Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bhuto Zinda Hai Magar Awam Mar Rahi Hai

’’دریائے فرات کے کنارے اگرکتا بھی بھو کا رہا تو عمرؓ کی گرفت ہو گی‘‘

مگر یہاں تو سوال انسانی جانوں کا ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک خبر نظروں سے گزری، تھر میں غذائی قلت اور دیگر امراض کے باعث مزید پانچ بچے انتقال کر گئے۔ رواں سال بچوں کی اموات کی تعداد ایک سو ننانوے ہو گئی۔ صرف ماہ رواں میں بچوں کی اموات کی تعداد 89ہو چکی ہے۔تھر میں غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ تھرپارکر میں جہاں غربت اور بھوک کے ڈیرے ہیں وہیں موت کا رقص جاری ہے۔ یہ آج کی بات نہیںگذشتہ سال جنوری سے ستمبر تک ساڑھے پانچ سو سے زیادہ بچے موت کی وادی میں جا سوئے، تھرواسی تو ہر گزرتے دن موت کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا شاید کوئی نہیں ہے۔

تھرکے علاقہ میں خوراک کی کمی کے باعث رواں سال میں اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 700 سے زیادہ ہے۔ ہزاروں حاملہ خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں۔اس علا قے میں پیدا ہونے والے بچو ں میں پیدائشی وزن بہت کم ہوتا ہے ۔معصوم بچے صرف تھر کے علا قے میں پیدا ہونے کی پاداش میں ہی اس دنیا کو دیکھنے سے پہلے اس جہا ن فا نی سے کو چ کر جا تے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تھر اور مٹھی میں 493 بچے انتقال کر چکے ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک بار پھر تھر کی جانب سے آنکھیں موند لی ہیں، بلندوبالا دعوے ڈھیر ہوگئے ہیں۔ خوراک کا بحران ایک عالمی چیلنج بنتا جارہا ہے۔ تھر میں بڑھتی ہوئی اموات پر سندھ حکومت کی کارکردگی پر ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔سندھ کی امیر ترین حکومت بد ترین انتظامیہ ثابت ہورہی ہے۔ یہ آج کا المیہ نہیں یہ دکھ پرانا ہے مگر بھٹو زندہ رہا اور سندھ کے لوگ مرتے رہے۔ سندھ حکومت نے دیہی علاقوں کے عوام کے ساتھ کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر سلوک کیا۔ تھر کی عوام کو خوراک اور پانی سمیت روزگار کے وسائل بھی میسر نہیں۔ یہ بھوک اور پیاس سے مرنے والے بچے اس قوم کا مستقبل تھے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے، پاکستانی قوم کے یہ معمار زندہ رہیں گے تو ہی پاکستان بھی ترقی کرے گا، ہماری قوم کے بچوں کو مرنے کے لیے چھوڑ کرسندھ کے حکمران کس ترقی کے دعوے کر رہے ہیں ان ماؤں کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ ان کے حکمرا ن کس کے خلاف اچھی بیان بازی کر رہے ہیں۔ کون جیل جا رہا ہے اور کون حکومت گرائے گا؟ بلکہ انہیں غرض اپنے بچوں کے لیے دوائوں، خوراک اور پانی سے ہے۔ تاکہ ان کو اپنے لخت جگر اپنے ہاتھوں سے قبروں میں دفن نہ کرنے پڑیں۔ پانی سر سے بلند ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی اس صوبے میں حکومت ہے اور حالیہ اموات ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر اب بھی حکمران اپنی روش تبدیل نہیں کرتے تو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کریں گے کیونکہ پاکستانی قوم اب مزید اپنے بچوں کو مرنے کے لیے نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی ۔بلکہ ان کے سخت احتساب کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی ۔وفاقی اور صوبائی حکمران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنا فرض سمجھتے ہوئے ان سینکڑوں قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ تھر پارکرمیں دعوے تو بہت کئے گئے کہ وہاں پانی پہنچا دیا گیا۔ نئی پائپ لائن ڈال دی گئی ہے۔ عورتوں کے لئے بھی صحت مند خوراک کا بندوبست کردیا گیا ہے۔ تاکہ آنے والی نئی نسل کو موت کے منہ میںجانے سے بچایا جاسکے۔ حقائق ابھی تک تلخ ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر۔سندھ میںاس سال نوزائیدہ بچوں کی اموات باوجود تمام تدبیروں کے پچھلے پانچ سالوںسے زیادہ ہی رہی۔ اگر پچھلے سالوں کا جائزہ لیاجائے تو موجودہ سال 505 بچے موت کے منہ میں گئے۔ 2017 میں یہ تعداد450 تھی، 2016 میں479 اور 2015 میں 398مستقل اضافہ حکومت وقت کے لئے اور انسانیت کے لئے کھلا چیلنج ہے۔ محض یہ کہہ دینا کہ دوائیں، اور صاف پانی وہاں پہنچانا جاں جوکھوں کا کام ہے، تو پھر پیپلز پارٹی سندھ میں برسراقتدار ہے، اس نے کونسے اقدامات کئے جس پر انسانیت فخر کرے۔ پارٹی کے لیڈر بلاول بھٹو قوم سے خطاب میں وعدے تو بے شمار کرتے ہیں مگر عوام کے دکھوںکا مداوا کہیں نظرنہیں آ تا آج آصف زرداری کی آنکھوں میں غریب عوام کے لئے دکھ کی بجا ئے اپنے کیسز ختم کرنے کی فکر ہے۔ آج پیپلز پا رٹی سندھ میں بیک وقت اپنی کئی توجیہات گنوا تی ہے۔ حالیہ دوروں میں پھیپھڑوں کی بیماری، گھاس پھوس پر گزارا، صحت کی خرابی اور نہ جانے کیا کیا، لیکن سوال تو یہی ہے کہ حکومت کا کام کیا ہے۔ کیا وزرا ء ایک سے زیادہ، لمبی چوڑی، پر تعیش گاڑیوں کو فوقیت دیتے ہیں، رہائش کے لئے محلات، رقص و سرورکی محفلوں پر ہی بھروسہ ہے، یا خلق خدا کا بھی کچھ احساس ہے۔اصل چیز نیک نیتی ہے، کام کرنے کی دھن، جو کہ سندھ کے سرکاری افسران اور وزراء اور حکمرانوں میں شاذونادر ہی پائی جاتی ہے۔المیہ تو یہ ہے کہ پیپلز پا رٹی ایک عوامی پارٹی ہے اور بھٹو کے نام کے سہا رے کھڑی ہے۔ مگر جس بھٹونے عوام کو رو ٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا وہ عوام آ ج ضروریات زندگی سے بھی محروم ہے ، پارٹی عوام سے ووٹ تو لیتی ہے مگر اسی کو زندہ رہنے کا حق تک نہیں دیتی ،آج کے اس دور میں بھٹو تو زندہ ہے مگر …!!

عوام مر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!