Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Be Masal Alami Tadbur Ka Zahoor

تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ بحران کے وقت نااہل قیادت بڑی تباہی کاباعث بنتی ہے جیساکہ مشرقی پاکستان کی شورش کے دوران مارشل لاءکی حکومت پاکستان کو دولخت ہونے سے نہ بچاسکی۔ جبکہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ایک ہولناک واقعے کے بعد جس غیرمعمولی تدبر‘ جرا¿ت اورزبردست قوتِ فیصلہ کا ثبوت دیا‘ اس کی بدولت دنیا کاایک بے مثل عالمی تدبرمنظرعام پر آیا۔15 مارچ کو جمعتہ المبارک تھا۔ اس روز نیوزی لینڈ میں قیامت خیز سانحہ پیش آیا کہ اس کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ایک آسٹریلوی دہشت گرد نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے وقت پچاس مسلمان شہید اور20 سے زائد زخمی کردئیے۔ یہ سفاک درندہ اپنے ہیلمٹ میں نصب کیمرے کے ذریعے دہشت گردی کی اِس ہولناک واردات کو سوشل میڈیا پروائرل کرتا اورانسانی ضمیر پرپے درپے زخم لگاتا رہا۔ اس نازک موقع پر نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے جو عظیم الشان قائدانہ کردارادا کیا‘ اس نے چشم زدن میں پوری دنیا ہی بدل ڈالی ہے۔ انہوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسے نیوزی لینڈ کاسیاہ ترین دن اوراس واقعے کوبدترین دہشت گردی قرار دیا۔ تب سے ہم عالمی سطح پر مسلمانوں کے حق میں مغربی معاشرے کے اندرسے آوازیں اُٹھتی ہوئی سُن رہے ہیں اور میرا وجدان کہتاہے کہ جس طرح امریکہ میں نائن الیون نے پوری دنیا بدل ڈاتی تھی‘ اسی طرح نیوزی لینڈ میں15 مارچ کاواقعہ ایک نئے جہان کوجنم دے رہاہے اورعالمی برادری میں یہ احساس شدت سے پیدا ہونے لگا ہے کہ اسلام فوبیا نے عالمِ انسانیت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے۔اس شعوری تحریک میں جان ڈالنے کاسہرا نیوزی لینڈ کی اڑتیس سالہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کو جاتاہے جنہوں نے دورِ حاضر میں ایک بہادر‘ بالغ نظر اورمثالی قیادت کاکردارادا کیا۔
اِس عظیم خاتون کاناقابل فراموش کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے عوام اور پوری دنیا کے سامنے حقائق پیش کرنے اور دہشت گرد کو مجرم قرار دینے میںایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اورپریس کانفرنس میں اس عظیم فلسفے اورنظریے کااعلان کیا کہ جو مارے گئے ’وہ ہم تھے‘ کے الفاظ اِس کی شہادت دے رہے تھے کہ مسلمان ہمارے وجود کا حصہ ہیں اورنیوزی لینڈ کی ریاست ایک ماں کی طرح انہیں اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔اِس اعتراف حقیقت کے بعد خاتون وزیراعظم مسلمانوں کالباس زیب تن کرکے جائے وقوعہ پر پہنچیں‘ مسلم خواتین کو گلے لگایا اوراُنہیں دلاسہ دیا کہ پوری ریاست تمہاری پشت پرکھڑی ہے۔ان کا یہ تاریخی کارنامہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ جب امریکی صدر نے اُن سے پوچھا کہ اس مصیبت میں ہم آپ کی کیامدد کرسکتے ہیں‘تو انہوں نے برجستہ جواب دیاکہ مسلمان کمیونٹی کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آﺅ اورنسلی تعصبات سے کنارہ کش ہوجاﺅ۔دنیا کی سپرپاور کوایک چھوٹے ملک کی وزیراعظم نے جس بے باکی اورفکری اصابت سے جواب دیا‘ اس سے یہ اُمید بندھی ہے کہ اِس پیغام کویقینا فروغ ملے گا‘ نسلی منافرت کوہوادینے والے عناصر کے حوصلے پست ہوں گے اورمحبت کاچلن عام ہوگا۔
وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے شہید ہونے والے بہادر پاکستانی نعیم رشید کوزبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے اپنا ہیروقرار دیا جس نے دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لئے دہشت گرد سے بندوق چھین لینے کی سرتوڑ کوشش کی تھی اوریوں وہ براہ راست گولیوں کانشانہ بن گیاتھا۔وزیراعظم پاکستان نے اپنے اس عظیم فرزند کوقومی ایوارڈ سے نوازنے کااعلان کیا۔ نعیم رشید کی جرا¿ت وعزیمت نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے عوام دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کاحوصلہ رکھتے ہیں اور امن کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے پوری طرح آمادہ ہیں۔ نعیم رشید نیوزی لینڈ کیوی انسٹیٹیوٹ آف ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن میں لیکچرار کے طورپرخدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اس کے بڑے بیٹے طلحہ کوایک اعلیٰ ادارے میں اچھی ملازمت مل گئی تھی جس کی شادی کے سلسلے میں جلد پاکستان آنے کا پروگرام طے تھا۔