Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bhuto Se Akhri Mulakaat

آئین پاکستان کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی ایک ہلکی سی جھلک محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے آخری ملاقات کی یاد داشتوں کو قلمبند کر کے قوم کے سامنے پیش کی ہے ۔ وہ لکھتی ہیں ! 3اپریل 1979ء کو ایک تیز رفتار جیپ میں ہمیں سہالہ سے راولپنڈی جیل پہنچا دیا گیا۔ جیل کی میٹرن نے میری والدہ اور میری تلاشی لی۔ ایک مرتبہ جب ہم سہالہ کے قید خانہ سے روانہ ہوئیں اور دوسری مرتبہ جب ہم راولپنڈی جیل پہنچیں ۔ ’’ آج تم دونوں اکٹھی کیوں آئی ہو؟‘‘ میرے والد نے کال کوٹھڑی کے دوزخ سے آواز دی۔ میری والدہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ ’’ کیا یہ آخری ملاقات ہے ؟‘‘ انہوںنے پوچھا۔ /اس وقت میری والدہ جواب دینے کی سکت نہ رکھتی تھیں۔ /’’ میرا خیال ہے ایساہی ہے۔ ‘‘ میںنے جواب دیا۔/وہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو اشارہ کرتے ہیں جو پاس ہی کھڑا تھا ( یہ لوگ ہمیں پاپا کے ساتھ تنہا چھوڑنے پر کبھی تیار نہیں ہوئے )۔/’’ کیا یہ آخری ملاقات ہے؟  میرے والد پوچھتے ہیں۔ ‘‘/’’ہاں‘‘ جواب میں جیلر کہتا ہے ۔ حکومت کا پیغام دیتے ہوئے شرمسار محسوس ہوتا ہے۔ /’’ کیا تاریخ کا تعین ہو گیا ہے ؟‘‘/’’کل صبح ‘‘ جیل سپرنٹنڈنٹ کا جواب ہے۔/’’ کتنے بجے؟‘‘/’’ جیل قواعد کے مطابق صبح پانچ بجے۔ ‘‘/’’ یہ اطلاع تمہیں کب ملی ؟‘‘/’’ کل رات ‘‘ اس نے رکتے رکتے جواب دیا۔ /میرے والد اسے نظر بھر کے دیکھتے ہیں۔/’’اپنے اہل و عیال سے ملاقات کا کتنا وقت دیا گیا ہے ؟‘‘/’’نصف گھنٹہ ‘‘۔/’’ جیل قواعد کے مطابق ہمیں ایک گھنٹہ ملاقات کا حق ہے۔ ‘‘ وہ کہتے ہیں۔/’’ صرف نصف گھنٹہ ‘‘ سپرنٹنڈنٹ دہراتا ہے۔ ’’ یہ میرے احکامات ہیں۔ ‘‘/’’غسل اور شیو کرنے کیلئے انتظامات کرو۔ ‘‘ میرے والد اسے کہتے ہیں۔ دنیا خوبصورت ہے ، اسے میں اسی حالت میں الوداع کہنا چاہتا ہوں۔ ‘‘/’’ صرف نصف گھنٹہ ‘‘ / اس شخص سے ملاقات کیلئے … صرف نصف گھنٹہ و مجھے زندگی کی ہر شئے سے زیادہ عزیز ہے۔ سینے میں درد سے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ مجھے رونا نہیں چاہیے۔ مجھے اپنے ہوش بھی نہیں کھونے چاہئیں کیونکہ اس طرح میرے والد کی اذیت بڑھ جائے گی۔ کوٹھڑی کے باہر دروازے کی سلاخوں کے ساتھ میں اور میری والدہ سکڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ باتیں کھسر پھسر کے انداز میں کرتے ہیں۔ ’’ دوسرے بچوںکو میرا پیار دینا ‘‘ وہ میری ممی سے کہتے ہیں۔ ’’ میر، سنی اور شاہ کو بتانا میں نے ہمیشہ ایک اچھا باپ بننے کی کوشش کی ہے اور میری خواہش ہے کہ کاش انہیں بھی الوداع کہہ سکتا‘‘ میری والدہ سر ہلاتی ہیں ، منہ سے کچھ نہیں بول سکتیں۔ ’’ تم دونوں نے بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ وہ آج مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں۔ میں تمہیں تمہاری مرضی پر چھوڑتا ہوں۔ اگر چاہو تو پاکستان سے اس وقت تک باہر چلے جائو جب تک آئین معطل ہے اور مارشل لاء نافذ ہے۔ اگر تمہیں ذہنی سکون چاہیے اور زندگی نئے سرے سے گزارنا چاہتی ہو تو یورپ چلی جائو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ ‘‘(ہمارے دل ٹوٹ رہے ہیں ) ’’ نہیں نہیں ۔ ‘‘ ممی کہتی ہیں۔ ’’ ہم نہیں جا سکتے۔ ہم کبھی نہیں جائیں گے۔ جرنیلوں کو کبھی یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت چکے ہیں۔ ضیاء نے انتخابات کا دوبارہ پروگرام بنایا ہے۔ اگرچہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ ایساکرنے کی جرأت بھی کرے گا یا نہیں۔ ہم باہر چلی جائیں تو پارٹی کی رہنمائی کیلئے کوئی نہیں ہوگا اور یہ وہ پارٹی ہے جس کی آپ نے بنیاد رکھی اور پروان چڑھایا۔ ‘‘’’ اور تم پنکی ! میرے والد پوچھتے ہیں۔ /’’ میں کبھی نہیں جا سکتی ۔‘‘ میرا جواب ہے۔ /وہ مسکراتے ہیں ’’ میںبہت خوش ہوں۔ تم نہیں جانتی مجھے تم سے کتنا پیار ہے۔ ‘‘/’’ تم میرا لعل ہو اور ہمیشہ ہی رہی ہو۔‘‘/ ’’ وقت ختم ہو چکا ۔ ‘‘ سپرنٹنڈنٹ پکارتا ہے۔ ’’ وقت ختم ہو چکا۔ ‘‘ میں سلاخوں کو پکڑ لیتی ہوں۔ ’’ برائے مہربانی کوٹھڑی کا دروازہ کھول دو۔ ‘‘ میں اسے کہتی ہوں۔ ’’ میں اپنے پاپا کو الوداع کہنا چاہتی ہوں۔ ‘‘/سپرنٹنڈنٹ انکار کر دیتا ہے۔ میں دوبارہ التجا کرتی ہوں۔ ’’ میرے والد پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں۔ میں ان کی بیٹی ہوں۔ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ مجھے ان سے مل لینے دو۔ ‘‘ 
سرنٹنڈنٹ انکار کر دیتا ہے۔ سلاخوں کے درمیان سے میں اپنے والد کے جسم کو چھونے کی کوشش کرتی ہوں۔ وہ اس قدر نحیف و نا تواں ہو چکے ہیں ۔ ملیریا ، پیچش اور نا کافی خوراک کھانے کی وجہ سے جسم بالکل نحیف اور باریک ہو چکا ہے لیکن وہ سیدھا اُٹھ بیٹھتے ہیں اور میرے ہاتھ کو چھو لیتے ہیں۔ ’’ آج شب علائم دنیا سے آزاد ہو جائوں گا۔ ‘‘ چہرے پر ایک چمکتی روشنی لیے کہتے ہیں۔ ’’ میں اپنی والدہ اور والد کے پاس چلا جائوں گا۔ میں لاڑکانہ میں اپنے اجداد کی زمینوں کی طرف واپس جا رہا ہوں تاکہ ا س سر زمین کا، اس کی خوشبو اور اس کی فضا کا حصہ بن جائوں۔ ‘‘’’ خلق خدا میرے بارے میں گیت گائے گی۔ میں اس کی کہانیوںکا جاوداں حصہ بن جائوں گا۔ ‘‘وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں’’ لیکن لاڑکانہ میں آج کل بہت گرمی ہے۔ ‘‘’’ میں وہاں ایک سائبان تعمیر کر دوں گی۔ ‘‘ میں بمشکل کہہ سکی۔ جیل حکام آگے بڑھتے ہیں میں کہتی ہوں ۔ ’’ الوداع پاپا!‘‘ پاپا ہونٹوں کو جنبش دے کر کہتے ہیں خدا حافظ پنکی! میں والد کی طرف دیکھ کر پکار اٹھتی ہوں اور میری ممی سلاخوں میں سے ان کو چھو لیتی ہیں ۔ جیل اہلکار مما کو بے دردی سے کھینچ کر سلاخوں سے الگ کرتے ہیں، ہم غم سے نڈھال ہیں، چلنے کی ہمت نہیں، ہم ماں بیٹی آنسوئوں کی برسات میں جیل کے گرد آلود صحن سے گزرتے ہیں۔ میں مُڑ کر پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں لیکن حوصلہ نہیں پڑتا۔ مجھے معلوم ہے میں ضبط نہیں کر سکوں گی۔ میرے کانوں میں مسلسل آواز سنائی دیتی ہے خدا حافظ پنکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!