Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Baeroni Krazy Aur Sarmaya Kari

موجودہ حکومت کی کمزور اقتصادی پالیسیوں اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اس وقت عوام کو بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے خاص طور پر مہنگائی اور بے روزگاری نے ان کا جینا دو بھر کردیا ہے روزمرہ ضرورت کی اشیاءکی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے اور اصلاح احوال کی کوئی صورت سامنے نظر نہیں آرہی حکومت کی طرف سے ابھی بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کی نوید سنائی جارہی ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کی بجائے مہنگائی کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو قرار دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے عوام کو دکھائے جانے والے تمام ”سنہرے خواب“ اب ”سبز خواب“ بن چکے ہیں۔ ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کے دعوے کرنے والے اب ملکی اور غیرملکی قرضوں کے سہارے ملک کی کشتی چلارہے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بنک، عالمی بنک اور آئی ایم ایف سے ”اپنی شرائط“ پر قرضے لینے کے بلند بانگ دعوے بھی کئے جارہے ہیں اور حکومتی وزراء یہ راگ بھی الاپ رہے ہیں کہ حکومتی اقدامات سے ”عام آدمی“ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے سیلاب میں ڈوبی ہوئی قوم اس ”عام آدمی“ کو تلاش کررہی ہے جس پر بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتیں اثر انداز نہیں ہوتیں؟ عوام کو ابھی یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ آئندہ بجٹ سخت ہوگا، معاشی مشکلات ہونگی لیکن چند سالوں میں حکومتی اقدامات کی وجہ سے صورتحال میں بہتری آجائے گی کیونکہ سابقہ حکومتوں نے معیشت کو جس طرح تباہ کیا تھا اس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ سب یہ جانتے ہیں کہ حکومت اپنی پالیسیوں کو ٹھیک کرنے کی بجائے سارے الزامات سابقہ حکومتوں پر ڈال کر بری الزمہ ہونے کی ناکام کوششیں کررہی ہے عوام کو عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے پھیلایا جانے والا موجودہ حکومت کا ”کشکول گدائی“ صاف نظر آرہا ہے۔ حکومت نے غیرملکی قرضوں کے بارے میں ابھی تک پارلیمنٹ میں کسی قسم کی تفصیلات نہیں بتائےں لیکن عوام کوپرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا کے ذریعے ان قرضوں کے بارے میں سب علم ہوچکا ہے کہ بھاری قرضوں سے ہماری معیشت مزید دباﺅ میں آئے گی اور مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں اضافے کی سونامی ضرور آئے گی بلکہ آچکی ہے یہ بات سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ موجودہ حکومت کی کوئی بھی حکمت عملی اور منصوبہ بندی معیشت کو سنبھالا نہیں دے سکی۔ نئے مالی سال کے بجٹ سے صرف چند ہفتے پہلے حکومت کے اوپننگ بیٹسمین اسد عمر کا استعفیٰ اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ موصوف جب عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقاتیں کررہے تھے۔ تو ان سے ایک صحافی نے یہ سوال کیا کہ افواہیں گرم ہیں کہ آپ کی چھٹی ہورہی ہے اس پر مسکراتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“۔ پھر سب نے دیکھا کہ وزیراعظم نے 244دن بعد اسد عمر سمیت اپنی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کے برج الٹ دیئے۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی اس فضا میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کون کرے گا؟ اسد عمر نے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کیلئے گزشتہ چند ماہ کے دوران جو مسلسل ریاضت کی تھی اس کا اب کیا بنے گا؟ آئی ایم ایف کی جو ٹیم اپنے پروگرام کے مطابق اگلے دس دنوں میں قرضے کی حتمی منظوری کیلئے پاکستان آرہی ہے اس سے موجودہ حکومت کی نئی ٹیم کیسے ڈیل کرے گی؟ ایسے لگ رہا ہے جیسے اسد عمر کو اس اہم پوزیشن سے ہٹانے کیلئے عرصہ دراز سے کھچڑی پک رہی تھی۔ قارئین کی معلومات اور دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسد عمر کے بارے میں کھل کر کہا تھا کہ اگر ہماری حکومت بنی تو اس میں وزیر خزانہ اسد عمر ہی ہونگے۔ اس کے باوجود دن رات محنت کرنے والے اس اوپننگ بیٹسمین کی چُھٹی اس بات کا ثبوت ہے کہ کھچڑی پک چکی تھی۔ اس وقت ہمارے سب سے بڑے مسائل میں معیشت کو بحران سے نکالنا سرفہرست ہے اس کیلئے جہاں بہترین انتظامی مالیاتی اور معاشی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے وہاں ملک میں ہر سطح پر بچت کو فروغ دینا بھی بے حد ضروری ہے۔ ہمیں ملک کو قرضوں سے نجات دلانے، صنعتی و تجارتی ترقی، برآمدات کو بڑھانے سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ملکی اور بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھانے کیلئے عملی اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہونگے۔ حکومت کی مالیاتی اور معاشی پالیسیوں میں غیریقینی صورتحال کے پیدا ہونے اور ان میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ سی پیک میں چین کی بھاری سرمایہ کاری اور سعودی عرب سمیت کئی دوست ممالک کی سرمایہ کاری کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ہمیں اپنے معاملات کو درست کرنا ہوگا۔یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ دوست ملک چین کی 15کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اسی طرح جنوبی، وسطی ایشیائی ممالک، بعض یورپی اور افریقی ممالک نے بھی ہمارے ہاں سرمایہ کاری کرنے کا ”خوشگوار عندیہ“ دیا ہے۔ پاکستان برطانیہ چیمبر کے صدر امجد خان نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی اپنے وطن میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی بدلتی ہوئی مالی اور معاشی پالیسیوں بجلی گیس اور پٹرول کی آئے دن بڑھتی ہوئی قیمتوں، موجودہ ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام اور سرخ فیتے کی وجہ سے یہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟۔
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے جس 90روزہ انقلابی پروگرام کا اعلان کیا تھا اس پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے صنعتکار اور سرمایہ کار حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہیں ملک میں نہ ہی کرپشن کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی قوم کا 300 ارب روپے کا لوٹا ہوا قیمتی سرمایہ واپس لایا گیا زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، افراط زر میں اضافہ، تجارتی خسارے میں بڑھتا ہوا رجحان برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی اونچی اڑان، سٹاک ایکسچینج گراف کا گرنا، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ مہنگائی کا ریکارڈ حد سے بھی بڑھ جانا حکومت کی شاندار کارکردگی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔
پاکستان سے آئی ایم ایف سے معاہدہ اسی ماہ کے آخر میں ہونے کا امکان ہے جس یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اشیائے ضرورت مہنگی ہونگی، ٹیکسوں کے حجم اور یوٹیلٹی بلوں میں بھی اضافہ ہوگا اور سب سڈی کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ان حالات میں نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی؟ صنعتی و تجارتی سرگرمیاں کیسے فروغ پائیں گی؟ ایوان صنعت و تجارت لاہور کے سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل سے گذشتہ دنوں ویت نام کے سفیر ہونگ کم نے جو ملاقات کی تھی اس میں اس بات پر اتقاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دیا جائے گا اور موجودہ باہمی تجارت کو ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ کیا جائے گا اس سلسلے میں ویت نام کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ پاکستانی تاجروں کے ساتھ مل کر تجارتی تعلقات کو مستحکم کیا جاسکے اور سرمایہ کاری کو بڑھایا جاسکے ایوان صنعت و تجارت لاہور کے رہنماﺅں نے درست کہا ہے کہ اگر حکومت سرمایہ کاروں کو ٹیکسوں میں رعایت اور مراعات، بجلی گیس اور پٹرول کی رعایتی نرخوں پر فراہمی اور دیگر تمام ضروری سہولتیں فراہم کرے تو ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے جس میں محنتی اور سستی لیبر بھی موجود ہے جس کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری کرنا خاص منافع بخش ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی پالیسیوں میں آئے دن کی تبدیلیوں اور ٹیکس در ٹیکس کے پیچیدہ نظام کے باعث سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ اور منافع بخش نہیں سمجھتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرمایہ کاروں کے ان خدشات کو دور کرنے کیلئے جامع اور عملی اقدامات اٹھائے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے 1992کا اقتصادی اصلاحات ایکٹ فوری طور پر منسوخ کرے، ایمنسٹی سکیم پر سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھائے لیکن اس سے پہلے اقتصادی ماہرین، جید علمائے اکرام، صنعتی و تجارتی تنظیموں، ایکسپورٹروں اور اپوزیشن کے ساتھ بھرپور مشاورت کرے۔ معاشی اور مالیاتی انصاف، سرمایہ کاری کیلئے یکساں مراعات اور مواقع کی فراہمی، ٹیکسوں کے موجودہ نظام میں اصلاحات اور مراعات کے ساتھ ساتھ افسر شاہی کا قبلہ درست کرنے سے ملک کو مجموعی طورپر فائدہ مل سکتا۔ وزیراعظم کے مشیر تجارت، پیداوار اور سرمایہ کاری نے برآمدات کے ہدف سے 3ارب ڈالر کم ہونے کی جو بات کی ہے اور اس کے ساتھ ہی 5سالوں میں سرمایہ کاری کیلئے 7ارب ڈالر کا جو تخمینہ دیا ہے اس سے معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوئی صورت واضح طور پر سامنے نہیں آتی کیونکہ اس وقت پاکستان کا تجارتی خسارہ 37ارب ڈالر کی خطرناک ترین سطح کو چھورہا ہے۔ حکومت مسلسل یہ دعویٰ کررہی ہے کہ ہماری درآمدات کم ہورہی ہیں حالانکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی ہونے کی وجہ سے درآمدی اشیاءتقریباً 10سے 15فیصد مہنگی ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے درآمد کنندگان کو مالی نقصان ہورہا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم سخت شرائط پربھاری قرضے لیکر اپنی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دیتے رہے ہم نے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کیلئے شعوری اور عملی طورپر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ہم تو اپنی وزارتوں پر وزیر، مشیر، معاون خصوصی اور ماہرین بٹھانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، ہماری انہی نوازنے کی پالیسیوں نے ہمیں عملی طورپر کچھ بھی نہیں کرنے دیا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری سے ملک کی معیشت ترقی بھی کرے گی اور مضبوط بھی ہوگی سرمایہ کاری سے ہی بیرونی قرضوں سے نجات مل سکتی ہے اور توازن تجارت درست کیا جاسکتا ہے۔ سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہی ہم مہنگائی بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کرکے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!