Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Aye Sahiban e Misnad!

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تم ہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

بات صاحب اور صاحبہ، ڈیفیکٹیڈ اور سیلیکٹڈ سے بہت آگے جاچکی ہے۔ لیکن صاحب قیادت اور اپوزیشن کا یہ عالم ہے کہ سنجیدگی کا عنصر کہیں نظر نہیںآرہا۔ کیا صاحب یا صاحبہ کہنے سے بات بن جائے گی؟

بغیر ثبوت کے کس نے روکا ہے احتساب سے۔ کس نے کہا ہے این آر دو۔ بھائی قصہ تمام کریں ایک بار بتا کیوں نہیں دیتے۔ عوام کو مہنگائی نے رلا کررکھا ہوا ہے اور ہم این آر او سے باہر ہی نہیں آرہے۔

کون مذکر ہے کون مونث اس کی بحث میں عوام کے مصائب پھر چھپ گئے ہیں۔ اورجو اراکین اسمبلیوں میں آرہے ہیں چاہے قومی ہوں یا صوبائی ان کی دیہاڑیاںدھڑا دھڑ لگ رہی ہیں۔ان کا ٹی اے ڈی اے مسلسل چھپ رہا ہے۔ میرے ٹیکس کے پیسے سے خانسامے بھاپ اڑاتے ہوئے ان کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے پیش کرتے ہیں۔

