Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bas Toda Saa Intezar !

پاکستان تحریک انصاف اپنے اقتدار کے پہلے 8ماہ کے دوران عوام کو نیا پاکستان دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔تبدیلی سرکار نے اپنے انتخابی جلسے جلوسوں میں عوام کو دلفریب نعروں، وعدوں اور دعوﺅں سے اپنا ہم خیال بنا لیا تھا ۔26 سالہ سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں عمران خان نے جب وزارت عظمی کا منصب سنبھالا تو عوام بالخصوص اس ملک کی نوجوان نسل نے ان سے بہت سی امیدیں اور توقعات وابستہ کر لیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تبدیلی سرکار کے یوٹرن سامنے آتے چلے گئے ۔ نیا پاکستان بنانے کا نعرہ جو انتخابی مہم کے دوران عوام کے لیے انتہائی دلفریب تھا‘ اب بے معنی ہو چکا ہے ۔ پاکستان کے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر عمران خان جیسا بے باک لیڈر بھی ان کی توقعات اور مسائل کو حل کرنے میں بے بس نظر آ رہا ہے تو پھر آخر وہ کون ہوگا جو حقیقی معنوں میں عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی لائے گا۔ عمران خان کی کابینہ میں شامل پالیسی سازوں کی نا اہلی اور نا تجربہ کاری عوام و خاص پر دن بدن عیاں ہوتی چلی جا رہی ہے اوریہی وجہ ہے کہ اقتدار کے مختصر ترین عرصہ 8 ماہ میں ہی تبدیلی سرکار اپنی مقبولیت ، ساکھ اور شناخت کھوچکی ہے بلکہ ہر نیا دن جہاں حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج لے کر طلوع ہو رہا ہے وہاں عوام کے مسائل میں بھی انتہائی برق رفتاری سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف غم و غصہ کا تاثر پیدا ہو چکا ہے اور میرے خیال میں آنے والے دنوں میں عوامی غیض و غضب میں شدت آتی چلی جائے گی۔ ہرباشعور پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ تبدیلی سرکار سے نجات حاصل کرنے کے لیے شاید ایک بار پھر تحریک نجات شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔
ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی اس حقیقت کا بخوبی احساس ہے کہ موجودہ حکومت اپنی ناکام داخلی و خارجی پالیسیوں کی وجہ سے اپنے ہی فیصلوں کے بوجھ تلے دبتی چلی جا رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت نے ملک میں تبدیلی لانے کے لیے غیر اعلانیہ طور پر سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ تبدیلی سرکار کا شکار کرنے کے لیے ایک بار پھر پنجاب ہی کا انتخاب کیا گیا ہے ، اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف اور لیگی رہنما اویس لغاری کو اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اویس لغاری کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ناراض ایم این اےز، ایم پی ایز اور سیاسی دھڑوں سے رابطوں کا آغاز کریں اور انہیں کسی بھی قیمت پر پارٹی میں شمولیت کے لیے قائل کریں۔ عین ممکن ہے کہ شریف فیملی کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے فیصلوں تک مسلم لیگ ن غیر اعلانیہ طور پر تبدیلی سرکار کے خلاف اپنی تیاریاں محدود رکھے لیکن زیر سماعت مقدمات کے فیصلے حق میں آنے کے بعد‘ جس کے امکانات کافی روشن ہیں مسلم لیگ ن تبدیلی سرکار کا شکار کرنے کے لیے اپنی جدوجہد اور تحریک کو تیز کر دے گی۔ کچھ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بعض اہم پارٹی رہنماﺅں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ چودھری برادران سے بھی رابطے کریں اور ان کی ناراضگی دور کرنے میں حائل رکاوٹوں سے آگاہ کریں۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی تبدیلی سرکار کا شکار کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ،انہوں نے حالیہ جلسے میں جیالوں کو تیاررہنے کی ہدایات دی ہیں ۔ بلاول بھٹو بھی سندھ کے مختلف اضلاع میں عوامی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں ان کا لہجہ دن بدن جارحانہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو ببانگ دہل عمران خان کو ایک کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت بظاہر مفاہمت پسندانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے مگر حقائق سیاسی میدان میں بالکل مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت کے بارے میں سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑتی چلی جا رہی ہے کہ بس اب بہت ہو چکا موجودہ حکومت ناصرف عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے بلکہ ملک کی معاشی صورتحال کو لگام ڈالنے میں بھی بے بس اور لاچار نظر آ رہی ہے۔ ایک عام خیال یہ بھی پایا جا رہا ہے کہ 2019 ءتبدیلی سرکار کے شکار کا سال ثابت ہوگا اور مجھے 2020ءمیں عمران خان وزیراعظم کی حیثیت سے مستقبل کے منظر عامہ پر کوئی بھی فعال کردار ادا کرتے نظر نہیں آ رہے۔ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ہی کے کسی دوسرے رہنما کو وزارت عظمی کے منصب پر فائز کرنے کے لیے حکمت عملی طے ہو چکی ہے صرف اس حکمت عملی پر عمل کرنا باقی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بہت سے رہنماﺅں میں اختلافات کی خبریں بھی موجودہ حکومت کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کی بے سرو سامانی اور بے چارگی کا عالم یہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر یہ اعتراف کرتے ہوئے تھوڑی سی بھی شرمندگی محسوس نہیں کر رہے ہیں کہ ادائیگیوں کے توازن کے لیے اب صرف 2 آپشن باقی ہیں ۔ پہلے آپشن کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ ملک کسی بھی وقت دیوالیہ ہو سکتا ہے دوسری آپشن کے طور پر وہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تبدیلی سرکار کی ناقص اور کمزور حکمت عملی آج بھی یوٹرن سے زیادہ کچھ نہیں۔
موجودہ حکومت پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہورہا ہے مگر حکومت اپنے اس موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ وہ دوست ممالک سے قرضے لے یا آئی ایم ایف سے رجوع کرے کسی بھی صورت میں عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بجلی ، گیس اور پانی کے بلوں میں اضافہ ، پٹرولیم مصنوعات اور اشیا خوردونوش کے نرخوں کی اونچی اڑان ہو گی جو موجودہ حکومت کی ناقص اور کمزور پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کے منفی اثرات تبدیلی سرکار پر ہی پڑیں گے۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ملک کی فیصلہ ساز قوتوں کو بھی غالباً اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ موجودہ حکومت ملکی امور چلانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں اور خاص طور پر مسلم لیگ ن کو ہوگا جنہوں نے اپنے دور حکومت میں ناصرف مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند رکھا بلکہ ملک کی اقتصادی اور معاشی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے سی پیک سمیت درجنوں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ۔ تبدیلی سرکار کی ناقص اور کمزور حکمت عملی اور پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسلم لیگ ن متحرک ہو چکی ہے اور اگلے چند ماہ ان کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں ۔ تبدیلی سرکار کا شکار آصف زرداری کریں گے یا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف یا ان کے ساتھ جمعیت علما اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان‘ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت اپنی اتحادی جماعتوں کی بلیک میلنگ کا پہلے ہی سے شکار ہو چکی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان سمیت بہت سے دوسرے زیرک سیاستدان اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ موجودہ حالات اپوزیشن جماعتوں کے لیے حکومت کے خلاف کوئی بھی تحریک شروع کرنے کے لیے انتہائی مناسب ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کا کون کرے گا شکار لیکن اس کے لیے ابھی کرنا ہوگا تھوڑا سا انتظار ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!