Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bhuto, Bhagat Singh Aur Nawab Qasoori

پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 40ویں برسی گزشتہ روز منائی گئی ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک آمر ضیاءالحق کے دور میں نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی۔ نواب محمد احمد خان معروف قانون دان بیرسٹر احمد رضا قصوری کے والد تھے۔ احمد رضا قصوری نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا ، اس زمانے میں احمد رضا قصوری کا شمار ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ نصف صدی قبل جب لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا تو ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت میں ہونےوالے اجلاس میں احمد رضا قصوری بھی شامل تھے۔ اس طرح ان کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا ہے مگر کچھ عرصہ بعد انہوں نے پیپلز پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پیپلز پارٹی پر تنقید وتیرہ بنا لیا۔ اس دوران ایک روز جب نواب محمد احمد خان‘ چودھری ظہور الٰہی سے گلبرگ میں ان کے گھر سے ملاقات کے بعد واپس آ رہے تھے تو شادمان میں دہشت گردی کی ایک واردات میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ جس پر احمد رضا قصوری نے اپنے والد کے قتل کی رپٹ تھانہ اچھرہ میں بھٹو کے خلاف درج کرائی‘ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے۔
شادمان میں نواب محمد احمد خان کا جہاں قتل ہوا وہ جگہ شادمان مارکیٹ سے ملحقہ گندہ نالہ کے قریب گول چکر والی ہے‘ اسی جگہ برطانوی عہد میں جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تھی۔ یہ جگہ اس وقت بوسٹل جیل (موجودہ کیمپ جیل) کا حصہ تھی۔ گول چکر والی جگہ پر جیل کا پھانسی گھاٹ تھا۔ قدیم جیل کے پھانسی گھاٹ والی اسی جگہ پر اب ہر سال بھگت سنگھ کی برسی پر سول سوسائٹی اور دیگر تنظیمیں جنگ آزادی کے اس ہیرو کی یاد میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو‘ بھگت سنگھ اور نواب محمد احمد خان کی داستانوں میں گہرا تال میل ہے۔ برطانوی عہد میں جب بھگت سنگھ کو سزائے موت دی گئی تو سزا پر عملدرآمد کرنے کے لیے ضروری تھا کہ پھانسی گھاٹ پر جیل سپرنٹنڈنٹ‘ ڈاکٹر اور ڈیوٹی مجسٹریٹ بھی موجود ہوں تاکہ ان کی نگرانی میں پھانسی کا عمل مکمل ہو۔ اس وقت لاہور میں کئی مسلمان‘ ہندو اور سکھ مجسٹریٹ تعینات تھے مگر کوئی بھی بھگت سنگھ کو پھانسی لگانے کے حق میں نہیں تھا اور نہ ہی پھانسی کے وقت جیل آنے کو تیار ہوا۔ جس پر فرنگی سرکار نے آرنری مجسٹریٹ نواب محمد احمد خان سے رجوع کیا‘ جو لاہور سے کوسُوں دور قصور میں رہتے تھے۔ احمد رضا قصوری کے والد بخوشی راضی ہو گئے اور بھگت سنگھ کو پھانسی چڑھانے کے عمل کی نگرانی کی۔ جس جگہ بھگت سنگھ کو پھانسی چڑھایا گیا‘ پھانسی دینے والا بنیادی کردار بھی عین اسی جگہ عبرت ناک موت کا شکار ہوا۔
بھٹو کو پھانسی نواب محمد احمد خان قتل کے الزام میں دی گئی جبکہ بھٹو نے اسے قتل نہیں کیا تھا۔ عدالت نے بھی بھٹو کو براہ راست قاتل قرار نہیں دیا تھا۔ ان پر قتل کی سازش کرنے کا الزام تھا۔ آمر ضیاءالحق نے بھٹو کیس کی سماعت کے لیے جسٹس مولوی مشتاق احمد کا انتخاب کیا‘ جو بھٹو کا ازلی دشمن تھا کیونکہ بھٹو نے اپنے دور میں اسے ترقی نہیں دی تھی۔ بھٹو کیس کی سماعت سے قبل جسٹس مولوی مشتاق لندن چھٹیاں گزارنے گیا تھا۔ اسے وہاں سے فوری بلا کر چیف جسٹس ہائی کورٹ تعینات کیا گیا۔ اس بنچ میں جسٹس سعید حسن بھی شامل تھے مگر انہوں نے یہ کیس سننے سے انکار کر دیا اور وہ عہدہ سے مستعفی ہو گئے۔ بھٹو کو جسٹس مولوی مشتاق نے سزائے موت سنا دی۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ گیا تو خصوصی بنچ 7 ججوں پر مشتمل تھاجس کے سربراہ جسٹس شیخ انوارالحق تھے۔ ضیاءالحق کو خدشہ تھا کہ بنچ میں شامل بعض جج بھٹو کے حق میں فیصلہ دیں گے جس پر ایک جج کو جعلی تعلیمی اسناد کے الزام میں فارغ کر دیا گیا اور ایک دوسرے جج کو بھی بنچ سے تبدیل کر دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ کے 4 ججوں نے بھٹو کے خلاف اور 3 ججوں نے بھٹو کے حق میں فیصلہ دیا۔ قانون کے مطابق جب 3 اور 4 کے تناسب سے فیصلہ آئے تو پھر سزائے موت نہیں بلکہ عمر قید ہوتی ہے مگر چونکہ بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ صہیونی طاقتوں کے ایما پر بنایا گیا تھا اور انہیں ایٹم بم بنانے اور اسلامی کانفرنس کرانے کی سزا دی جا رہی تھی اس لیے بھٹو کو سزائے موت دے دی گئی۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے بنچ میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں برملا اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کو پھانسی جنرل ضیاءالحق کے دباﺅ میں دی گئی تھی۔یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ جس طرح بھگت سنگھ کو پھانسی پر لٹکانے والے نواب محمد احمد خان عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے بالکل اسی طرح بھٹو کو پھانسی چڑھانے والے آمر ضیاءالحق اور جسٹس مولوی مشتاق بھی خوفناک انجام سے دوچار ہوئے۔ ضیاءالحق نے پھانسی کے بعد بھٹو کی میت اس کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کو نہ دی بلکہ رات کے اندھیرے میں چپ چاپ گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں دفن کر دیاتھا۔
پاک وہند کی تقسیم سے قبل انگریز نے برصغیر پرقابو رکھنے کیلئے بعض علاقوں میں وہاں کے ایسے بااثر مقامی لوگوں کو نوابوں‘ سرداروں اور امیروں کے خطابات سے نوازا‘جوان کے مفادات پر مامورتھے۔ ان عہدوں کے عوض انہیں بڑی جاگیریں اورمراعات دی گئیں۔ ان میں سے ”نواب کا رتبہ“ سب سے بڑا اورافضل تھا۔ نواب محمداحمد خاں انگریز سے نوابی پانے کے ساتھ ”اعزازی مجسٹریٹ“ کے عہدہ پر بھی تعینات تھے جس کا انگریز سرکار نے اپنے مقاصد پورا کرنے کیلئے خوب استعمال کیا۔ذوالفقار علی بھٹو بھی کوئی فرشتہ نہیں تھے۔ یقینا عام انسانوں کی طرح ان میں بہت سی بشری کمزوریاں بھی تھیں۔ انہوں نے اپنے بعض مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ کئی مخالف صحافیوں کو پابندِ سلاسل رکھا مگر میرے خیال میں ان کی خامیاں کم اور خوبیاں زیادہ تھیں۔ پاکستان کو متفقہ آئین دینا‘ ڈھاکہ فال کے بعد بھارت سے 90 ہزار قیدیوں کی رہائی‘ سٹیل ملز کا قیام‘ قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا‘ ایٹمی پروگرام کی بنیاد اور لاہور میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد ان کے تاریخ ساز کارنامے ہیں۔ صہیونی قوتوں نے اسلامی کانفرنس کے انعقاد…. جس کے پلیٹ فارم پر وہ عالم اسلام کو متحد کرنا چاہتے تھے اور پاکستان کے ایٹم بم سے خوف زدہ ہو کر ہی انہیں راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس میں مرکزی کردار میرے خیال میں ضیاءالحق کا تھا۔ اور اس وقت کی سیاسی جماعتیں جو 9 ستاروں پر مشتمل تھیں بھٹو دشمنی میں آمر کی آلہ کار بنی ہوئی تھیں۔ سعودی عرب کے شاہ فیصل سے لے کر لیبیا کے کرنل معمر قذافی تک، اردن کے شاہ حسین سے لے کر فلسطین کے یاسر عرفات تک…. سارا عالم اسلام بھٹو کی جان بخشی کی اپیلیں کر رہا تھا مگر آمر اور اس کے حواری ٹس سے مس نہ ہوئے۔میرے خیال میںقائداعظمؒ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے سب سے بڑے اور پاپولر لیڈر تھے۔ آج بھٹو جیسی جھلک تحریک انصاف کے قائد وزیراعظم عمران خان میں دکھائی دے رہی ہے اور ایک عالم کپتان پر فریفتہ ہے جس پر ساری اپوزیشن پر لرزہ طاری ہے۔ بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے‘ مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ ایٹم بم بنانے کی پاداش میں وہ مرد مجاہد سولی چڑھ گیا مگر آج ایٹم بم کا کریڈٹ وہ نااہل اور سزا یافتہ وزیراعظم لے رہا ہے جو بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کے ایٹم بم کا دھماکہ کرنے سے انکاری تھا ۔ ضیاءالحق نے بھٹو کی پھانسی کے بعد جن سیاستدانوں کی آبیاری کی آج بھٹو کا نواسہ بلاول بھٹو زرداری انہی قوتوں کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ اس کا بھٹو کے قاتلوں اور قاتلوں کے حواریوں سے گٹھ جوڑ پیپلز پارٹی کی سیاست کا دل خراش اور المیہ سین ہے۔ آج کے بھٹوز کی نظر کشی ہمارے شاعر دوست مسعود منور نے خوب کی ہے۔
سنا تم نے سیاست زار کے مظلوم کن ٹُٹُو
یہاں بھٹو‘ وہاں بھٹو‘ اِدھر بھٹو اُدھر بھٹو
ہمارا ایک بھٹو تھا قیادت جس کا منصب تھی
کہاں بھٹو سا مونہہ تیرا‘ چلو شاباش اب پھُٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!