یوں کہیے کہ عوامی نمائندے عوام کا ہی نام لے کر ایک دوسرے کو کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں۔اور تو اور پیپلز پارٹی جس کی کم از کم سندھ میں حکومت ہے لیکن اس نظام کے حوالے سے سب سے زیادہ خدشات کا اظہار بھی بلاول بھٹوزرداری ہی کررہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں صدارتی نظام لانے کی کوشش کی جارہی ہے ، کبھی اشارہ وَن یونٹ کی طرف کردیتے ہیں۔ انہوں نے تو لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر یہ تک کہہ دیا کہ خدانخوانستہ ملک ٹوٹ سکتا ہے اگرموجودہ نظام کو لپیٹا گیا۔کوئی ان سے یہ تو پوچھے کہ صدارتی نظام لانے یا وَن یونٹ بنانے کی کوشش آخر کر کون رہا ہے۔کم ازکم ان خدشات کے ذرائع سے ہی آگاہ کردیں۔ نہیں وہ کبھی نہیں بتائیں گے۔کیونکہ ایسا کوئی ایشوسردست ہے ہی نہیں۔کیونکہ میرے ‘عزیز ہم وطنوں ‘کہنے کا دور اب وفات پاچکا۔ اور پاکستان کی کسی سیاسی جماعت میں اتنی طاقت بچی ہی نہیں کہ 73کے آئین کو لپیٹ سکے۔ شاید جیسے حکومت روز شور مچاتی ہے کہ این آر و نہیں دیں گے ، نہیں دیں گے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ مانگ کون رہا ہے۔ اسی طرح بلاول روز 18ویں ترمیم ،صدارتی نظام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بندش اور اب وَن یونٹ کاڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔لیکن وہ بھی نہیں بتارہے کہ کون اور کہاں اس حوالے سے منصوبہ بنا رہا ہے۔ ایوانوں میں ہوتی ان نورا کشتیوں سے کچھ سیر حاصل نتیجہ نکلے یا نہ نکلے لیکن یہ معلوم پڑ گیا ہے کہ پیسہ ہمارا اور ایجنڈا ذاتی چل رہا ہے۔تبھی تو وزیراعظم کے ایران میں دیے گئے بیان ،جس میں دونوں ممالک کی سرزمین شرپسندوں کی جانب سے استعمال کیے جانے کے اعتراف کے چند گھنٹوں بعد ہی پورے ملک کی سیاست کا رخ صاحب اور صاحبہ یا سیلیکٹیڈ وزیراعظم یا ڈیفیکٹیڈپارٹی سربراہ کی بحث کی طرف ہوگیا۔24 گھنٹے پہلے جس وزیراعظم پر آرٹیکل 6لگانے پر زور دیا جارہا تھا اور بحث سمٹ کر بڑے گھر میں چھوٹے مقیم پرآکر ختم ہوگئی۔ عوام کو سب سمجھ آرہا ہے۔ لیکن مجبور ہیں اپنے ہاتھ کاٹ کر انہیں ووٹ جو دے دیے ہیں۔ عوامی ایشوز پر بات کون کرے گا، نہ حکومت سمجھ پارہی ہے نہ اپوزیشن۔ اورتو اور میڈیا کو بھی سیاستدانوں نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ ہم ملکی اور بیرونی چیلنجز کی بات کرنا چاہ رہے ہیں اور یہ ہیں کہ سیلیکٹڈ،ڈیفیکٹیڈ، اردو کی تقریر، انگلش کا لہجہ، سے باہر ہی نہیں آرہے۔ سچ بولوںتو وزیراعظم حقیقت میں وزیراعظم ہاو¿س میں نہیں کنٹینر پر ہی ہیں۔ جرمنی اور جاپان کی سرحدیں جہاں بھی ہیں ہمیں اپنی سرحد کے اندر رہنے والوں کا سوچنا ہوگا۔ طنز ذاتیات، چورچور، نالائق، سیلیکٹڈ وزیراعظم، لوٹ لیا، آرٹیکل 6 لگادو،،،یہ سب کچھ تو چل رہا ہے۔ ہمارے معزز ایوانوں میںاپوزیشن دعویٰ کرتی ہے ان کا کام صرف تنقید کرنا ہے، لیکن یہاں تو حکومت کا کام بھی صرف تنقید کرنا ہی لگ رہا ہے۔ فواد چوہدھری اور فیاض چوہان کو تو بدل دیا گیا مگر قومی و صوبائی اسمبلیوں کا ماحول نہیں بدل رہا۔ قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی، پنجاب اسمبلی،،عوام کا پیسہ خرچ ہورہا ہے مگر عوام کے لیے کچھ نہیں ہورہا۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جو برپا ہوا ہے۔ 23 ویں یوم تاسیس پر بھی الفاظوںکے چناو¿ پر پی ٹی آئی کو عبور حاصل نہیں ہوا ۔ حکومت میں آکر ہر الزام کاجواب دینا لازم نہیں ہوتا۔ لیکن نہیں ، بلاول بھٹو زرداری کی پیر کے روزقومی اسمبلی میں کی جانے والی دھواں دھار تقریر کی باز گشت آج بھی سنائی دے رہی ہے۔ مستعفی ہونے والے وزیر خزانہ اسد عمر، بلاول بھٹو کا جواب دینے اسمبلی میں آئے۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان کو وانا میں جواب دینا پڑا۔ اور پھر یہ سلسلہ ہے کہ رکنا کا نام نہیں لے رہا۔ اسد عمر نے اپنی وزارت خزانہ کے جانے پر بلاول کی دل گرفتگی کا جواب پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں چار وزرائے خزانہ جن کے نام شوکت ترین،حفیظ شیخ ، سلیم مانڈوی والا اور نوید قمرلے کر دیا۔ان کا شکوہ حق بجانب تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے ایک وزیرخزانہ کی تبدیلی کو حکومت کی ناکامی سمجھا جاتا ہے تو چار وزرائے خزانہ کی تبدیلی کو پیپلز پارٹی کی حکومت میں کامیابی کیسے تصور کیا جائے؟ پھر کیا تھا خورشید شاہ صاحب نے راجہ بھوج اور گنگو تیلی کو یاد کیا۔بات لفظوں کے چناو¿ پر ہورہی ہے توشیخ صاحب سے زیادہ تیکھے جملے کون بولے گا۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے شہباز شریف اور نواز شریف کے بیانیے میں تفریق بتائی وہیںبلاول بھٹو صاحب کے حوالے سے بھی جو کہا کم از کم میں اسے اس کالم میںرقم نہیں کرسکتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے 23 ویں یوم تاسیس پر میں عمران خان صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد کے ساتھ ساتھ صرف اتنی درخواست کروں گا کہ آپ کے بیانیے کو سچ مانتے ہوئے عوام نے آپ کو وزارت عظمیٰ تک پہنچادیا کہیں ان کی امیدیں وعدوں کے سونامی میں غرق نہ ہوجائیں۔ اس جمہوری نظام میں ہمیں ماضی کے حکمران یاد نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!