Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bari Ki Qattar Lambi Hai

گرمیوں میں چیزیں پھیلتی ہیں لیکن نیب کا موسم الگ ہے۔ یہاں گرمیوں میں بھی سکڑائو ہوتا ہے۔ چند روز پہلے کی بات ہے کہ شہباز شریف فیملی کے خلاف نیب نے 85ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس ٹھوس شواہد کے ساتھ پکڑا۔ خوب دھوم مچی کہ لو جی پنجاب میں بھی ڈاکٹر عاصم جیسا کیس نکل آیا۔ محب وطن اینکرز نے جوش و عقیدت کے ساتھ پروگرام کئے اور بتایا کہ نیب نے رعایت کی ہے‘ منی لانڈرنگ کی اصل مالیت سو ارب روپے ہے(مبلغ15ارب کی رعایت) ۔وزیر اطلاعات کے بیان نے بھی محب وطن اینکرز کی تائید کر دی۔ فرمایا منی لانڈرنگ 85اور سو ارب روپے کے درمیان ہوئی۔ صرف دو روز بعد پی ٹی آئی نے ایک دستاویز جاری کی جس میں بتایا گیا کہ شہباز شریف فیملی نے 3ارب 69کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ یعنی 48گھنٹوں میں ساڑھے 81ارب کی کمی واقع ہو گئی۔ حیرت انگیز سکڑائو کا عمل اس کے بعد بھی نہیں رکا۔ یہ دستاویز 11اپریل کو جاری ہوئی۔ اگلے روز نیب میں حمزہ کی پیشی ہوئی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اس میں جو سوال جواب ہوئے‘ وہ تین کروڑ 90لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے تھے۔ یعنی 85ارب سکڑ کر ساڑھے تین ارب رہ گئے اور پھر مزید سکڑے تو چار کروڑ سے بھی کم رہ گئے۔ نیب کا رعب ہی ایسا ہے‘ سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ٹھوس شواہد بھی سکڑ سمٹ گئے یا جوں کے توں رہے۔ ٭٭٭٭٭ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اگلے روز شہباز کی صاحبزادیوں کی طلبی کے نوٹس بھی آ گئے۔ نوٹس کی تعمیل گھر پرکرائی گئی۔ اس سے پہلے یہ تعمیل کورئیر کے ذریعے کرائی جاتی تھی لیکن لگتا ہے‘ تبدیلی کے عمل نے نوٹس کی تعمیل کو بھی اپنے دائرے میں لے لیا۔ بہرحال‘ اس کی اپوزیشن لیڈروں نے حسب عادت مذمت کی۔ آصف زرداری نے تو اسے نیب کا غیر مردانہ طرز عمل قرار دے دیا اور یہ تک کہہ دیا کہ یہ لوگ بزدل ہیں۔ افسوس کی بات ہے۔ نیب پر ایسا الزام، حالانکہ وہ تو اتنے بہادر ہیں کہ کبھی بزدل ہی نہیں سکتے۔ ٭٭٭٭٭ شہباز فیملی سے جو ہو رہا‘ وہ نواز فیملی سے مختلف ہے۔ شہباز کا موازنہ زرداری سے بنتا ہے۔ دونوں رہِ وفا کے مسافر ہیں اور اب حیران ہیں کہ ہمیں تو وادی طور کے جلوے دکھانے کا وعدہ کیا گیا تھا‘ یہ کہاں ہمیں اس وادی ہند کے ریگ زاروں میں لے آئے ہیں کہ پائوں رکھتے بنے نہ اٹھائے بنے۔ زرداری نے عہد و پیمان کئے‘ پھر کسی الوہی اعتماد سے اعلان کیا‘ میں تم سے سینٹ بھی چھین لوں گا اور پنجاب بھی۔ دونوں باتیں سچ نکلیں‘ لیکن پھر کیا ہوا؟ بات یہیں تک نہیں رکی۔ زرداری صاحب نے عہدو پیمان کا باب آگے بڑھایا اور صدارتی الیکشن میں مولانا فضل الرحمن کی یقینی جیت کو بھی ہار میں بدل دیا۔ پھر وہی ہوا جو مطلب نکالنے والے مطلب نکلنے کے بعد کیا کرتے ہیں بلکہ کہا کرتے ہیں کہ ارے میاں‘ تم کون ہو‘ ہم تو تمہیں جانتے بھی نہیں۔ زرداری اس گیت کی تصویر بن گئے ع مینوں کملا بنا کے پراں سٹیا‘دس میں کی پیار وچوں کھٹیا شہباز کا بھی معاملہ اسی طرح کا ہے‘ پنڈی میں نواز شریف کا جی ٹی روڈمارچ شروع ہوا تو ہدایات جاری کیں‘ کوئی لیگی اس میں نہ جائے۔ انہوں نے برادر بزرگ کا’’سوشل بائیکاٹ‘‘ کیا‘ ایک فورس پنجاب بھر میں نواز ‘ مریم کے پوسٹر‘ بیسنر پھاڑتی رہی۔ تصویریں مٹاتی رہی۔ سننے میں آیا کہ یہ حمزہ فورس تھی۔ نواز شریف کلثوم کو بستر مرگ پر چھوڑ کر گرفتاری دینے آئے تو لاہور کی سڑکوں پر لاکھوں کا جلوس تھا۔ یہ شہباز ہی کا تدبر تھا کہ اس جلوس کودھرم پورے سے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ شہباز اب زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ ع میں نے کب اپنی وفائوں کا صلہ مانگا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ جو مل رہا ہے‘ یہ تو نہیں مانگا تھا سنا تو یہ بھی ہے کہ زرداری اور شریف خاندانوں کے جملہ افراد کو چاہ یوسف میں ڈالا جائے گا‘ کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا کہ شہزادہ جان عالم کی شرط ہے کہ ایک بھی باہر رہا تو ’’ڈیلیور‘‘ نہیں کر سکوں گا۔ ٭٭٭٭٭ وزیر اعظم نے 72گھنٹے میں دوائوں کی بڑھی ہوئی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ سوگھنٹے گزر گئے اور اس خیال سے دکان پر جا کر ’’ڈایا بیٹون‘‘ مانگی کہ یہ پھر سے چھ سو روپے میں ملے گی جو قیمت بڑھنے سے آٹھ سو کی ہو گئی تھی۔ دکاندار نے کہا کہ 60روپے اور بڑھ گئے ہیں‘ آٹھ سو ساٹھ لگا لو۔ ہمارے محلے میں سب کے سب چور اور ڈاکو رہتے ہیں۔ صرف ایک صادق و امین ہے۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ کچھ ہفتوں سے مکھڑا چھپائے پھرتا ہے۔ بڑی مشکل سے تلاش کیا اور عرض گزاری کہ حضور صادق و امین صاحب‘ سوگھنٹے ہو گئے۔ دوائیں سستی نہیں ہوئیں۔ بولے‘ باری آنے پر سستی ہو جائیں گی‘ اس سے پہلے باری کی لائن میں گیس کی اووربلنگ واپس کرنے کا اعلان ہے۔ کہا‘ ہاں یاد آیا‘ اس وعدے کو تو اڑھائی مہینے ہو گئے۔ کب پورا ہو گا اور اووربلنگ تو اب بھی جاری ہے۔ فرمایا ‘ اس کی بھی باری ابھی نہیں آئی‘ لائن میں دوسرے اعلانات بھی ہیں۔ پوچھا‘ مثلاً کون سے کہا‘ پہلے ایک کروڑ نوکریاں دیں گے‘ پھر 50لاکھ مکانات بنائیں گے۔ پوچھا‘ کب بنیں گے۔ کہا‘ جب آٹھ ہزار ارب کے محصولات اکٹھے ہوں گے۔ پوچھا وہ کب اکٹھے ہوں گے۔ فرمایا‘ اس سے پہلے باہر سے 60ہزارارب کی لوٹی ہوئی رقم لانی ہے۔ پھر محصولات کی باری آئے گی۔ پوچھا‘60ہزار ارب کب واپس آئیں گے۔ فرمایا‘ جب اسلامی صدارتی نظام نافذ ہو گا۔ چنانچہ دوائی خریدنے کے ارادے پر فاتحہ پڑھ لی۔ ٭٭٭٭٭ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!