Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Balochistan Main Dahshat Ghardi

بلوچستان کے علاقہ بزی ٹاپ کے قریب نامعلوم افراد نے 14 افراد کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا۔ لیویز ذرائع کے مطابق گوادر کوسٹل ہائی پر بزی ٹاپ کے قریب نامعلوم افراد نے مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد چند افراد کو علیحدہ کیا اور فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔ واقعہ کے بعد مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر لیویز اہلکار اور سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئے۔ علاقے کا گھیرائو کر لیا گیا ہے جبکہ لاشوں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جاں بحق افراد میں سے 11 کی شناخت یوسف، وسیم، فرحان اللہ، علی رضا، ذوالفقار، ہارون، علی اصغر، حمزہ، رضوان، وسیم اور ذہین کے نام سے ہوئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کوسٹل ہائی وے فائرنگ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وحشیانہ حملے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ امن کے دشمن اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کوسٹل ہائی وے پر بس مسافروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بزدل دہشت گردوں نے بے گناہ اور نہتے مسافروں کو قتل کرکے بربریت کی انتہاء کی۔ دہشت گردی کا واقعہ ملک کو بدنام کرنے اور بلوچستان کی ترقی کو روکنے کی گھنائونی سازش ہے۔ امن کے دشمن بیرونی آقائوں کے اشارے پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام بیرونی عناصر کے ایجنڈا پرعمل پیرا دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل جاری رکھیں۔ ترقی اور امن کا سفر ہر صورت جاری رہے گا۔ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد دہشت گردی کا دوسرا بڑا واقعہ ہے، شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد لوگوں کو قتل کیا گیا۔ہمارا مذہب کہتا ہے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، دہشت گردی کا یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد ایک بار پھر بہت زیادہ متحرک ہو چکے ہیں۔ بلوچ رہنما رئوف ساسولی کہتے ہیں کہ بلوچستان میں عام آدمی غربت کا شکار ہے، ان کے پاس پہننے کو جوتا اور نئے کپڑے نہیں وہ سی پیک منصوبے سے خوش ہے کہ اس سے غربت کا خاتمہ ہو گا۔ بلوچ رہنما اور بلوچی جماعتوں کی اکثریت پارلیمان میں موجود ہے، دہشت گردی کے یہ واقعات پراکسی وار کا حصہ ہیں، بیرونی قوتیں نہیں چاہتیں کہ بلوچستان ترقی کرے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کوسٹل ہائی وے فائرنگ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کی ہزار گنجی سبزی منڈی میں خود کش حملہ، پشاور حیات آباد میں کالعدم ٹی ٹی پی کا واقعہ اور کوسٹل ہائی وے کے بہیمانہ واقعہ میں ایک ہی منظم انداز نظر آرہا ہے۔ ہم نے امن کے لئے بہت قربانی دی ہے۔ انشاء اللہ ہم ان واقعات کے ذمہ داروں کو مثال عبرت بنا دیں گے، ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعہ کی مذمت اور شہیدوں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کیا ہے، انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آج پھر بلوچستان میں معصوم انسانوں کا خون بہایا گیا، حکومت دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ حکومت دہشت گردی کی نرسریوں سے لا علم ہو، حکومت دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کو قانون کی گرفتار میں لائے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچستان سے سرائیکیوں کی مسلسل لاشیں آتی رہی ہیں میں نے اپنی کتابوں میں ان واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا تھا میری کتاب ’’سرائیکی صوبہ کیوں‘‘ میں نے بلوچستان میں مارے گئے مزدوروں کے قتل پر دو سال قبل لکھا تھا کہ یہ ستم بھی دیکھئے کہ وسیب کے لوگ عذابوں کا شکار ہیں۔ وسیب میں یہ تاثر عام ہے کہ اگر لاہور میں کوئی معمولی سا واقعہ بھی ہو جائے تو اسے اہم واقعہ سے تعبیر کر لیا جاتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ ، کابینہ اور اعلیٰ افسران اور پوری حکومتی مشینری متحرک ہو جاتی ہے اور اگر خدانخواستہ وسیب میں قیامت ہی کیوں نہ برپا ہو جائے لاہور کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوئے افسران، کابینہ یا وزیراعلیٰ کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ وسیب میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ۔ وسیب کے اناج اور گندم کی پیداوار پورے ملک کے علاوہ ہمسایہ ممالک کی غذائی ضروریات بھی پوری کرتی ہے ۔ پیدا وار کا یہ عالم ہے کہ حکومت پنجاب محض بار دانہ تک مہیا نہیں کر سکتی ۔ حکومت گندم سٹور کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے ۔ اس وقت بھی لاکھوں ٹن گندم وسیب کے کھلے گوداموں میں پڑی ہے لیکن کیا ستم ہے کہ گودام بھرے ہیں اور وسیب کے لوگوں کے پیٹ خالی ہیں ۔ وہ جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی کیلئے بلوچستان جاتے ہیں اور پھر لاشوں کی صورت میں واپس آتے ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ میڈیا پر چھوٹے چھوٹے واقعات پر کئی کئی دنوں تک بحثوں کے سلسلے جاری رہتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ٹی وی چینلز چھوٹے چھوٹے واقعات کی لائیو کوریج کر رہے ہوتے ہیں اور ٹی وی اینکر چھوٹے چھوٹے واقعات پر کئی کئی گھنٹوں تک بول رہے ہوتے ہیں ۔ مگر وسیب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے سب خاموش ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!