Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bas Yadain Rah Jati Hain ?

اپنی ماں جی کی آٹھویں برسی پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا والدین کی دعائیں کبھی ردنہیں ہوتیں، اور کبھی اولاد کے لیے مانگی جانے والی کوئی دعا ردہوبھی جائے اس میں کوئی نہ کوئی ایسی مصلحت اللہ کی طرف سے ضرور ہوتی ہے جو اولاد کے حق میں ہوتی ہے مگر والدین اس سے لاعلم ہوتے ہیں ، میں والدین کی دعاﺅں کے نتیجے میں ہونے والے معجزوں کا ذکر کررہا تھا، میری زندگی ایسے معجزوں سے بھری پڑی ہے، میں کل اپنے ایک عزیز دوست سے کہہ رہا تھا ”میری زندگی میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں، میں اِس نعمت کو بھی والدین کی دعاﺅں کا معجزہ ہی سمجھتا ہوں۔ ورنہ ہرشخص آج کل یہ شکوہ کررہا ہوتا ہے لوگ بہت بُرے ہیں ، یہ الگ بات ہے یہ شکوہ کرتے ہوئے وہ اپنے بارے میں نہیں سوچتا وہ کیسا ہے ؟۔ والدین کے رشتے کی اس سے بڑی عظمت کیا ہوسکتی ہے آپ والدین کی خدمت کریں نہ کریں، اُن سے محبت کریں نہ کریں، اُن کی عزت کریں نہ کریں، اُن کی دعائیں اِس کے باوجود آپ کے ساتھ رہتی ہیں ۔ عموماً یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے اور یہ کسی حدتک درست بھی ہے محبت دوطرفہ عمل ہے، ایک فریق دوسرے سے محبت کرتا رہے، دوسرا اُس کی محبت کو مسلسل ٹھکراتا رہے، یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا۔ یک طرفہ محبت کا ظرف صِرف اللہ کا ہے، کوئی انسان اللہ کی عبادت کرے نہ کرے، اللہ کو تسلیم کرے نہ کرے، اللہ اِس کے باوجود اُس کے رزق سے لے کر اُس کے باقی معاملات میں اُسے نوازتا چلے جاتا ہے۔ یا پھر یک طرفہ محبت کا ظرف والدین کا ہے، کوئی بدبخت اور بدقسمت اپنے والدین کی عزت کرے نہ کرے، اُن سے محبت کرے نہ کرے، اُن کی خواہشات کو پیش نظر رکھے نہ رکھے۔ اُن کے احکامات مانے نہ مانے، والدین ہرصورت میں اُس سے محبت ہی کرتے ہیں ، ہرصورت میں اپنی دعاﺅں سے نوازتے ہی رہتے ہیں ، اِس حوالے سے ممتاز شاعر انور مسعود کی پنجابی نظم ” امبڑی“بڑی خوبصورت اور رُلا دینے والی ہے۔ میرے مرحوم والدین کی دعائیں اب بھی میرے ساتھ ہیں ۔ بلکہ میں یہ محسوس کرتا ہوں میری زندگی کے ہرشعبے میں الحمدللہ ترقی کا عمل مزید تیز ہوگیا ہے، البتہ میں ایک تڑپ میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں، وہ والدین سے محرومی کی تڑپ ہے، اللہ نے ماں کو دنیا میں اپنا دوسرا روپ قرار دیا ہے، اللہ ایک ہے۔ ماں بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑا رشتہ اِس رشتے کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ۔ 2011ءمیں میری امی جان کی وفات پر عمران خان میرے گھر آئے وہ بڑی دیر خاموش بیٹھے رہے۔ اُن کی آنکھیں نم تھیں۔ مجھے لگا اُنہیں اپنی ماں یاد آرہی ہے۔ میرا احساس بالکل درست تھا، ایک دومنٹ خاموش رہنے کے بعد فرمانے لگے ” کرکٹ میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے میں اپنی ماں کو اُس کے حق کے مطابق زیادہ وقت نہیں دے سکا۔ اُن کی خدمت نہیں کرسکا۔ اِس کمی یا اِس احساس محرومی کو کم کرنے کے لیے میں نے اُن کی یاد میں شوکت خانم ہسپتال تعمیر کروایا، اُن کی یاد ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے جس کے نتیجے میں مجھے یقین ہے میں چاروں صوبوں میں شوکت خانم ہسپتال بنانے میں کامیاب ہوجاﺅں گا“۔….میں نے اُنہیں ایک خط دکھایا، یہ خط میری ماں نے اپنے انتقال سے چند روز قبل میرے نام لکھ کر ایک لفافے میں بند کرکے میری بڑی بہن کو دے دیا تھا ، امی جان کی اچانک وفات کی خبر سُن کر جب بڑی بہن میرے گھر پہنچی تو امی جان کی میت کے قریب سے مجھے اُٹھا کر اندر کمرے میں لے گئیں۔