تین سو فیصد تک بڑھ گئیں۔ اب کریک ڈاﺅن پندرہ فیصد قانو نی اضافے پر نہیں بلکہ تین سو فیصد غیر قانونی اضافے پر ہے تواس کے لئے ضروری ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس نئی، پرانی قیمتوں کا حساب کتاب موجود ہو مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈریپ کے پاس پچانوے ہزار ادویات کی رجسٹریشن اورقیمتوں کا ریکارڈ ہی موجود نہیں ۔ وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے ’نیو ٹی وی‘ کے ایک پروگرام میںریکارڈ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو انہیں چیلنج ہے کہ وہ سرکاری قیمتوں کو اپنی ویب سائیٹ پر شائع کر دیں۔ ہر دوا کا برانڈ کیا ہے، کون تیار کرتا ہے ، کیا اجزائے ترکیبی ہیں اور نئی پرانی قیمت کیاہے مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے کہ ڈریپ کے ایک سابق سربراہ نے اس ڈیٹا کو آگ لگا دی تھی لہٰذا اسے کمپیوٹرائزڈبھی نہیں کیا جا سکا۔ سوا دوبرس قبل سابق وفاقی وزیر صحت سائرہ تارڑ نے ایک مراسلہ جاری کروایا جس میںصوبائی حکومتوں اور ڈرگ انسپکٹروں سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میںادویات تیار کرنے والی فیکٹریوں سے پوچھیں کہ وہ کون سی ادویات تیار کر رہے ہیں، ان کی رجسٹریشن کہاں ہے اور ان کی کیا قیمت منظور کی گئی ہے مگر کسی نے جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔ موجودہ حکومت نے گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے لئے گزشتہ مہینے اس پر یاددہانی کا خط ارسال کر دیا ہے۔ میں ڈرگ مینوفیکچررز کوچور نہیں کہتا مگرنورمہر کے الفاظ میں اس کے سو ا کیا مثال دوں کہ چوروں سے ہی پوچھا جا رہا ہے کہ وہ کیا چوری کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہواکہ ادویات کی قیمتیں تب کم ہوں گی جب وہ سٹیچوری ریگولیٹری آرڈر واپس ہو گا جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو جاری کرتا ہے اور مزید اس وقت کم ہوں گی جب حکومت کے پاس پرانی قیمتیں موجود ہوں گی۔ یہ قیمتیں ہماری طرف سے سوشل میڈیا پر دوا کی نئی اور پرانی ڈبیوں کو اس ساتھ رکھ کے تصویریں شئیر کرنے سے واپس نہیں ہوں گی۔ ایک تاویل ہے کہ حکومت کا کام حکم کرنا ہے وہ کردیا اور اب یہ کام بیوروکریسی نے کرنا ہے توجناب بیوروکریسی وہ گھوڑا ہے جسے ایک سیاسی حکومت ہی چلاتی یا دوڑاتی ہے ا ور معذرت کے ساتھ موجودہ حکومت کے وزرا لگتا ہے کہ اس گھوڑے سے دولتیاں ہی کھائیں گے۔ ہماری صوبائی وزیر صحت نے دواﺅں کی قیمتوں میں اضافے کی عجب وضاحت دی ہے کہ صرف وہ ادویات مہنگی ہوئی ہیں جو آپریشن یا ایمرجنسی میں استعمال ہوتی ہیں، اگرچہ یہ بیان بھی خلاف حقیقت ہے مگر زیادہ سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ دور میں حکومت چلانا ایک کارپوریٹ بزنس کی طرح ہے جس میں نتائج کی اہمیت ہے ورنہ’ آنیا ں جانیاں‘ تو ہر کوئی دکھا لیتا ہے۔ آگے بڑھتے ہیں کہ پنجاب میں بھی صحت کا وہی نظام آنے والا ہے جو کہ خیبرپختونخواہ میں نافذ کیا گیا ہے۔ وہاں پرائیویٹ بورڈز سرکاری ہسپتالوں کو چلاتے ہیں اور اپنی مرضی سے گاڑی کی پارکنگ سے ٹیسٹوں اور آپریشنوں تک کی فیسیں طے کرتے ہیں اور یہاں بھی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز بل لایا جا رہا ہے جس کی ہر(پروفیشنل) سطح پر مخالفت ہو رہی ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ غریب صرف وہ ہے جسے وہ ہیلتھ کارڈ جاری کر دیں گے اور وہ مخصوص شعبوں میں مخصوص علاج مفت میں کروا سکے گا لیکن اگر آپ روزانہ پانچ سو روپے کمانے والے کو بھی ہیلتھ کارڈ دیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سولہ ہزار مہینہ کمانے والا شخص امیر ٹھہرا حالانکہ حالات یہ ہیں کہ پچاس سے اسی ہزار کمانے والا بھی اپنے کسی سنگین مرض کا علاج سرکاری سرپرستی کے بغیر نہیں کروا سکتا۔ایسے میں یہ تو طے ہو گیا کہ ادویات کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس نہیں ہوں گی اور حکومت جن کو ہیلتھ کارد نہیں دے گی انہیں اپنے خرچ پر علاج کروانا پڑے گا تو پھر دل میں ٹھان لیجئے کہ اگر بیمار ہونے پر علاج کے اخراجات اپنی جیب سے ادا نہیں کرسکتے تو پھر جگہ جگہ دھکے کھانے کے بجائے گھر پر ہی سکون سے مرجائیے۔جمع پونجی علاج پر خرچ کرنے کا کیا فائدہ جب علاج کے بعد بھی پانچ ، دس یا پچاس برس بعد مر ہی جانا ہے کہ وہ پیسے بچوں کی بہتر تعلیم، خوراک، لباس اور رہائش پر بھی خرچ ہو سکتے ہیں۔ گھر پر رہتے ہوئے مر جانا قومی خدمت بھی ہے کہ ہیلتھ سیکٹر پر بوجھ نہ پڑے ، آبادی کم ہونے سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو گی اور ہم غریب مڈل کلاسیے مریضوں کو دفنانے کے بعد صحت مند اور عقل مند لوگوں پر مشتمل بہت بہتر نیا پاکستان بنا سکیں گے ۔ ان شاءاللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!