Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bharati Elecktion Main Muzhaka Khezian

پہلے تو یہ مبارک باد کہ بھارتی میڈیا انتہائی ذمے داری کا ثبوت پیش کرر ہا ہے،یہ سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ مودی اور ان کی بی جے پی دوبارہ منتخب ہو جائے۔سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا کانگرس اور ا س کے اتحادیوں کا مکمل صفایا کرنے میں مصروف ہے ۔ دوسری بڑی مبارکباد یہ ہے کہ بھارت کے ریاستی ادارے بھی مکمل طور پرمودی کی حمائت کرتے نظر آتے ہیں۔بھارتی ا لیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کا ڈنکا بجتا تھا مگر اب یہ ادارہ مودی کی حکومت کے اشاروں پر ناچتا نظر آتا ہے۔تازہ ترین واردات یہ ہوئی کہ یکم مئی کو مودی کے ایک حریف تیج بہادر یادیو کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکائیت درج کرائی گئی کہ اس نے اپنے کاغذات میں فوج سے نکالے جانے کی وجہ ظاہر نہیں کی۔ تیج بہادر وہ شخص ہے جس نے دنیا کے سامنے بھارتی فوج کا بھرم کھول کر رکھ دیا تھا کہ اسکے جوانوں کو ناقص خوراک دی جاتی ہے۔ اس پر تیج بہادر کو فوج کی نوکری سے نکال دیا گیا۔ اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں پہنچا تو ان سے دس گھنٹے کے اندر جواب طلب کر لیا گیا۔ تیج بہادر سارا دن چیختے رہے کہ جب کاغذات داخل کرائے تو یہ اعتراض سامنے نہیں آیا۔ پھر کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی تو بھی الیکشن کمیشن نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور اب ان کو مختصر نوٹس دیا گیا ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق اگر کوئی فوج سے نکالا جانیو الا شخص الیکشن لڑنا چاہے تو اسے ثابت کرنا ہو گا کہ اس نے فوج میں رہتے ہوئے ملک یا فوج کے خلاف غداری کا ارتکاب نہ کیا ہو۔ اور ایسے جرم میں اسے فوج سے نہ نکالا گیا ہوا، اب تیج بہادر یہ کیسے ثابت کرتے کہ ناقص خوراک کا مسئلہ فوج کے خلاف الزام تراشی نہیں ۔اسلئے وہ الیکشن کمیشن کی دی گئی ڈیڈ لائن کے اندر پیش نہ ہوئے اور یوں ان کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے۔ ایسا ہی ایک ڈرامہ راہول گاندھی کے خلاف رچایا گیا ہے۔ ان پر بی جے پی کے سبر امینیم سوامی نے اعتراض داخل کیا ہے کہ راہول نے فلاں سن میں لندن میں ایک کمپنی بنائی جس میں اپنے آپ کو بھارتی شہری ظاہر کیا مگر اسی کمپنی کی تجدید کاوقت آیا تو راہول نے اپنے آپ کو برطانوی شہری ظاہر کیا۔ راہول کو دس روز کے اندرصفائی پیش کرنے کا نوٹس ملا ہے، راہول اور ان کی پارٹی چلا رہی ہے کہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ تک لے جایا گیا، پھر پارلیمنٹ میں یہی کیس ایک کمیٹی کے سامنے بھی آیا مگر اس پر کوئی فیصلہ راہول کے خلاف نہیں آیا مگر اب یکا یک الیکشن کمیشن کو تلوار چلانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ دیکھئے اس کیس کا فیصلہ کیا آتا ہے۔ ظاہر ہے وہی جو مودی سرکار کو پسند ہو گا۔ مودی اور ممتا بینر جی کے درمیان ایک نئی بحث چل نکلی ہے ۔دونوں ایک دوسرے کے کٹر سیاسی حریف ہیں اور مغربی بنگال میں ان کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے مگر مودی کے دماغ میں ممتا کو ذلیل و رسوا کرنے کی ایک ترکیب آئی اور الیکش مہم کے عین درمیان۔ مودی نے کہا ممتا بہن مجھے سال میں کڑھائی والے کرتے اور بنگالی مٹھائی کے ڈبے بھیجتی ہیں۔ یہ سن کر ممتا کا سر چکرا کررہ گیا۔ ابھی وہ اس حملے کا توڑ کرنے کا سوچ ہی رہی تھیں کہ مودی نے اگلا وار کر دیا کہ بی بی !تمہارے چالیس ارکان اس وقت میری جیب میں ہیں اور دو ہفتے بعد نتائج آئیں گے تو باقی کے تمہارے ارکان بھی میری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ اب ممتاا ور ان کے حامی چیخ چلا رہے ہیں کہ ایک وزیر اعظم کھلے عام ہارس ٹریڈنگ کااعتراف کررہا ہے۔مگر صاحبو! الیکشن کے ہنگامیں سب کچھ چلتا ہے۔ جب ریاستی ا دارے ہی مودی کے ساتھ ہیں تو مودی سے کون ہے جو باز پرس کرے۔ بھار ت میں ووٹنگ کے لئے ایک مشین استعمال کی جاتی ہے۔ مگر کانگرس کہتی ہے کہ پرانے طریقے استعمال کرو جس میں پرچیاں سامنے گنی جاتی ہیں تاکہ مشین گردی سے بچا جا سکے۔ لو جی ! کرا لو الیکٹرانک ووٹنگ۔ یہ الیکٹرانک ووٹنگ کا طریقہ امریکہ میں بھی بدنام ہو چکا۔ ایل گور نے نتیجہ ماننے سے انکار کر دیا تھا اور سپریم کورٹ سے رجوع کر کے مرضی کا نتیجہ حاصل کر لیا تھا۔ یہی الیکٹرانک ووٹنگ ٹرمپ کے لئے باعث آزار بن گئی کہ روس کے صدر پوٹن نے فیس بک کے ذریعے امریکی ووٹروں کو متاثر کر کے الیکشن ہیک کر لیا۔ امریکہ میں اس الزام پر ایک کمیشن بنا جس نے دو سال کے بعد اب پچھلے ہفتے یہ رپورٹ دی کہ روسی صدر پوٹن نے امریکی الیکشن ہیک نہیں کیا، یہی رپورٹ ہی آنی تھی نا۔مگر ہیلری کلنٹن کی چیخ و پکار آپ سب کو یاد ہو گی کہ کس طرح ان کی ای میل آئی ڈی چوری کی گئی اورا سے من مرضی طور پر استعمال کیا گیا۔ پاکستان میں تو پہلی مرتبہ گنتی اکٹھی کرنے کے لئے آر ٹی ایس سسٹم استعما ل کیا گیا۔ یہ بھی وجہ نزاع بن گیا۔ بھارت میں ایک نعرہ گونج رہا ہے کہ چوکیدار چور ہے۔ کسی وقت مودی نے کہا تھا کہ وہ اس ملک کے چوکیدار ہیں ۔ نہ خود کھائیں گے۔ نہ کسی کو کھانے دیں گے مگر فرانس سے رافیل طیاروں کی خرید کے سلسلے میں کانگرس نے الزام لگایاکہ چوکیدار خود ہی چور ہے اور کسی فرنٹ مین کے ذریعے سودے میں کمیشن کھانا چاہتا ہے۔ اب یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ تک بھی جا پہنچا جہاں سے کوئی و اضح فیصلہ تو نہ آیا لیکن راہول کے حمایتیوںنے کہہ دیا کہ اعلی عدالت نے ان کا الزام تسلیم کر لیا۔ یہ بیان بہت پرانا ہے مگر ادھر الیکشن مہم چلی اور بعض ریاستوں میں چنائو بھی شروع ہو گیا تو بی جے پی نے سپریم کورٹ کا دروازہ جاکھٹکھٹایا کہ جو فیصلہ دیا نہیں گیا، کانگرس اس کی تشہیر کر کے وزیر اعظم کو بدنام کرر ہی ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے بڑے غضب کا اظہار کیا اور راہول سے معافی کا مطالبہ کیا۔ راہول کے وکیل نے ایک وضاحتی خط سپریم کورٹ کو لکھ دیا مگر سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس میں کھلے الفاظ میںمعافی نہیںمانگی گئی ، سپریم کورٹ نے اس کی شنوائی کی نئی تاریخ مقرر کر دی ہے اور یوں مودی کے سب سے بڑے حریف کو عین انتخابی مہم میں قانونی جنگ میں الجھا دیا ہے۔ چونکہ میں بھارت کا شہری نہیں ۔ اس لئے میں بلا خو ف و خطر اس شبہہ کاا ظہار کر سکتا ہوں کہ بھارتی سپریم کورٹ حکمران ٹولے کے ہاتھ میں کھیل رہی ہے۔اسی نعرے چوکیدا ر چور ہے ، کی بنا پر راہول کی بہن پریانکا کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کردیا گیا۔ انہوںنے کسی جلسے میں بچوں سے نعرے لگوائے کہ چوکیدار چور ہے۔ اس پر سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی اٹھ کھڑا ہو اکہ جس خاتوں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو اخلاق کا درس دے۔ وہی انہیں بد تمیزی سکھا رہی ہے۔ پریا نکا کو مجبور ہو کر اپنی وڈیو سوشل میڈیا سے ہٹاناپڑی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بھارت میں الیکشن ہو رہا ہے اور پاکستان کا ذکر خیر نہ ہو۔ پلوامہ کے بعد مودی سرکار نے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی کیا تو کانگرس نے اس پر شکوک و شبھات کا اظہار کیاا ور ثبوت مانگے کہ پاکستان کی لاشیں کہاں ہیں۔اس پر بی جے پی نے تلملا کرکانگرس پر غداری کاا لزام عائد کر دیا کہ اسے اپنی فوج کے کارناموں اور قربانیوں کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔ کانگرس نے جواب میں سوال اٹھایا کہ پلوامہ سے قبل چار برسوں میںمودی سرکار نے پاکستان کے خلاف کوئی کاروائی کیوںنہ کی۔ گورداس پور ہوا۔ اوڑی ہوا اور بھی کئی آتنک وادھی حملے ہوئے مگر مودی جی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ اس کے جواب میں بی جے پی کے حمایتیوںنے کانگرس سے پوچھا کہ تم لوگوںنے پاکستان کا کیا کر لیا۔ یہ سننا تھا کہ کانگرس نے بڑی سخت بات کر دی کہ یہ کانگرس ہی ہے جس نے پاکستان کو دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر چیر کر رکھ دیاتھا۔ میرے قارئین ان الفاظ کو برداشت نہیں کر سکے ۔ ان سے میںمعذرت خواہ ہوں مگر میں انہیں بتانا چاہتاہوں کہ کانگرس ہو یابی جے پی۔ پاکستان کے لئے مودی بھی موذی ہے اور راہول اس سے بڑھ کر! نوٹ: اگر کسی کو اس کالم میں اپنا چہرہ نظر آ رہا ہے تو ان سے بھی معذرت۔ ویسے جوکرتوت ہوں گے، چہرہ توویسا ہی نظر آئے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!