پھر ایک لفافہ اپنے بیگ سے نکال کر مجھے دیا، اور بتایا ”چند روز پہلے یہ بند لفافہ امی نے مجھے دیا تھا۔ اُنہوں نے مجھ سے عہد لیا تھا یہ لفافہ کھولنا نہیں، جس روز تمہیں میرے انتقال کی خبر ملے یہ لفافہ بھائی کو (مجھے) دے دینا،….میں نے وہ لفافہ کھولا اُس میں دولاکھ روپے تھے۔ ساتھ میرے نام ایک خط بھی تھا، وہ پرانے زمانے کی آٹھ جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں۔ اُن کی لکھائی بڑی زبردست تھی۔ میرے نام اپنے خط میں اُنہوں نے لکھا تھا ”مجھے پتہ ہے تم نے ہمیشہ حلال کمایا، مجھے نہیں پتہ میری موت کِس روز ہوجائے، ہوسکتا ہے اُس روز بینک بند ہوں، یا ہوسکتا ہے تمہارے پاس اتنی رقم نہ ہو کہ میرے انتقال پر میرے جنازے یا میری تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کی اپنی روایتی مہمان نوازی کے مطابق تم خدمت نہ کرسکو، یہ دولاکھ روپے میں نے جوڑے ہوئے ہیں ، یہ رقم تم میرے جنازے میں آنے والے یا میری تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کی خدمت پر خرچ کردینا “۔ میں نے وہ رقم عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال کے لیے دے دی۔ ذرا اندازہ لگائیں ماں اپنی اولاد کے لیے کِس قدر فِکر مند ہوتی ہے۔ جی چاہتا ہے کالم روک دوں، لفظ اب میری آنکھوں سے بہنے لگے ہیں….میری ماں بڑی عظیم عورت تھی۔ وہ بزرگوں کی عزت کو ہمیشہ بہت اہمیت دیتی تھیں، میری دو بہنیں ہیں ، میری بہنوں (اپنی بیٹیوں) کے رشتے تلاش کرتے ہوئے اُن کی ایک بڑی ترجیح یہ بھی ہوتی تھی کہ لڑکے کے والدین حیات ہونے چاہئیں، میں اکثر اُن سے کہتا ”امی جان لوگ تو یہ چاہتے ہیں جہاں اُن کی بیٹی کا رشتہ ہورہا ہے وہاں ساس سسر نہ ہی ہوں تو بہتر ہے“۔ وہ فرماتیں ”نہیں بیٹا…. یہ جو بزرگ ہوتے ہیں یہ بگڑے ہوئے معاملات سلجھا دیتے ہیں “ ….اُن کی عظمت کا ایک اور واقعہ مجھے اِس وقت یاد آرہا ہے۔ ایک بار ہمارے محلے کی ایک بزرگ خاتون ہمارے گھر آئیں۔ میری والدہ سے پوچھنے لگیں ”آج آپ کے گھر گڑوالے چاول پکے ہیں ؟ ۔امی جان نے کہا ”نہیں، ہم نے تو آج گڑ والے چاول نہیں بنائے “ ….وہ کہنے لگیں ”اچھا، میں آپ کے گھر میں داخل ہوئی تو مجھے گڑ والے چاولوں کی خوشبو آئی“….وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر چلی گئیں۔ امی جان کو یوں محسوس ہوا جیسے اُن کا گڑ والے چاول کھانے کو جی چاہ رہا تھا۔ اُن کے جانے کے فوراً بعد امی نے الماری سے گڑ نکال کر بھگو دیا، ساتھ ہی چاول بھی بھگو دیئے۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد بڑی محنت اور محبت سے گڑوالے چاول تیار کرکے اُن کے گھر بھجوادیئے،…. زندگی میں ایک ہی خواہش باقی ہے اپنے فرشتہ سیرت والدین کی زندگی کے کچھ خوبصورت اور سبق آموز واقعات بیان کروں جنہوں نے قدم قدم پر ایک بُرا انسان بننے سے مجھے روکے رکھا۔ یا پھر یہ خواہش ہے جس طرح عمران خان کی والدہ کی کینسر سے وفات ہوئی اور اُن کی یاد میں اُنہوں نے کینسر ہسپتال تعمیر کروائے، اُسی طرح میری ماں جی کی وفات ہارٹ اٹیک سے ہوئی، میں بھی اُن کی یاد میں شوکت خانم جیسے دل کے بڑے بڑے ہسپتال تعمیر کرواﺅں۔ یہ شاید چھوٹا منہ بڑی بات ہے، پر اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔ میری زندگی میں میرے والدین کی دعاﺅں کے نتیجے میں بڑے بڑے معجزے ہوگئے ہیں ، یہ معجزہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ اپنی ماں کی آٹھویں برسی پر یہ میرا تیسرا کالم ہے میں اصل میں اُن کی محبتوں اور عظمتوں کا قرض چکانا چاہتا ہوں۔ مجھے پتہ ہے اِس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتا، کیونکہ والدین کے حق کے مطابق اُن کی محبتوں اور عظمتوں کا قرض کبھی نہیں چکایا جاسکتا۔ کسی صورت میں نہیں ….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!