یہ نوجوان بھی آسٹریلوی دہشت گر د کے ہاتھوں شہید ہوا۔ نعیم کی عظیم والدہ بدررشید جن کاتعلق ہزارہ سے ہے‘ اس دردناک حادثے کے بعد نیوزی لینڈ پہنچیں اور انہوں نے وہاں جوکچھ کہا‘ وہ انسانی تاریخ میں امر ہوگیا ہے۔ اُن کے الفاظ تھے کہ دہشت گرد کادل نفرتوں سے بھرا ہوا تھا جبکہ میرا دل ہرشخص کے لئے محبتوں سے معمور ہے۔ان کایہ بھی کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے میرے بیٹے اورپوتے کی قربانیاں مسلمانوں پر سے دہشت گردی کاالزام دھونے میں مدد گارثابت ہوں گی۔ خوش قسمتی سے مسلمانوں کی حمایت میں چاروں طرف بہت اونچی لہراُٹھی ہے۔ اب یہ مسلم قیادتوں پرمنحصر ہوگاکہ وہ ایک ایسا پروگرام وضع کریں جس سے بین المذاہب مکالمے کوتقویت پہنچے اورتہذیبوں کے مابین حقیقی مفاہمت فروغ پائے۔ اس مقصد کے لئے او آئی سی میں نئی روح پھونکنا ہوگی۔
اوآئی سی کااستنبول میں اس واقعے کے حوالے سے ہنگامی ا جلاس ہوا جس میں نیوز لینڈ کی وزیراعظم کے تاریخ ساز کردارکوسراہا گیا‘ مگر اس اجلاس سے جو توقعات وابستہ ہوگئی تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں۔ آئندہ کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی ہوئی نہ کوئی ایسا وفد ترتیب دیاگیا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے جاکرملتا اوراُن کی عظمت کوسلام پیش کرتا۔ پاکستان کے عوام نے یہ بھی محسوس کیا کہ جس خاتون وزیراعظم نے پاکستانی باشندے نعیم رشیدکواپنا ہیروقرار دیا اورپاکستان کانام عالمی سطح پربلند کیا‘ ان سے ہمارے وزیراعظم نے ایک ہفتے بعد ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے دہشت گردی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہیں پہلے روز یعنی15مارچ ہی کورابطہ قائم کرکے پاکستانی عوام کی طرف سے یکجہتی اورخیرسگالی کاپیغام دیناچاہیے تھا۔ اس کمی کاازالہ اب اس طرح کیاجاسکتاہے کہ پاکستان سے ایک وفد نیوزی لینڈ بھیجاجائے جس میں حکومت اوراپوزیشن کی معروف شخصیات‘دینی سکالرز‘ مایہ ناز صحافی شامل ہوں۔ یہ وفد بے مثال عالمی مدبر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی تحریک کے خدوخال طے کرنے کے لئے غوروفکر کرے جو اسلام فوبیا کے خاتمے اور بین المذاہب رابطوں کو مستحکم کرنے میں بہت مو¿ثر ثابت ہو۔دراصل وزیراعظم جیسنڈا نے بڑے فطری انداز میں اپنے جملہ انقلاب آفریں اقدامات سے مسلمانوں کاامیج اس قدر منور کردیاہے کہ اُن کی رہنمائی میں یہ سفر نسبتاً آسانی سے طے کیاجاسکے گا۔
وزیراعظم جیسنڈا نے چند ہی روز میں ایسے ایسے اعلانات کیے جن سے اسلام کی عظمت دنیا پر ایک نئے انداز میں اُجاگر ہوئی ہے۔اُنہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس کاآغاز تلاوت قرآن اوراپنی تقریر کاالسلام علیکم سے کیااورمسلمانوں کی امن دوستی کاذکر نہایت خوبصورت الفاظ میں کیا۔ یہ کہاکہ جب مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں‘ تو السلام علیکم کہتے ہیں اوراس کے جواب میں وعلیکم السلام وحمتہ اللہ وبرکاتہ کے امن دوستی اورخیرخواہی کے الفاظ ادا کیے جاتے ہیں۔ پھراس عظیم خاتون نے ایک حدیث کاحوالہ دیا جس میں رسولِ کریم حضرت محمد نے فرمایاتھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں کہ اس کے کسی عضو میں تکلیف ہوتو اسے پورا جسم محسوس کرتاہے۔ انہوں نے کہایہی لوگ امن اورسلامتی کے حقیقی پیامبر ہیں۔ اُن کے اس عمل سے پورے نیوزی لینڈ میں ایک انقلاب اُمڈآیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مرد اورعورتیں مسلمانوں کی حفاظت کے لئے نکل آئے اور ٹی وی اورریڈیو پراذان گونجنے لگی۔ عورتوں نے حجاب پہنا اورمسجدوں میں پہنچ گئیں۔ ان انسانی جذبوں سے مسحور کن مناظر کے اثرات پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں اوراسلام کی اصل حقیقت مشرق اور مغرب پرآشکار ہورہی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ وزیراعظم جیسنڈا کے مقابلے میں امریکی صدر اوربڑی طاقتوں کے لیڈربونے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ امن وسلامتی کویقینی بنانے کے لئے اس عظیم خاتون کے اس شاندار طرزِ عمل کو صحت مند اورمثبت سیاست کی عملی مثال کے طورپر پیش کرنا اور اسے فروغ دینا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!