Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Bahri Muaqazoon Par Nai Tainatiah, Cricket Board Ko Masail Ka Samina

کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کوئٹہ میں منعقدہ گورننگ بورڈ کے اجلاس میں قرارداد پیش کرنے والے ریجنل صدور کے ساتھ کیا ہوگا، کون اپنے دستخط پر قائم رہے گا، کون بدل جائے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اجتماعی طور پر گورننگ بورڈ اراکین نے پی سی بی چیئرمین کے سامنے آواز بلند کی ہے۔ عبدالقادر اس حوالے سے کہتے ہیں کہ بورڈ ممبران نے پہلی مرتبہ جرات دکھاتے ہوئے حق اور قانون کی بات کی ہے۔ بورڈ کے چیئرمین کے کریڈٹ پر صرف ناکامیاں ہیں۔ ان میں قوت فیصلہ کی کمی ہے۔ سرفراز نواز نے لندن سے فون کیا کہنے لگے یہ صورت حال احسان مانی کی انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ انہیں کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ احسان مانی کے ہوتے ہوئے اچھے کام کی امید نہیں ہے۔ یہ مختلف معاملات میں متنازع ہیں۔ میں شروع سے ان کی تقرری کے خلاف ہوں۔ سیالکوٹ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدر ملک ذوالفقار نے کہا کہ اصولی طور پر نعمان بٹ کی بات ٹھیک ہے۔ محکموں کی کرکٹ بند نہیں ہونی چاہیے۔ ڈیپارٹمنٹس نے ملکی کرکٹ کی بہت خدمت کی ہے۔ ایسوسی ایشنز پلیئرز پیدا کرتی ہیں اور محکمے انہیں سنبھالتے ہیں۔ دونوں کا ملک میں کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔ سینئر سپورٹس اینکر مرزا اقبال بیگ کہتے ہیں کہ گورننگ بورڈ کو ہمیشہ ربڑ سٹیمپ کہا جاتا تھا۔ یہی سنا جاتا تھا کہ بورڈ ممبران کچھ نہیں بولتے یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بورڈ آف گورنرز کے اراکین پی سی بی چیئرمین کے سامنے ڈٹ گئے ہیں انکا یہ قدم کرکٹ بورڈ کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔مجھے پہلے دن سے یہ خدشہ ہے کہ ان پانچ افراد کا اتحاد قائم نہیں رہ سکے گا۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کرکٹ بورڈ میں جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ کوئٹہ میں گورننگ بورڈ کے اجلاس میں قرارداد پیش کرنے والے پانچ اراکین میں سے ایک رکن نے اپنی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے بورڈ سے رجوع کر لیا ہے۔ لاہور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شاریز خان روکھڑی گورننگ بورڈ کے ساتھیوں کو چھوڑ کر پاکستان کرکٹ بورڈ سے جا ملے ہیں۔ جمعہ کے روز انکی بورڈ آفیشلز سے ہونیوالی لمبی ملاقات کام نے دکھایا ہے۔ شاریز خان روکھڑی نے بورڈ حکام کے سامنے کوئٹہ میں ہونیوالے گورننگ بورڈ اجلاس میں پیش کردہ قرارداد کو غلطی قرار دیتے ہوئے دوبارہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ سیالکوٹ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر نعمان بٹ، فاٹا ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر کبیر خان اور کوئٹہ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شاہ دوست گورننگ بورڈ میں پیش کردہ قرارداد اور اپنے موقف قائم ہیں۔ کے آر ایل کے محمد ایاز کے بارے میں بھی موقف بدلنے کی اطلاعات ہیں۔ ممکن ہے دباؤ کی وجہ سے وہ بھی شاریز خان روکھڑی کی طرح بورڈ میٹنگ میں پیش ہونیوالی قرارداد سے پیچھے ہٹ جائیں۔ نعمان بٹ کی معطلی کے فیصلے کے بعد فریقین میں جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ مظاہرے بھی ہو رہے ہیں گوجرانوالہ میں ہونیوالے مظاہرے کے شرکاء نے محمکہ جاتی اور علاقائی کرکٹ کو بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے احسان مانی اور وسیم خان کو برطرفی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ کل لاہور میں منظور مانی احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھی ایک بیان میں احسان مانی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔گورننگ بورڈ کے رکن نعمان بٹ اور ان کے دو ساتھی اراکین ملک بھر کے منتخب نمائندوں سے رابطوں میں ہیں۔ وہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو ساتھ ملا کر کرکٹ بورڈ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کریں گے۔ دوسری طرف بورڈ حکام نعمان بٹ کے علاوہ دیگر اراکین کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بورڈ کے مختلف اہم عہدے دار بورڈ آف گورنرز کے اتحاد کو ختم کرنے اور نعمان بٹ کو تنہا کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ کا لیگل ڈیپارٹمنٹ دیگر اراکین کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔بورڈ عہدے داران آئین کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے مختلف اہم حکومتی شخصیات کو غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل ذاکر خان بھی اس سلسلہ میں خاصے متحرک ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال اور احسان مانی کی کمزور انتظامی صلاحیتوں کے پیش نظر ذاکر خان کردار مستقبل میں مزید اہم ہونے کا امکان ہے۔ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان گورننگ بورڈ اراکین سے رابطہ کر کے انہیں موقف سے ہٹنے اور پی سی بی کے ساتھ تعاون کرنے پر مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کرکٹ بورڈ حکام کی طرف سے بورڈ اراکین کو تعاون نہ کرنے پر مشکل مستقبل کا خاکہ بھی دکھایا جا رہا ہے۔واقفان حال کہتے ہیں کہ موجودہ ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون رشید نے چند روز قبل ریجنل صدور سے کہا تھا کہ کرکٹ بورڈ محکموں کی کرکٹ کے ساتھ ساتھ ریجنز کو بھی ختم کر رہا ہے۔ موجودہ ڈائریکٹر ڈومیسٹک کو دو ہزار سولہ ورلڈ ٹی ٹونٹی چیمپئن شپ میں قومی ٹیم کی ناکامی کے بعد سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا وہ کافی جدوجہد کے بعد دوبارہ بورڈ میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ موجودہ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ کو بھی سابق انتظامیہ نے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد انہیں دوبارہ اس عہدے پر بحال کر دیا گیا تھا۔ اہم عہدوں پر بھاری معاوضوں پر نئی تعیناتیوں کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کو اندرونی سطح پر بھی مسائل کا سامنا ہے۔بورڈ اراکین نے محکمہ جاتی اور علاقائی کرکٹ کو بچانے کے لیے آواز بلند کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہوتا ہے۔ کیا انہوں نے محکموں اور علاقائی کرکٹ کو۔بچانے کے لیے آواز بلند کر کے غلط کام کیا ہے، کیا محکموں کی کرکٹ کو۔بچانے کے لیے سارے پاکستان کے کرکٹرز بیانات نہیں دے رہے تھے، کیا ڈیپارٹمنٹ ختم کرنے سے بیروزگاری نہیں بڑھے گی، کیا بورڈ خاموشی سے چائے پیتے اور دستخط کرتے رہیں تو وہ قابل قبول ہیں، کیا کرکٹرز کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنانے والوں پر پابندیاں درست اقدام ہے اسکا فیصلہ ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!